کیا ترکی سیکولرازم سے مذہبی ریاست کی جانب گامزن ہے؟


24جون 2018ء کو ترکی میں گرینڈ ٹرکش نیشنل اسمبلی کی چھے سو سیٹوں اور صدر کے لیے انتخابات ہوئے۔ یہ انتخابات ترکی کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ الیکشن گزشتہ سال ہونے والے ریفرنڈم کے بعد منعقد کیے گئے۔ گزشتہ سال اپریل کے ریفرنڈم میں 2003ء سے حکومت میں رہنے والے وزیراعظم اور صدر جناب رجب طیب اردوآن نے 18 آئینی ترامیم کو منظور کروانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اپریل 2017ء میں اس ریفرنڈم میں انہوں نے صرف ڈیڑھ فیصد ووٹوں سے یہ کامیابی حاصل کی۔ ہمارے ملک اور دیگر اسلامی ممالک میں صدر طیب اردوآن کو ترکی اور اسلامی دنیا میں انہیں مذہبی حوالے سے ایک مذہبی لیڈر کے طور پر لیا جاتا ہے جوکہ سراسر غلط خبر ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال ہونے والے ریفرنڈم میں اُن کی کامیابی ترکی کی نہایت تنگ نظر قوم پرست جماعت ملی حرکت پارٹی کے مرہون منت ہے جو صرف سیکولر نظریات کی بھرپور علمبردار ہی نہیں بلکہ اتاترک کو سیاست، ترکی اور ترکوں کا باوا آدم مانتی ہے۔

ملی حرکت پارٹی کے قائد دولت بہچلے کُردوں کے خلاف سخت گیر موقف کے حامی کے طور پر ترک قوم پرستی کی تعریف میں کُردوں کو علیحدگی پسند قرار دیتے ہوئے انتہائی موقف رکھتے ہیں۔ لہٰذا حالیہ انتخابات میں جہاں اسمبلی کی نشستیں ساڑھے پانچ سو سے بڑھا کر چھے سو کر دی گئیں، ووٹر کی عمر اٹھارہ سال کردی گئی، ساتھ ہی صدر کو گزشتہ سال ریفرنڈم کے ذریعے جو اختیارات میسر ہو ئے، اس نے ترکی کو پارلیمانی سے مرکزیت پسند صدارتی نظام میں ڈھال دیا ہے۔ ایک ایسا صدارتی نظام جس میں صدر کے پاس اسمبلی کو توڑنے، وزرا نامزد کرنے اور نائب صدر نامزد کرنے کے علاوہ، جرنیلوں، ججوں اور اعلیٰ سرکاری عہدوں کی نامزدگی کے کُل اختیارات میسر ہوگئے ہیں۔ کابینہ میں وزیر کی نامزدگی کے لیے لازمی ہے کہ وہ رکن قومی اسمبلی نہ ہو۔ اگر وہ رکن قومی اسمبلی ہے تو اسے استعفیٰ دینا پڑے گا۔

صدر طیب اردوآن صدارتی امیدوار کے طور پر اپنی پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اور ملی حرکت پارٹی کے مشترکہ امیدوار تھے۔صدر کے لیے لازمی تھا کہ وہ پچاس فیصد ووٹ حاصل کرے، بصورتِ دیگر دوسرے راؤنڈ میں پہلی دو پوزیشنز لینے والے امیدوار حصہ لیتے اور یوں دوسرے راؤنڈ میں برتری لینے والا صدر منتخب ہوجاتا۔ صدر طیب اردوآن، ترکی کی سیاسی تاریخ کے سب سے خوش نصیب حکمران ہیں، جن کی جھولی میں ایک بھی انتخابی شکست نہیں اور یوں وہ 2.38فیصد زیادہ ووٹ لے کر پہلے راؤنڈ میں ہی کامیاب ہوگئے اور اُن کے مدمقابل چار اہم صدارتی امیدواروں کو شکست ہوگئی۔ دوسرے نمبر پر اتاترک کی بنائی ہوئی سوشل ڈیموکریٹک نظریات رکھنے والی ترکوں کی روایتی پارٹی (ریپبلکن پیپلزپارٹی) کے امیدوار محرم اینجے نے 31فیصد ووٹ حاصل کیے۔ صدر طیب اردوآن اگر تنگ نظر قوم پرست ملی حرکت پارٹی سے اتحاد نہ کرتے تو وہ گزشتہ سال ہونے والا ریفرنڈم نہ جیت پاتے اور نہ ہی حالیہ صدارتی انتخاب میں۔ اس طرح حالیہ قومی اسمبلی میں اُن کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی واضح اکثریت لینے میں ناکام رہی۔ مگر اتحادی پارٹی کی 49سیٹیں اُن کے ساتھ شامل رہیں تو اسمبلی میں حکمران جماعت یا طیب اردوآن کی جماعت اکثریت برقرار رکھے گی۔

