ایرک فرام، صحت مند معاشرے اور محبت کے بارے میں۔۔۔


ادھار اٹھا کر داد عیش دیتے فرد اور گھرانے اب عام نظر آتے ہیں، قسطوں پر اشیاء کا حصول بھی اسی عمل کی ایک صورت ہے۔ ایرک فرام 63 برس پہلے یہ سب مغربی معاشرے کے بارے میں لکھ رہا تھا، ہمارے یہاں ان علتوں کا ظہور بہت بعد میں ہوا اور جس کا نمود اب ہر طرف ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پہلے ایک تو لوگ وہی چیز خریدتے تھے جس کی ضرورت ہوتی اور اس کی نوبت بھی اس وقت آتی جب مطلوبہ رقم جوڑ لی جاتی، اب معاملہ دگر ہے۔ چیز کی ضرورت ہو یا نہ ہو اسے ادھار پر حاصل کر لیتے ہیں۔ اس میں اشتہار بازی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ قسطوں پر چیز خریدتے ہیں، اور جب قسطیں ختم ہوجاتی ہیں تو پھر دوبارہ اسی شے کا نیا ماڈل خریدنے کے لیے پرانی شے بیچ ڈالتے ہیں۔

یہ عمل اب توہمارے ہاں تواتر سے ہورہا ہے اور بات اب ہوتے ہوتے موبائل فون تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے آپ ظاہری ٹیم ٹام ضرور دکھا لیتے ہیں لیکن قسطوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، تاخیر کی صورت میں ڈیلر کی جانب سے’’ عزت افزائی‘‘ اس پرمستزاد ہے۔ وہ کہتا ہے کہ معاشرے میں ہر شخص اپنی شرائط پر نہیں بلکہ دوسروں کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ہجوم کاحصہ بننے میں عافیت جانتا ہے۔ دوسرے سے مختلف ہونا اس کے نزدیک کم ترین ہونا ہے۔

ایرک فرام کے خیال میں پاگل شخص وہی ہوتا ہے جو کسی قسم کا تعلق بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے اور چار دیواری کے اندر بند نہ ہوتے ہوئے بھی قید میں ہوتا ہے۔ ایرک فرام محبت کے فروغ میں سب دکھوں کا مداوا دیکھتا ہے، اس کی دانست میں اس سے انسان دنیا سے بھی جڑ سکتا یے اور انفرادیت بھی برقرار رکھ سکتا یے۔ وہ محبت کے جذبے کو بیکراں جانتا ہے اور اسے ایک فرد تک محدود نہیں سمجھتا، اس کا کہنا ہے کہ اگر کسی سے محبت اسے دوسروں سے دور کر رہی ہے تو وہ اور کچھ تو ہو سکتی ہے محبت نہیں۔ وہ تعمیری محبت کا ذکر کرتا ہے جس میں کتنی ہی دوسری چیزیں شامل ہوتی ہیں، مثلاً محبت سے دوسرے کی ظاہری نہیں، باطنی ضروریات کا خیال بھی کرتا ہے اور یہ وہ ذمہ داری کے اس احساس کے تحت کرتا ہے جو محبت اسے ودیعت کرتی ہے۔ اسی طرح وہ اگلے کی پروا بھی کرتا ہے جس میں وہ اس کی نشوونما اور خوشی کا خیال رکھتا ہے اور یہ بھی کہ اس کو جوں کا توں قبول کرتا ہوں اور اپنی خواہشات اور خدشوں کے تحت اس کی کتر بیونت نہیں کرتا کیونکہ’’میں اس کے وجود کے اندر گھس کر اس کی ذات کے مرکز سے اپنی ذات کا رشتہ جوڑتا ہوں، محبت کا یہ رشتہ سطحی نہیں داخلی ہوا کرتا ہے‘‘

ایرک فرام کے نزدیک صحت مند شخص وہ ہے جو محبت، عقل اوریقین محکم کے سہارے جیتا ہے، جو اپنی زندگی اور دوسرے انسانوں کا احترام کرتا ہے اس کے برعکس برگشتہ فرد اپنی ذات کے، اپنی خودی کے احساس سے محروم ہوتا ہے۔ ضمیر کی آواز اس تک پہنچ نہیں پاتی، اعتقاد سے وہ محروم ہوتا ہے اور استحصالی ذہن رکھنے کی وجہ سے وہ بے چین اورمضطرب رہتا ہے اورہر اس شخص کو اپنا رہبر تسلیم کرنے پر تیار ہوتا ہے جو اسے مجموعی حل پیش کرے۔

ایرک فرام کی کتاب کے مترجم قاضی جاوید سے ہم نے پوچھا کہ انھیں اس کتاب کو ترجمہ کرنے کا خیال کیسے آیا تو انھوں نے بتایا ’’ جس زمانے میں ترجمہ کیا اس زمانے میں جو دوسرے دانشور تھے، ان میں اہم ترین نام سارتر کا تھا، ان کی تحریر کو سمجھنا بہت مشکل تھا۔ ایرک فرام عام لوگوں کے لیے سیدھے سادے انداز میں لکھتے تھے، برٹرینڈ رسل کی طرح جیسے آپ گفتگو کر رہے ہوں۔ دوسرے مجھے لگتا تھا کہ یہ کتاب ہمارے معاشرے کے لیے بہت ریلیونٹ ہے اور ہم اس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، تو یہ محرک تھا اسے ترجمہ کرنے کا۔ صارفیت پر فرام نے سب سے زیادہ لکھا اور بتایا کہ کس طرح اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا ہے اور کسی شخص کی قدروقیمت کا تعین انسانی خوبیوں نہیں بلکہ مادی چیزوں کی بنیاد پر ہونے لگا۔‘‘

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3