ایرک فرام، صحت مند معاشرے اور محبت کے بارے میں۔۔۔


ایرک فرام کی کتاب The Sane Society کا ’’صحت مند معاشرہ‘‘ کے نام سے اردو میں ممتاز دانش ور قاضی جاوید نے ترجمہ کیا تھا جو 27 سال پہلے شائع ہوا۔ برسوں پہلے یہ کتاب پڑھی تو مجھے پسند آئی۔ چند دن پہلے کتابوں کو ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے یہ کتاب نظر آئی تو اسے دوبارہ پڑھنے کا ارادہ کیا۔ اب جو اس کا مطالعہ کیا تو اس کی معنویت نئے طور پر ظاہر ہوئی جس کا زیادہ تر اطلاق پاکستانی سماج پر ہوتا ہے۔ 1955 میں شائع ہونے والی یہ کتاب ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کے عوام کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے لیکن اس کا مطالعہ ہم جیسے تیسری دنیا کے باسیوں کے لیے اب بھی برمحل ہے۔

آغاز کتاب میں مصنف بتاتا ہے کہ ’’گذشتہ سو سال کے دوران ہم مغرب والوں نے اس قدر مادی دولت پیدا کی ہے کہ نسل انسانی کی تاریخ میں کسی اور معاشرے میں اس قدر دولت حاصل نہیں کی گئی اس کے ساتھ ہی ہم نے اپنے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو اس انداز میں قتل کرنے کا اہتمام کیا ہے جسے ہم ’جنگ‘ کا عنوان دیتے ہیں۔‘‘ اس نے لکھا ہے کہ جس معاشی نظام کے تحت ہم زندگی گزار رہے ہیں وہاں زرعی اجناس کی زیادہ پیداوار خوشی کی خبر بننے کے بجائے یاس کا باعث بنتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ پیداوار کو منڈی کے استحکام کے لیے محدود کر لیا جائے جبکہ ان زرعی اجناس کے لیے لاکھوں کروڑوں لوگ ترلے مار رہے ہوتے ہیں۔ اس کا نکتہ یہ ہے کہ خوشحال معاشروں میں فرد ذہنی اعتبار سے صحت مند نہیں۔ خود کشی کا معاملہ اس کے نزدیک اتنا سیدھا نہیں کہ کسی خاص بات کو اس کا باعث قرار دیا جاسکے لیکن پھر بھی اس کے خیال میں زیادہ تر وہ لوگ اپنی زندگی اپنے ہاتھوں ختم کرتے ہیں جن کے یہاں ذہنی استحکام اور ذہنی صحت کا فقدان ہوتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اعدادو شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ خود کشی کی بڑی وجہ افلاس نہیں کیونکہ غریب ملکوں میں اس کی شرح بہت کم ہے جب کہ دوسری طرف یورپ میں مادی خوشحالی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ خود کشی کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے۔ ایرک فرام کا خیال ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں مادہ پرستی نے اتنا فروغ پایا ہے کہ اس میں انسان کی حیثیت مرکزی نہ رہی اور وہ حاشیے پر آگیا جبکہ معاشی سرگرمیوں نے مرکزی مقام حاصل کرلیا ہے۔

ایرک فرام نے قوم پرستی کے کھوکھلے جذبے پر کڑی تنقید کی ہے اور بتایا ہے کہ اس سے کس طرح قوموں کی راہ کھوٹی ہوتی ہے۔ اس کے بقول ’’قوم پرستی جذباتی الجھاؤ کی ایک قسم ہے۔ یہ ہماری بت پرستی ہے اور ہمارا جنون ہے۔ حب الوطنی اس کا مسلک ہے۔ شاید یہ کہنا ضروری نہیں کہ ’’حب الوطنی‘‘ سے میری مراد وہ رویہ ہے جو اپنی قوم کو باقی ساری انسانیت پر ترجیح دینے، یہاں تک کہ اسے صداقت اور انصاف کے اصولوں سے بھی ماورا رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔۔۔ جس طرح اگر ایک شخص کی محبت دوسروں کے ساتھ محبت کرنے کی نفی کرتی ہے تو وہ محبت نہیں رہتی۔ اس طرح اگر قوم کی محبت انسانیت کی محبت کا جزو نہ ہو تو محبت نہیں رہتی بلکہ بت پرستی بن کر رہ جاتی ہے۔‘‘

نرگسیت نے ہماری معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ ہمچو ما دیگرے نیست کے رویے نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ انفرادی اور تہذیبی سطح پر ہم نرگسیت کا شکار ہیں اور باہر کی تروتازہ ہوا ہمارے دماغ کو نہیں پہنچتی، ہرطرف سے پسپائی نے بھی ہماری اکڑ فوں ختم نہیں کی۔ نرگسیت کے بارے میں جو بات ایرک فرام نے 63 برس پہلے کی تھی وہ ہمارے لیے آج بھی حسب حال ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ نرگسیت زدہ حضرات کے لیے صرف ایک ہی حقیقت ہوتی ہے اور وہ ان کے اپنے خیالات، احساسات اور ضروریات کی دین ہوتی ہے۔ وہ صورت حال کا تجزیہ معروضی انداز میں کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور یہ جان نہیں پاتے کہ بیرونی دنیا اپنی شرائط، حالات اور ضروریات کے مطابق اپنا وجود رکھتی ہے، جس کے بارے میں ان کی رائے حقیقت کے اعتبار سے نہیں، اپنے تصورات کے تحت قائم ہوتی ہے۔ سو باتوں کی ایک بات اس نے نرگسیت کے بارے میں یہ کہی کہ ’نرگسیت معروضیت، عقل اور محبت کی متضاد کیفیت ہے‘۔

1941 میں ایرک فرام کی کتاب ’’خوف آزادی‘‘ شائع ہوئی، اس زمانے میں دوسری جنگ عظیم جاری تھی، اس میں وہ یورپ میں فاشزم کے پروان چڑھنے کی نفسیاتی وجوہات بیان کرتا ہے۔ ’’صحت مند معاشرہ ‘‘ میں بھی وہ یہ بحث چھیڑتا ہے۔ فاشزم، نازی ازم اور سٹالن ازم پر تنقید کرتے ہوئے آمریت کی اصل سے آگاہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ نظام انسان کو مجبور محض بناتا ہے تاکہ وہ تمام تر قوت قائد محترم سے یا وطن عزیز کے لیے مختص کر دے۔ اس کا کہنا ہے کہ مذکورہ سب نظاموں کی بنیاد جھوٹ تھی، وہ اپنے پروگراموں میں کسی نہ کسی نوع کی اشتراکیت کے دعوے دار تھے لیکن ان کا عمل اشتراکیت کی نفی تھا۔ ان حالات میں اس کے بقول، مسولینی جیسا بزدل جرأت کی علامت بن گیا، ہٹلر جیسا غارت گر جرمنی میں تعمیرنو کا معمار سمجھا گیا اور سٹالن جیسا سفاک سازشی قوم کا باپ کہلایا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3