روم جل رہا ہے، بانسری بج رہی ہے

تاریخ بتاتی ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو (بادشاہ وقت) بانسری بجا رہا تھا۔ افواہیں یہ بھی تھیں کہ یہ آگ خود نیرو نے ہی لگوائی تھی۔ یہ بات کس قدر مستند ہے، اس پر تاریخ دان ہنوز دو رائے رکھتے ہیں کہ آیا واقعی یہ آگ نیرو نے خود لگوائی تھی یا وہ محض کسی سازش کا شکار ہوا تھا۔ بہر حال، کئی دنوں سے مجھے روم کا جلنا اور بانسری کا بجنا بہت شدت سے

Read more

زائر حرمین۔ پارٹ الیون۔ فسوں ارض حرم

مسجد قبلتین سے ہوٹل واپسی کا قصد کیا کہ باقی زیارات شام میں کریں گے۔ راستے میں مسجد عنبریہ نظر آئی۔ بے حد پرکشش انداز میں تعمیر کردہ اس مسجد میں نماز متروک ہے کیونکہ اس مسجد کی سمت کعبۃ اللہ کی سمت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مدینہ میں جہاں مسجدوں کی اکثریت سفید رنگ کی ہے، وہاں گہرے سرمئی رنگ کی پروقار سی یہ مسجد ترکوں کی تعمیر کردہ ہے۔ بہت جی چاہا کہ اسے قریب سے دیکھا جائے، اس کے اندر جایا جائے لیکن مقفل ہونے کے اور وقت کی قلت کے باعث اس خیال کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ یہ مسجد حجاز ریلوے میوزیم کے قریب ہی واقع ہے۔

Read more

زائر حرمین ___ پارٹ ٹین ___ زیارات مدینہ

میں ہوٹل لوٹی تو میز پر ایک عدد فلائیر موجود تھا جس میں مدینہ سائٹ سینگ بس اور اس بس کے توسط سے دکھائے جانے والے مقامات کی تفصیل درج تھی۔ میرے لیے اس سے خوش کن چیز اور کیا ہو سکتی تھی۔ طے پایا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مقامات کی زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں۔

Read more

زائر حرمین (9)مدینہ ، مدینہ

اور پھر، مکہ سے مدینہ روانگی کا دن آ گیا۔ جب ہم مکہ میں اپنے قیام کی نصف مدت پوری کر چکے تھے تو میں نے بھائی سے کہا تھا کہ دیکھیں، کیسے ہم یہاں آنے کی تمنا کر رہے تھے، پھر جب یہاں آنے کا حتمی پلان مرتب ہوا تو دن گن رہے تھے، اب یہاں قیام کے نصف دن پلک جھپکتے گزر گئے ہیں، سفر مکمل ہو جائے گا تو یہ دن خواب ہو جائیں گے۔ اور اب واقعی ان دنوں کو خواب ہوئے بھی جانے کتنے دن، کتنے مہینے، کتنا وقت گزر گیا ہے۔ مکہ سے رخصت ہوتے مجھے سب سے زیادہ یہ خیال رہا کہ خانہ خدا یہیں رہ جائے گا، اس کے سامنے بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے باتیں کرنے اور دعائیں کرنے کا لطف یہیں رہ جائے گا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے لیکن جو بات یہاں، اس کے گھر کے صحن میں بیٹھ کر اس سے باتیں کرنے میں ہے، وہ ایک الگ ہی تجربہ ہے۔

Read more

زائر حرمین۔ پارٹ ایٹ۔ بہترین لمحات

پہلا عمرہ، پہلا تجربہ تھا۔ اتنا اندازہ تو تھا کہ کچھ تھکن ہو گی لیکن اتنی شدید ہو گی، یہ اندازہ نہ تھا۔ شدید اس سینس میں کہ چلنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ جب عمرہ کا پلان فائنلآئز ہوا تو میں نے امی سے پوچھا کہ کیا لوگ ایک دن میں ایک عمرہ کر لیتے ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں۔ ہمت ہو تو کیا جا سکتا ہے۔ میں بولی : واہ، یعنی جتنے دن وہاں قیام

Read more

زائر حرمین (7)