اب ایک اہم بات جس کا پاکستان اور دیگر اسلامی دنیا میں بڑا چرچا ہے کہ طیب اردوآن ، ترکی کو سیکولرازم سے ایک مذہبی ریاست بنانے میں گامزن ہوجائیں گے۔ اسی لیے ہمارے ہاں مذہبی سیاسی جماعتوں میں خوشیوں کے میلے سج گئے ہیں۔ صدر کو تمام اختیارات ملنے کے بعد ریفرنڈم کے تحت 18آئینی ترامیم کے بعد بھی قومی اسمبلی ہی ملک میں آئینی تبدیلیاں کرنے کا حق رکھتی ہے۔ طیب اردوآن کے اتحادی دولت بہچلے جو سیاسی سودے بازی، حکمرانی میں شرکت، اتحاد اور عین وقت پر اتحادی کو چھوڑ کر یکایک اپنے فیصلوں کے اعلان کرنے کی ایک تاریخ رکھتے ہیں، اُن کا طیب اردوآن کے ساتھ اتحاد دو اہم سیاسی نکات پر ہے۔ ایک مذہبی سیاست کا قلع قمع کرنا، اسی لیے فتح اﷲ گُلین اور اُن کے حمایتیوں کو دہشت گرد قرار دے کر سخت کارروائی کی گئی ہے، جس میں دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی صدراردوآن کی حمایت کی۔ دوسرا اہم نکتہ، تنگ نظر قوم پرست اتحادی کی خواہش کے مطابق علیحدگی پسند کُردوں کے خلاف سخت فوجی آپریشن۔

اسی لیے ہم دیکھ رہے ہیں کہ 2016 ء میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد طیب اردوآن ترک سیاست میں سخت گیر ترک نیشنل ازم کا موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ نہ صرف ترکی کے اندر علیحدگی پسند کُرودوں کے خلاف فوجی آپریشن تیز کیا گیا ہے بلکہ سرحدوں کے پار، شام اور عراق کے اندر بھی۔ اس حوالے سے ترکی میں طیب اردوآن کی ترک قوم پرستوں میں مقبولیت برقرار رہنے کا جواز پیدا ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے ترکی کی اندرونی سیاسی صورتِ حال کا بغور مطالعہ کیے بغیر ترک سیاست کا اپنا بیانیہ اپنی خواہشات کے مطابق طے کیا ہے۔ جہاں تک بات رہی طیب اردوآن کے اسلامی دنیا میں مقبول ہونے کی، اس کی وجہ پچھلے سولہ سال سے اقتدار میں رہنے اور اس دوران ترکی کی معاشی ترقی کے ساتھ ترکی کا نیا علاقائی کردار تو ہے مگر حکمران جماعت مسلم دنیا کی بے سہارا قوموں کے اندر اپنی حمایت پیدا کرکے اپنے قائد کا اسلامی دنیا کے قائد کے طور پر تصور ابھارنے کو گھاٹے کا سودا نہیں سمجھتی۔ اس سارے معاملے کا کم ازکم 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد طیب اردوآن کا بحیثیت ترک قوم پرست سیاسی موقف اپنانے سے شاید ہی کوئی تعلق بچا ہے یعنی اسلامی شناخت۔

صدر طیب اردوآن کو اب ایک مشکل ترکی کا سامنا ہے۔ گو اُن کا نعرہ نئے ترکی کا ہے، مگر جو ترکی اُن کو 2003ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ملا، اُس ترکی اور اِس ترکی میں نمایاں فرق ہے۔ 2003ء میں ترکی مزید جمہوریت کی طرف گامزن تھا، ٹیک آف کرتی معیشت اور خطے میں امن برقرار رکھتے ہوئے علاقائی تنازعات میں نہ الجھنے والا ترکی، اُس وقت وہ ترکی تھا جس نے عراق جنگ اپنے اتحادی امریکہ کو اپنے ملک کی سرحدوں سے عراق پر حملے کی اجازت نہیں دی۔ آج کا ترکی، سکڑتی جمہوریت، لڑکھڑاتی معیشت اور خطے میں تنازعات میں بری طرح الجھا ترکی ہے۔ اس لیے اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلزپارٹی کے اعلیٰ ترین عہدے داروں سے جب میں نے الیکشن کے بعد رابطہ کیا تو انہوں نے جہاں اپنی شکست کو تسلیم کرکے جمہوری سفر اور جمہوریت کو جاری رکھنے کے عمل پر مزید یقین کا اظہار کیا، وہیں اُن کا موقف یہ تھا کہ طیب اردوآن اب اِس مشکل ترکی کو اپنے وسیع تر اختیارات سے معاشی، جمہوری، عوامی، فلاحی اور خودمختار ملک کے طور پر ثابت کر کے دکھائیں۔

اہم اور قابل غور بحث یہ ہے کہ آج کا ترکی اُن کی حکمرانی میں ابھرا، معاشی ترقی کے پہلے پانچ چھے سالوں کے علاوہ موجودہ ترکی اب ایک مشکل ریاست ہے۔ اب یہ کہا جائے کہ اُن کو ورثے میں مشکلات ملیں اور یہ کہ بیرونی طاقتوں نے اُن کے خلاف سازشیں کیں، تو یہ ایک Schizophrenic بیان ہے۔ اُن کے سولہ سال اقتدار میں ہی یہ ’’آج کا ترکی‘‘ ابھرا ہے۔ اس پر اپوزیشن نے جہاں کھلے دل سے شکست کو تسلیم کیا، وہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ ہم طیب اردوآن کے ساتھ مل کر ترکی کو آگے لے جانا چاہیں گے، مگر اسی کے ساتھ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ ہم صدر کو ملنے والے لامحدود اختیارات کی واپسی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

