نعرے، وعدے اور نیا ووٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

محض تین ہفتے بھی نہیں باقی اور انتخابی عمل کا پہلا اور اہم مرحلہ شروع، عوام سے رابطے کا آغاز ہوگیا، جس میں امیدوار چاہے وزیراعظم ہو، وزیر ہو یا صدر مملکت رہ چکا ہو، وہ براہ راست لوگوں میں جاتا اور وعدے وعید کرتا ہے۔ وہ کچھ اس طرح کے ہو رہے ہیں۔

3 برس میں ہر گھر میں پانی، 6 ماہ میں کچرا صاف، کراچی کو پیرس بناؤں گا۔
کراچی کے عوام شعبدہ بازوں کو قبول نہیں کریں گے
ہمارا راستہ گالی نہیں عوام کی خوش حالی ہے

اقتدار میں آ کر غریبوں کا معیار زندگی بلند کریں گے
ہر یونین کونسل میں فوڈ اسٹورز کھولیں گے
پنجاب کو برباد کرنے والوں نے اب کراچی کا رُخ کر لیا

ملک کرپٹ لوگوں کے حوالے کرنا خود کشی ہوگی
ملک میں اسلامی شریعت کا نظام نافذ کریں گے
ناراض کارکنوں نے اپنی پارٹیوں کے کرتوت کھول دیئے

یہ اور ایسے بے شمار دعوے، وعدے اور الزامات سے بھرپور مہم میں تمام بڑی اور چھوٹی حتیٰ کہ نو وارد جماعتوں نے قدم رکھ دیئے ہیں۔ اس عمل میں پارٹیوں کے تھنک ٹینک یہ طے کرتے ہیں کہ کس معاملے پر کیا موقف اختیار کرنا ہے اور کس لیڈر سے متعلق کیا الزامات تیار کرنا ہیں۔ انتخابی سیاست میں یہ سب کارروائی کا حصہ ہوتا ہے۔

 حالیہ الیکشن کچھ مختلف صورت اختیار کر چکے ہیں، اس بار سوشل اور مین سٹریم میڈیا (ٹی وی اور اخبارات) میں ملکی اور سیاسی جماعتوں کے اہم ایشوز پر ناصرف خبریں بلکہ تبصرے اور امکانات کی نوعیت گرما گرم صورت اختیار کرچکی ہے۔

ابتدائی امکانی سروے بھی جاری ہونے لگے ہیں، مبصرین اپنی آراء دینے لگے ہیں، کوئی ایک پارٹی کو حکومت بناتا واضح طور پر دیکھ رہا ہے، کسی کو معلق پارلیمنٹ کی صورت میں مخلوط حکومت سازی نظر آ رہی ہے۔

ایک پارٹی اپنی کارکردگی اور اپنے ساتھ ہونے والے غیرجمہوری سلوک کی شکایت کو بنیاد بناکر عوام میں جا رہی ہے، دوسری کرپشن اور نااہلی جسے ہمیشہ بنیاد بنایا جاتا ہے، اس کا سہارا لئے ہے۔ کچھ جماعتیں خاموشی سے اپنے دعوے کر کے انتخابی میدان ہموار کرنے میں لگی ہیں۔ یہ وہ جماعتیں ہیں جنہیں حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنی پوزیشن کا علم ہے اور صرف اپنا حصہ لینے کی تاک میں ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ وہ کوئی موقف اختیار نہیں کر رہی ہیں۔

اب بڑی جماعتوں کے دماغ نئی نسل کے لئے کوئی خاص پروگرام متعارف کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہاں البتہ سوشل میڈیا پر مہم سازی کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ لیکن وہاں بھی ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور کردار کشی پر مبنی نئی نئی اصطلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

ایک طرف عدالتوں کی کارروائیاں خبروں کی زینت بن رہی ہیں، جس پر ایک پارٹی کو چھوڑ باقی جماعتوں کو کسی حد تک اطمینان اور تسلی ہے لیکن دوسری جانب سے وہ جماعت عدالتوں اور ذاتی پریشانیوں کو بڑے احسن طریقے سے اپنی مہم کا حصہ بناکر پیش کر رہی ہے۔

پاکستان میں سیاست کرنے والے اور اس پر نگاہ رکھنے والے اس وقت کوئی اور کام نہیں کر رہے، یہاں تک کے ریاستی ادارے بھی پوری طرح سے آنکھیں کھولے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ مسلح افواج، عدلیہ، نیب شاید اپنا رول پہلے سے بڑھ کر ادا کر رہے ہیں۔

انتخابی، عدالتی اور کچھ اہم ملاقاتوں کی خبریں ہی اصل توجہ کا مرکز نہیں۔

پارٹیوں کے بڑے دماغ بیان دینے سے لے کر پارٹی لیڈر کے کسی بھی ایکٹ یا نقل و حرکت کا تعین بھی کر رہے ہیں، کیونکہ میڈیا کی آنکھ حالیہ برسوں میں کوئی شے نہیں چھوڑ رہی۔ چاہے سابق وزیراعلیٰ کا لندن میں اکیلے سڑک عبور کرنا ہو، یا سابق وزیراعظم کا ہسپتال میں آنا اور جانا ہو۔ یہاں تک کے بڑے سیاستدان کے گھر کی دیوار پر گوشت رکھنا بھی زیر بحث آ رہا ہے۔

آئندہ چند روز میں عوامی اجتماعات کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر جائے گا، جس کے بعد وعدوں، دعووں اور دشنام ترازی کے عمل میں بھی تیزی آجائے گی، جس کے بعد جماعتی وابستگی رکھنے والوں کی دلچسپی بڑھ جائے گی، مگر ایک بڑی تعداد جس نے فیصلہ آخری وقت پر پارٹیوں اور امیدوار کی صورت حال دیکھ کر کرنا ہوتا ہے یہ خاموش اکثریت بھی اپنی اپنی سوچ بنائے گی، کس نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ اس عمل میں سیاسی جماعتوں کے موقف یا مخالف جماعتوں پر لگائے الزامات بعض اوقات بہت موثر کردار ادا کر جاتے ہیں۔ پچھلے پانچ سال کے دوران ووٹر لسٹ میں شامل ہونے والے نوجوانوں کا انتخابی عمل میں شریک ہونا اور جھکاؤ بہت اہمیت اختیار کرے گا۔ دیکھنا یہ ہے وہ کس کی، کون سی، بات سے کتنا متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا ہے، فیصلہ اب دنوں کی بات ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں سنیئر پروڈیوسر نیوز کے عہدے پر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

nauman-yawar has 52 posts and counting.See all posts by nauman-yawar