مکہ اور مدینہ میں سب سے زیادہ جس شخصیت کی یاد آئی وہ تھے ممتاز مفتی۔ بہت سے مواقعوں اور مقامات پر آنے والی ان کی یاد چہرے پر مسکراہٹ لانے کا سبب بن گئی اور اس یاد کا سلسلہ ان کی کتاب ”لبیک“ سے جا ملتا ہے۔ بہت سال پہلے لبیک پڑھی تھی لیکن اس وقت وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ زندگی میں جب کبھی ان مقامات پر جانے کا موقع ملے گا تو ممتاز مفتی بھی اپنے لفظوں کی بدولت ہمارے ساتھ محو سفر ہوں گے۔ دو ایک بار میں نے خانہ کعبہ کی طرف نگاہ کی کہ کیا معلوم مجھے بھی ممتاز مفتی کی مانند وہاں اللہ تعالیٰ نظر آ جائیں لیکن۔۔۔

Read more

زائر حرمین(6)

زبان سے یاد آیا۔ میرا خیال تھا کہ انگریزی زبان آتی ہو تو دنیا کے کسی بھی ملک جا کر اپنا مدعا باآسانی کہا اور سمجھایا جا سکتا ہے اور مقابل کا نکتہ سمجھا جا سکتا ہے لیکن یہ کیا۔ یہاں موجود افراد کی اکثریت انگریزی زبان سے نابلد تھی۔ اب آیا اصل امتحان! انگریزی کی شد بد سب سے زیادہ مصر سے تعلق رکھنے والے افراد کو تھی۔ دیگر ممالک سے آنے والے افراد کو کم کم ہی انگریزی زبان آتی تھی۔ بولنے اور سمجھنے دونوں معاملات میں۔

Read more

زائر حرمین (قسط پنجم)

اس دن جارج کے نقش قدم پر اتنا ہی چل سکی۔ باقی دنوں میں بھی جب جب موقع ملا اس طریق کو قائم رکھا۔ پہلے دن جارج کا سیاق و سباق بیان کرنا پڑا تھا، اس کے بعد یہ ہمارے لیے ایک اصطلاح بن گئی۔ جب بھی اکیلے نکلنے کا پلان ہوتا تو ”جارج“ کہہ کر نکل کھڑی ہوتی۔

جارج بننے کا اصل سکوپ بیرون ملک ہے جہاں آپ تن تنہا بے فکری سے گھوم پھر سکتے ہیں، جہاں جتنی دیر رکنا چاہیں رک سکتے ہیں۔ کوئی آپ کے چلنے، آپ کے رکنے کا نوٹس نہیں  لے گا۔ سب اپنے اپنے کاموں یا مشاغل میں مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان میں کسی خاتون کے لیے ایسا طریق رکھنا کسی قدر مشکل ہے۔

Read more

زائر حرمین (حصہ چہارم)

وہاں سے نکلے تو منی ٹرین سٹیشن کے گیٹ نمبر چھ کے پاس ٹھہرے۔ وہاں لوہے کی جالی دار دیواروں کے اندر منٰی کے خیمے نصب تھے۔ کبھی یہ خیمے کپڑے کے اور عارضی ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ خیمے پکے اور مستقبل کھڑے تھے۔ ٹرین سروس بھی چونکہ حج کے دنوں میں ہی چلتی ہے اس لیے وہ سٹیشن اور سٹیشن کے عقب میں واقع خیمے خاموش کھڑے تھے۔ سڑک کے دوسری جانب بھی تاحد نگاہ خیمے ہی خیمے تھے۔ اور ڈرائیور کے بتانے پر سڑک کے دوسری جانب کے خیموں سے اوپر نگاہ اٹھائی تو دور ایک پہاڑی دکھائی دیتی تھی۔

ا

Read more

زائر حرمین (3)

نو فروری کو ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر مکۃ المکرمہ کے مقامات مقدسہ کی زیارت کا قصد کیا۔ ضروری سامان اور ایک عدد چھتری لے کر ہوٹل روم سے اتر کر ہوٹل سے متصل مین روڈ پر آ گئے۔ روڈ پر صبح سے رات گئے تک سیارۃ اجرہ یعنی کہ ٹیکسی موجود ہوتی ہیں۔ یہاں کی ٹیکسی یا کیب سروس کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں ٹیکسیوں پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ آیا وہ مکہ مکرمہ کی

Read more

پہلی حاضری

جدہ ائرپورٹ کی حدود سے نکلے تو سڑک کے نواح میں اور جالی دار جنگلوں میں شاپنگ بیگز اڑے دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان میں ہی ہوں۔ ٹریفک نہ بہت زیادہ تھی نہ بہت کم۔ میں نے مشاہدہ کرنے کو نیند پر ترجیح دی اور جدہ سے مکہ تک کا سارا رستہ بچوں کو ہلکی پھلکی خوراک تھماتے اور نظروں سے سڑکیں ناپتے گزار دیا۔ مکہ میں اپنے ہوٹل پہنچے۔ کمرے میں سامان رکھا اور چند چیدہ چیدہ