صدر طیب اردوآن کے لیے شاید یہ ایک چیلنج ہوکہ اُن کے مدمقابل محرم اینجے ایک پاپولر لیڈرکے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ مگرترکوں کے لیے وہ ایک متبادل امید بن کر سامنے آئے ہیں۔ محرم اینجے اپنی پارٹی کے سربراہ نہیں بلکہ ایک عام رکن اسمبلی رہے ہیں۔ انہوں نے پچاس دن کی انتخابی مہم میں ترکی میں ایک مقبول، جرأت مند، مدبر، سوشل ڈیموکریٹ، تحمل رکھنے والے لیڈر کے طور پر شناخت بنائی ہے۔ صرف پچاس دنوں میں۔ جبکہ اُن کے مدمقابل سولہ سال تک حکمرانی کرنے والے طیب اردوآن تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محرم اینجے اپنی ہی جماعت میں بلند ایجوت مرحوم کے بعد اکتالیس سالوں میں پہلے مقبول ہونے والے 54سالہ لیڈر ہیں جبکہ اُن کے مدمقابل طیب اردوآن زندگی کے 64برس عبور کر چکے ہیں۔ محرم اینجے نے ازمیر میں تیس لاکھ، انقرہ میں دس لاکھ اور استنبول میں پچاس لاکھ کے جلسوں سے خطاب کیا جن کا نظارہ خود طیب اردوآن نے بھی جہاز سے کیا۔ ترکی کی سیاست پر مکمل گرفت رکھنے والوں کو علم ہے کہ ترکی میں انتخابی نظام نہایت منظم ہے۔ اس لیے ووٹوں کے اعداد وشمار اور جلسوں کے شرکا کی تعداد بہت سائنٹفک انداز میں شمار کی جاتی ہے۔ طیب اردوآن جن کے مقابل اُن کی اپنی پارٹی اور اپوزیشن سے بھی پچھلے سولہ سالوں میں کوئی مقبول لیڈر نہیں ابھرا، اب اُن کے سامنے ایک کرشمہ ساز لیڈر کا ظہور یقینا جہاں جمہوریت اور ترکی کے لیے امید ہے، مگر وہ اردوآن کے مقابل ایک چیلنج ضرور ہیں۔

طیب اردوآن کی پارٹی نے 41فیصد ووٹ لیے ہیں، اُن کی اتحادی پارٹی کے ووٹ نکال کر۔ جبکہ محرم اینجے نے 31 فیصد۔ بس اندازہ کریں کہ کتنا فرق ہے۔ شکست کے بعد اپنی پہلی تقریر میں محرم اینجے نے جہاں اپنی شکست کو تسلیم کیا ہے، وہیں دیگر تین اہم باتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے افسوس ہے کہ میں ترکوں میں اپنا اعتماد قائم کرنے میں ناکام رہا ہوں، دوسری بات کہ طیب اردوآن میرے اور میرے ملک کے صدر ہیں، صرف اپنی ہی پارٹی کے نہیں، اور سب سے اہم بات کہ میں اب ملک کے کونے کونے میں جاکر وہاں اپنا اعتماد بناؤں گا جہاں لوگوں سے مجھ پر اعتماد نہیں کیا۔

اگلے دوتین ماہ طیب اردوآن کی نئی حکمرانی کا امتحان ہیں۔ اس فتح میں ہنی مون کے پہلے سو دنوں کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اگر وہ ترکی کو درپیش نئے چیلنجز کا سامنا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو 2023ء میں ممکن ہے آج سے بہتر ترکی بننے میں کامیاب ہوجائے۔ مگر اِن تمام چیلنجز کے ساتھ ساتھ نئے عوامی لیڈر (محرم اینجے) کا ظہور، اُن کے لیے کوئی چھوٹا چیلنج نہیں۔ اور آخری بات صدر طیب اردوآن کوسب سے بڑی مشکل سے دوچار، بے وقت یا مشکل وقت میں اُن کی اپنی اتحادی پارٹی ملی حرکت پارٹی ہی کرے گی جو اُن کے ہروقت اقتدار کا پُل صراط بنی رہے گی۔

فرخ سہیل گوئندی، اس وقت ترکی میں مقیم ہیں۔ وہ معروف کالم وسفرنامہ نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ قومی، علاقائی اور عالمی سیاست ان کے موضوعات میں سرفہرست ہیں۔ ان کا شمار پاکستان کے ترقی پسند دانشوروں میں ہوتا ہے۔ پچاس سے زائد ممالک کی سیاحت ان کی مشاہداتی صلاحیت کا سبب ہے۔

Facebook Comments HS