ایرک فرام، صحت مند معاشرے اور محبت کے بارے میں۔۔۔
ایرک کے نزدیک سرمایہ داری کی ابتدائی لوٹ کار اور استحصال اور اشتراکیت کے استحصال میں رتی برابر فرق نہیں، سرمایہ داری نظام میں ریاستی اداروں نے استحصال کا ساتھ دیا لیکن وہ ترقی پسند خیالات سامنے آنے سے نہ روک سکے اور سب عظیم اشتراکی خیالات اس دور میں سامنے آئے۔ اس کا نقطۂ نظر ہے کہ یورپ بھر میں زار کی حکومت سب سے زیادہ رجعت پسند تھی لیکن ظلم کے جو ضابطے سٹالن نے متعارف کرائے وہ زار کے زمانے میں بھی نہ تھے۔ اس کے بقول سٹالن نے ترقی پسند پیش رفت کے سارے دروازے بند کردیے۔ ایرک فرام کی دانست میں حکمران طبقہ رعایا پر غلبہ پا کر اس کا استحصال کرسکتا ہے لیکن وہ غیر انسانی برتاؤ پر رد عمل کنٹرول نہیں کر سکتا جس کا ایک نتیجہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ مظلوم، ظالم اور نظام سب برباد ہوجائے، دوسری طرف احتجاج، تخریبی کے بجائے تعمیری بھی ہوسکتا ہے اور وہ لوگوں میں ایسی جوت جگا دے جس سے بہتر معاشرہ کی طرف پیش قدمی ہوسکے۔ اس کے خیال میں مہذب معاشرہ وہی ہے جس میں انسان کی ضرورتوں سے ہم آہنگی ہو۔
فرد کی معاشرے سے ہم آہنگی پر زور دینے کا وہ ناقد ہے، اس کا خیال ہے کہ اس ہم آہنگی کے ہوتے ہوئے ضمیرنام کی چیز باقی نہیں رہ سکتی کیونکہ ضمیر اپنی اصل میں ہم آہنگی کی ضد ہوتا ہے۔ اس کے بقول: جب ہر کوئی ’’ہاں‘‘ کہہ رہا ہو تو اسے ’’نہ‘‘ کہنے کے قابل ہونا چاہیے۔ یہ ’’نہ‘‘ کہنے کی خاطر اسے اس فیصلے کی سچائی پر ایمان ہونا چاہیے جس پر یہ ’’نہ‘‘ مبنی ہے۔ ‘‘ اعتماد کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس حد تک کوئی فرد ہم آہنگی اختیار کرتا ہے اس حد تک وہ ضمیر کی آواز سننے کے نااہل ہو جاتا ہے۔ اس پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے۔ ضمیر اس وقت زندہ رہتا ہے جب انسان اپنے آپ کو انسان سمجھتا ہے اور کوئی بکاؤ مال خیال نہیں کرتا۔‘‘
ایرک فرام بتاتا ہے کہ قوت اور شہرت کو مقصد بنا لینا مریضانہ عمل ہے، لیکن اس میں افراد کے رویوں میں فرق ہو سکتا ہے ایک وہ جو قوت اور شہرت حاصل کرنے کے لیے جی جان سے محنت کرتا ہے اور جوئندہ یا بندہ کے فرمودے پر ان کا یقین ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ حضرات جو حصول مقصد کی خاطر معجزوں کا انتظار کرتے ہیں اور ناکامی کی صورت میں ان کی بے بسی، تلخی میں ڈھل جاتی ہے۔ تیسرے وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ اکثریت جن تدابیر کو اختیار کر کے کامیاب ہوتی ہیں، وہ ان کے حق میں نہیں جاتیں، یہ اکثریت کے مقابلے میں زیادہ پختہ اور حساس ہوتے ہیں اس لیے تہذیبی افیون کو قبول نہیں کرتے لیکن اس قدر توانا نہیں ہوتے کہ ہوا کے مخالف رخ پر اڑ سکیں۔