Read more

زائر حرمین ___ اذن سفر اور سفر پر روانگی

اذن سفر سے کوئی سوا دو سال قبل ہم نے رب کعبہ کے حضور حاضری کا قصد کیا۔ آغاز میں عمرہ پر جانے کے متمنی افراد کی تعداد چار تھی جو ’لوگ آتے گئے، کارواں بنتا گیا‘ کے مصداق گیارہ ہو گئی۔ تیاری ہونے لگی۔ لیکن واقعات کا تسلسل کچھ یوں بنا کہ ہم جا نہ سکے۔ پلان میں ترمیم کر کے دیکھا پھر بھی بات نہ بنی تو یہ سوچ کر خود کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ

Read more

ﮈﯾﮍﮪ ﺩﮬﺎﺋﯽ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ”ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ“ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ

ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮨﺎؤﺳﻨﮓ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﻔﭧ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﭘﮏ ﺍﯾﻨﮉ ﮈﺭﺍﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺳﭩﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮨﻮﺍ۔ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﺳﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﮐﻼﺱ ﻓﯿﻠﻮ ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﮐﻮﺳﭩﺮ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﯿﭧ ﻗﺮﯾﺐ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮭﯽ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ۔ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺲ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺰﺍﺣﯿﮧ صورتحال ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﻨﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﺮﯾﮑﺲ ﻓﯿﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ

Read more

عورت مارچ کیوں؟ کیوں نہیں؟

مارچ کا مہینہ بہار کا سندیسہ لاتا ہے یا نہیں، لیکن گزشتہ چند برسوں سے یہ عالمی یومِ نسواں کی مناسبت سے منعقد ہونے والے عورت مارچ ’کیوں ہونا چاہیے‘ یا ’کیوں نہیں ہونا چاہیے‘ کے نہ ختم ہونے والے مباحثوں کی سوغات لے کر ضرور وارد ہوتا ہے۔ اور آپ چاہیں یا نہ چاہیں آپ اس بابت سوچنے لگتے ہیں۔

آج اسی موضوع پر ایک تحریر دیکھ کر بے اختیار ممتاز مفتی کی کتاب ’تلاش‘ کا ایک اقتباس یاد آ گیا۔ آپ نے ممتاز مفتی کو پڑھا ہے یا نہیں اور آپ ان کی تحاریر سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں، یہ اقتباس اپنے آپ میں ایک ایسی حقیقت کا آئینہ دار ہے جس سے اختلاف ممکن نہیں۔

Read more

"افسانے کی حقیقی لڑکی ” ۔۔۔ ایک مختصر تبصرہ

”افسانے کی حقیقی لڑکی“۔ ناول کا عنوان ہی یہ بتانے کو کافی ہے کہ یہ ناول کہانی میں موجود ایک کردار کی حقیقی زندگی کا آئینہ دار ہے۔ ایک ایسا عہد جس میں چیزوں کو آئیڈیل حد تک کامل دکھایا جاتا ہے اور اسی کاملیت کو لوگ حقیقت سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور حقیقت میں ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں مگر جب حقیقت کو تصوراتی دنیا سے کوسوں دور پاتے ہیں تو توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ ناول تصوراتی دنیا سے حقیقت کی دنیا کے سفر اور حقیقی زندگی کے تلخ تجربات کی جھلک دکھاتا ہے۔ اور نہ صرف حقیقی زندگی میں آنے والی مشکلات پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ ان کی وجہ بننے والے عوامل کا کھوج لگانے اور ان مشکلات کو حل کرنے کا ٹھب بھی سکھاتا ہے۔

Read more

محبت امن ہے اور امن کا پیغام پاکستان

یہ چودہ اگست میرے لیے حسبِ معمول، حسبِ روایت بہت خاص دن تھا۔ صبح اٹھ کر سب سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا پھر پاکستان کا جھنڈا اپنی ٹیرس پر لگایا اور جھنڈے کے رنگوں والا لباس زیب تن کیا۔ موبائل اٹھا کر فیس بک پر نظر دوڑائی تو کچھ ساعتوں بعد اس بچے کی تصویر نظر آئی جس سے چند دن قبل کسی نوسر باز نے اٹھائیس ہزار کے جعلی نوٹ دے کر (شاید) بکرا ہتھیا لیا

