خلائی مخلوق، گل بوٹے اور لوٹے
کہتے ہیں، سب سے پہلے روس نے خلا میں راکٹ اور انسان کو بھیجا اور پھر روس اور امریکہ بہادر نے تو خلا اور خلائی مخلوق کا ٹھیکا لے لیا۔ باوثوق غیر مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے، کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں خلا سے واپسی پرکسی راکٹ سے خلائی مخلوق کے کچھ جرثومے، جو نمونے کے طور پر لائے جارہے تھے، نا دانستہ یا سوچی سمجھی سازش کے تحت اسلام کے قلعے، یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ٹپک پڑے، بس جب سے وطن عزیز میں خلائی مخلوق کا راج ہے۔ امریکا بہادر کو جب پتا چلا، کہ خلائی مخلوق کے کچھ جرثومے اسلام کے قلعے میں موجود ہیں، تو اس نے وطن عزیز میں موجود خلائی مخلوق کے سربراہ سے مراسم بڑھائے اور سر پہ خصوصی دست شفقت رکھا۔
اپنی بقا اور ارتقا کے لیے خلائی مخلوق نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ زراعت کے تعاون سے سیاسی کاشت کاری کا آغاز کیا اور کئی گل بوٹے کھلائے۔ سب سے مشہور گل زلفی کہلایا، بقول ابن انشاء مرحوم اس گل نے پیپل کے پیڑ کی چھایا میں اپنی جماعت پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ستر کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مٖغربی پاکستان میں فقیدالمثال کامیابی حاصل کی اور مشرقی پاکستان میں غدار ملت قرار دیے جانے والے سیاسی رہنما شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی۔ دونوں صوبوں کے رہنماؤں اور عوام کو ایک دوسرے کی انتخابی کامیابی، ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے کی وجہ سے پسند نہیں آئی۔
انتخابات کے بعد اکثریتی جماعت کو جب حکومت نہ ملی، تو وطن عزیز کے مشرقی صوبے میں فسادات پھوٹ پڑے۔ ادھر جب مغربی صوبے کے ایک اخبار میں سرخی لگی، ۔ ’ادھر ہم۔ ادھر تم‘ تو شیخ مجیب الرحمن اور وہاں کے عوام کو سمجھ آگئی، کہ علیحدہ ہونے میں ہی عافیت ہے۔ سو خوب خون خرابے، بدمزگی اور ایک جنگ کے بعد وطن عزیز کا مشرقی بازو کٹ گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی، جو دوسرے عام انتخابات کے بعد ہنگاموں اور مارشل لاء کی نذر ہوگئی۔ جنرل ضیاء الحق اب وطن عزیز کے حکمران تھے۔ اس دور میں زلفی نامی گل کی قدر نہ کی گئی اور بین الاقوامی سرپرستی میں محکمہ زراعت نے زلفی نامی گل پر ایسا اسپرے کیا، کہ اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا۔ لیکن عوام کے دل سے زلفی کی محبت نہ نکالی جاسکی اور وہ زلفی سے محبت کرتے رہے۔ زلفی کے توڑ کے لیے لسانی و علاقائی، مذہبی و مسلکی قسم کے خاردار سیاسی گل بوٹے کھلائے گئے۔
1985ء میں محکمہ زراعت کے تعاون سے بنا نام کے گل بوٹوں کی سیاسی کاشت کاری کی گئی اور بنا پیندے کے لوٹوں سے ان کی آب یاری کی گئی۔ فی الوقت وطن عزیز میں خاردار اور بنا خاردار گل بوٹے بمع بنا پیندے کے لوٹوں ملکی سیاست کے میدان میں چھائے ہوئے ہیں۔ 1985 ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد قوم کو یونانی جڑی بوٹی سے مشابہ نونی نامی دیسی جڑی بوٹی کا تریاق پلا کر قوم میں پائے جانے والے لبرل ازم کے جرثومے کا توڑ کیا گیا۔ علاج کامیاب رہا اوراس علاج کا سب سے زیادہ اثر ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی آبادی پر ہوا اور صوبہ پنجاب کی ایک بڑی آبادی اس بوٹی کے نشے میں ہنوز مست ہے۔
زیادہ نشے میں رہنا بھی کسی سیاسی رہنما اور قوم کے حق میں اچھا نہیں ہوتا ہے، کیونکہ نشے میں رہنے کی وجہ سے بندہ کبھی بھی نظریاتی اور لبرل ہوجاتا ہے۔ محکمہ زراعت کا کام یہی ہے، کہ ہر اس سیاسی جڑی بوٹی پر نظر رکھے، جو محکمے کی ہدایات کو نظر انداز کرے اوراپنی شاخیں ادھر ادھر ان کی مرضی کے بغیر پھیلائے۔ نونی نامی جڑی بوٹی گزشتہ دس سال سے صوبہ پنجاب اورپانچ سال سے وفاق میں اپنی جڑیں مستحکم کر رہی ہے۔ محکمہ زراعت کا کام مسلسل گوڈی کرتے رہنا ہے، محکمے کی طرف سے اس دفعہ جو گوڈی کی گئی ہے، اس سے نونی نامی جڑی بوٹی کو نا قابل تلافی نْقصان پہنچا اور اب محکمے کی جیپیں نونی جڑی بوٹی کو روندنے کو تیار ہیں۔
نونی نامی جڑی بوٹی کی آب یاری جن بنا کے پیندے لوٹوں سے کی جارہی تھی، وہ لوٹے اب تبدیلی نامی جڑی بوٹی کی آب یاری میں مگن ہیں۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، کہ تبدیلی نامی جڑی بوٹی عوام کی قسمت بدلنے میں کامیاب ہوگی بھی کہ نہیں، کیونکہ محکمہ زراعت ہر وقت نت نئی تحقیق پر آمادہ رہتا ہے اور نت نئے تجربات کرتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک وطن عزیز اور عوام کی حالت میں کوئی مثبت اورمستحکم تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ بچپن سے معاشرتی علوم کی کتاب میں پڑھتے آئے ہیں، پاکستان ایک زرعی ملک ہے، عمر عزیز کے اس حصے میں پہنچ کر ادراک ہوا ہے، کہ محکمہ زراعت کی وطن عزیز کے لیے کیا گراں قدر خدمات ہیں اور کس قسم کے گل بوٹے اور لوٹے قوم کی قسمت میں لکھ دیے گئے ہیں۔