ایرک فرام نے معاشرت کے مختلف زاویوں پر بھی بات کی جس کے آئینہ میں ہم اپنی صورت دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً وہ لکھتا ہے کہ ہم بہت سی ایسے اشیاء کے طالب ہوتے ہیں جن کی ہمیں خاص ضرورت نہیں ہوتی بس ملکیت بنا لینا چاہتے ہیں۔ ان کے استعمال سے ہم لطف نہیں لیتے، بس احساس ملکیت ہم کو راحت دیتا ہے۔ ایسی چیزوں میں وہ کھانے کے مہنگے برتنوں اور شیشوں کے گلدان گنتا ہے، اسی طرح وہ بڑے بڑے ویران گھروں، غیر ضروری موٹروں اور نوکروں کا ذکر کرتا ہے۔ وہ ان چیزوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے جو حقیقی استعمال کے لیے ہوتی ہیں لیکن اس میں بھی نمود ونمائش کے جذبے کی تسکین کا پہلو ہوتا ہے۔ وہ مثال دیتا ہے کہ ہم دراصل کوئی چیز کھاتے پیتے نہیں بالکل اصل میں لیبل کھاتے پیتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ کوکا کولا کی بوتل کے ساتھ ہم اس لڑکے اور لڑکی کو بھی پی رہے ہوتے ہیں جنھیں اشتہار میں کوکا کولا پیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور ساتھ میں وہ نعرے بھی پیتے ہیں جو اشتہاروں میں لگتے ہیں اور ہم ان چیزوں کے استعمال پر مجبور ہوتے ہیں جن کی حقیقت کا دارو مدار اشتہاری مہم کی رومان انگیزی پر ہوتا ہے۔
وہ کہنا یہ چاہتا ہے کہ اصل میں ہم سے انتخاب کی آزادی چھین لی گئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اب چیزوں کی خرید اور انھیں استعمال کرنے کا افادیت اور خوشی سے تعلق کم رہ گیا ہے ’’ہر شخص کو اس خواہش نے دیوانہ بنا رکھا ہے کہ وہ مارکیٹ سے ہر شے کا جدید ترین نمونہ حاصل کر لے، اس خواہش کے مقابلے میں استعمال کی حقیقی مسرت غیر اہم ہو کر رہ گئی ہے۔ اور تو اور وہ اپنی فرصت سے حظ اٹھانے میں بھی آزاد نہیں اور اس کے استعمال کا تعین بھی انڈسٹری کرتی ہے وہ خود نہیں۔ اس ضمن میں وہ فوٹو گرافی سے ایک مثال دیتا ہے اور بتایا ہے کہ پوری دنیا فوٹو گرافی کو مقبول بنانے میں 1889 میں کوڈک والوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا نعرہ تھا ’’آپ بس بٹن دبائیں، باقی سب کچھ ہم کر لیں گے۔‘‘ اس کے مطابق، اس نعرے سے بٹن دبانے کی قوت کا احساس پیدا کرنے کے ابتدائی نعروں میں سے ایک ہے، بس آپ نے کوئی زحمت نہیں کرتی بٹن دبانا ہے۔ اس عمل نے وہ سمجھتا ہے کہ ہمارے احساسات کند کردیے ہیں۔ اس کے بقول :
انسان نہ صرف اپنے کام سے اور اپنی چیزوں اور خوشیوں سے برگشتہ ہوچکا ہے بلکہ وہ ان سماجی قوتوں سے بھی برگشتہ ہے جو ہمارے معاشرے اور اس کے ہر رکن کی زندگی کی صورت گری کرتی ہیں۔ اس نے اپنی کتاب میں ہنری ڈیوڈ تھوریو کی کتاب Life Without Principle کا بھی ذکر کیا ہے جس میں وہ انسان کے کولہو کا بیل بنے رہنے پر تنقید کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے اسے کھیتوں میں خاموش کھڑے دیکھ لیا تو خود ہی یہ قیاس کر لیا کہ میں وہاں مزدوری کا حساب کتاب کر رہا ہوں۔ اسی طرح معذور آدمی پر ترس صرف اس لیے کھایا جاتا ہے کہ وہ بے چارا اپنا کام نہیں کرسکتا۔ اس کا کہنا ہے جرم بھی شاعری اور فلسفہ کی اس قدر ضد نہیں جس قدر مسلسل کام۔ وہ سمجھتا ہے کہ محنت کا وظیفہ صرف روزی روٹی نہیں بلکہ کس کام کو اچھے ڈھب سے کرنا ہونا چاہیے۔ تھیورو کے بقول :ایسے شخص کو ملازم نہ رکھو جو تمھارا کام پیسے کی خاطر کرتا ہے بلکہ اس کو جو کام کو کام کی محبت کی خاطر کرتا ہے۔‘‘
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