Read more

تارڑ صاحب کی کتاب یاک سرائے پر ایک مختصر تبصرہ

ﻣﯿﺮﮮ ﺭﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﮌ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺘﺎﺏ ‘یاک سرائے’ تھی ۔ میں نے یہ کتاب پچھلے سال ہی پڑھی ہے ۔ عرصےبعد پڑھے جانے والا یہ پہلا سفرنامہ ہے ۔ اس سے قبل سفرنامہ کب پڑھا اور کس کا پڑھا ، ٹھیک سے یاد نہیں ۔۔۔ شاید ابنِ انشاء کا ‘چلتے ہو تو چین کو چلیے’ یا شاید ایک مصنفہ کا سفرنامہ جس کا نام فی الوقت یاداشت میں نہیں ۔۔۔ بہرحال، اس سفرنامے میں ‘ہونو لولو’ کے ایرپورٹ

Read more

سپریم کورٹ دیامیر بھاشا ، مہمند ڈیم فنڈ اور فنڈز کا شفاف استعمال

سوموار کو فیسبک کے ایک گروپ میں ایک پوسٹ پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ اپنے موبائل فون سے 8000 پر خالی ایس ایم ایس کریں اور 1500 ایم بی موبائل ڈیٹا مفت حاصل کریں ۔ یہی میسج چند دن قبل انڑنیٹ پر کچھ یوں گردش کر رہا تھا کہ اپنے موبائل فون سے ” ڈیم ” لکھ کر 8000 پر ایس ایم ایس کریں اور سپریم کورٹ کے دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم فنڈ میں دس روپے

Read more

ذکر کچھ بیتی شاموں کا ۔۔۔

کل شام گھر میں لگے پودوں کو پانی دینے لگی تو پانی کی ہلکی ہلکی پھوار صحن اور پورچ کو بھی بھگونے لگی۔ اس پھوار سے مٹی کی بھینی بھینی خوشبو اٹھی اور مٹی کی اس بھینی بھینی خوشبو نے یادوں کے کچھ در بھی وا کر دیے۔ بیتے برسوں کی کچھ شامیں یاد آئیں تو سوچا کہ کیوں نہ فرصت میں بیٹھ کر ان لمحوں کو پھر سے جیا جائے اور کیوں نہ ان خوبصورت لمحوں کو لفظوں میں

Read more

رمضان ٹرانسمشن اور ہم

رمضان کی آمد آمد ہے اور رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے اندر کا متقی و پرہیز گار انسان بھی انگڑائی لے کر بیدار ہوا چاہتا ہے ۔ یہ متقی و پرہیز گار انسان اپنا محاسبہ کرنے کو بیدار نہیں ہو رہا بلکہ دوسروں کی خامیاں اور کوتاہیاں پن پوائنٹ کرنے کو بیدار ہو رہا ہے ۔ گزشتہ دو تین سال سے ہر رمضان ہم اپنے فیملی ممبرز اور دوست احباب کی ” آگہی ” کے لیے برقی پیغامات

Read more

بچوں کی تعلیم و تربیت اور گھٹن زدہ معاشرہ

ایک معتدل موسم والے خوشگوار دن کی صبح آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر ایک زبردست سا ناشتہ تیار کرتے ہیں اور جیسے ہی ناشتہ کرنے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہیں آپ کی نظر ایک ایسی خبر پر پڑتی ہے۔ ” گجرات۔ بربریت کی انتہاء ایک اور ننھا پھول درندگی کا شکار سات سالہ حمزہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل لاش کھیتوں سے برامد گجرات۔ تھانہ کنجاہ کے علاقے جسوکی میں سات سالہ حمزہ کو مبینہ زیادتی کے

Read more

لندن کا فراڈیا بنک کیشیئر اور پاکستانی ٹیلی کام کمپنیاں

آپ نے مندرجہ ذیل کہانی تو پڑھی ہو گی کہ ”ایک نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بنک میں معمولی سا کیشیئر تھا۔ اس نے بنک کے ساتھ ایک ایسا فراڈ کیا جس کی وجہ سے وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا فراڈیا ثابت ہوا۔ وہ کمپیوٹر کی مدد سے بنک کے لاکھوں کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے ایک، ایک پینی نکالتا تھا اور یہ رقم اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا تھا۔ وہ یہ کام پندرہ برس تک

Read more