ذکر کچھ بیتی شاموں کا ۔۔۔
خیر، چلتے ہیں اس گھر جہاں میرے بچپن کے آٹھ سال گزرے ہیں۔ یہ ہمارا آبائی گھر ہرگز نہیں تھا بلکہ ایک سرکاری رہائش گاہ تھی جو نہایت وسیع و عریض تھی۔ رہائشی عمارت کے چاروں طرف کھلا رقبہ تھا۔ پچھلی طرف واقع لان دراصل کچن گارڈن تھا جہاں شروع شروع میں کچھ سبزیاں بھی کاشت کی جاتی تھیں لیکن بعد کے سالوں میں جنگلی گلاب اور موتیے کے ڈھیروں ڈھیر پودے تھے اور میری والدہ ان دونوں پھولوں کی دلدادہ۔ صبح ہی صبح ڈھیر سارے موتیے کے پھول توڑ لاتی تھیں۔ وہ ان پھولوں کو ڈرائنگ روم میں رکھتی تھیں یا کہاں، یہ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔ رہائشی عمارت کے سیدھے ہاتھ والے اور سامنے والے لان میں پھول دار اور پھل دار پودے کثرت سے تھے۔ کبھی والد صاحب کو شوقیہ ان پھولوں، پودوں کی دیکھ بھال کرتے پاتے۔
گرمیوں کی دوپہروں میں عصر کے بعد ہم اپنے اپنے کمروں سے نکل کر برآمدے، صحن اور لان کو بمطابق موڈ رونق بخشتے تھے۔ کبھی کبھی اپنی سائکلیں لے کر نکل کھڑے ہوتے۔ کبھی میں سائیکل اور بھائی کرکٹ کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر اپنی اپنی راہ لیتے۔ کبھی دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگانے پیدل چل پڑتے۔ اور کبھی کبھی۔ گھر کے صحن میں کرکٹ اور بیڈمنٹن کے دور چلتے۔ یوں تو لان میں ہاکی کے دور بھی چلے لیکن وہ مختصر عرصے پر محیط رہے اور ان میں میرا حصہ کبھی نہیں رہا۔ میرا حصہ صرف کرکٹ میں رہا۔ بطور لیفٹ ہیڈڈ بیٹس مین اور بطور رائٹ ہینڈڈ باولر۔ کرکٹ اور بیڈمنٹن کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میں ہماری والدہ بھی حصہ لیتیں۔ وہ ہماری والدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری گیم پارٹنر بھی رہیں اور خوب رہیں۔ گرمیوں کی طویل چھٹیوں میں میرا ایک پسندیدہ مشغلہ اپنے والد اور والدہ کے ساتھ شام کے وقت لڈو کھیلنا بھی ہوتا تھا۔ والدہ تو ٹف ٹائم دیتی تھیں جبکہ والد کے ساتھ مقابلے میں جیت اکثر میری ہوتی جس پر میں اور وہ یکساں خوش ہوتے۔
کبھی گرم دوپہروں کے اختتام پر کھیلوں سے پہلے میرے والد پائپ لگا کر صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کرتے تا کہ زمین کی گرمی کچھ کم ہو سکے۔ ساتھ مٹی کی بھینی بھینی خوشبو بھی اٹھتی۔ پھر کھیلوں کا راؤنڈ چلتا جو مغرب تک جاری رہتا۔ کچھ شامیں مغرب سے رات نو بجے کے خبرنامے تک برآمدے میں کرسیوں، میزوں، بریکٹ فین، پیڈسٹل فین اور برآمدے میں لگائے گئے ٹی وی کے سنگ گزرتیں۔ طعام بھی وہیں ہوتا اور نان کے ساتھ چورن والے پکوڑے ایک منفرد تجربہ ہوتے۔ خبرنامہ شروع ہوتے ہی ہم اپنے اپنے کمروں کو بھاگ لیتے۔ ان دنوں ہم بچوں کے دن کا اختتام نو بجے ہو جاتا تھا۔
وہ دن گزرے، وقت گزرا۔ ہم بڑے ہوئے، پڑھائی کا بوجھ بڑھا اور ہماری وہ شامیں خواب ہوئیں۔ پہلے پہل شامیں ہوم ورک کرتے، پھر پروفیشنل کلاسیں لیتے اور اب اکثر شامیں گھر کے کام نمٹاتے، کاموں سے تھک کر سوتے، آوٹنگ کرتے گزرتی ہیں۔ بہت ہوا تو بھاگنے دوڑنے کی سی کیفیت میں تھوڑا بہت وقت آسمان پر بنے بادلوں کے مختلف دلفریب پیٹرن دیکھتے بتا لیتے ہیں لیکن وہ فرصت کی شامیں خواب ہوئیں۔
پچھلے ہفتے موسم کے رنگ میرے پسندیدہ رنگوں میں سے تھے تو سوچا کہ کیوں نہ پھر سے ان خوبصورت شاموں سے بھرپور استفادہ کیا جائے اس سے پہلے کہ مصروفیات پھر سے یلغار کر دیں۔ سو آج کل میرے ہمراہی ہیں۔ شام کے وقت آسماں پر قوس و قزح کے رنگ بکھیرتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے بادل، چائے کا مگ اور چھ مہینوں سے ادھ پڑھا ایک سفر نامہ۔


