میرا لاکھوں کا ساون جائے


موسم کے اثرات انسانی رویوں پر بہت زیادہ پڑتے ہیں، خوشگوار موسم مزاج خوش کردیتا ہے، برسات کا موسم دل میں انجانی خوشی بھر دیتا ہے لیکن برا ہو نیوز چینل والوں کا خوبصورت رم جھم ساون کو اپنی لفاظی سے اتنا ڈراؤنا بنادیتے ہیں کہ اچھا خاصا رومانی بندہ حیوانی بن جاتا ہے۔ موسم سے لطف لینے کے بجائے خبروں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک جب صرف ایک چینل تھا خبروں کا وقت مقرر تھا نہ کوئی بریکنگ نیوز کے لیے بے چین ہوتا تھا نہ کوئی ریموٹ سے چینل پر چینل بدلتا تھا۔ صبح کے گئے مرد گھر سے خدا حافظ کہہ کر نکلتے تو آفس پہنچ کر خیریت کی اطلاع دیتے وہ بھی اس صورت میں جب پی ٹی سی ایل فون گھر پہ لگا ہو، ورنہ تو گھریلو خواتین اپنے کام دھندوں میں مگن ہوجاتیں اور گھر والے کی واپسی تک سارا کام ختم کرکے لذیذ کھانوں کے ساتھ خود بھی تیار ملتیں، کسی کو پل پل کی خبر کی پرواہ نہیں تھی لوگ اخبار پڑھ کر پر سکون ہوجاتے تھے۔

اس وقت بھی طوفانی بارشیں ہوتیں تھیں اس وقت بھی حادثات ہوتے تھے لیکن یہ ہیجان یہ دماغی پریشانی نہ تھی اب تو سب کو فکر ہوتی ہے کہ اگلی خبر کیا ہوگی جبکہ نیوز چینل انہی خبروں کو نیا تڑکا لگا کر پیش کر رہے ہوتے ہیں اور لوگ ان کو سن سن کر ہول رہے ہوتے ہیں۔ موسم سے لطف اندوز ہونا تو دور کی بات فکر پڑ جاتی ہے کہ گٹر بند نہ ہوجائے، بجلی نہ چلی جائے، فلاں جگہ چھت گر گئی فلاں جگہ کرنٹ سے بندہ مر گیا۔ حادثات کہاں نہیں ہوتے زندگی حادثات کا نام ہے، لیکن جس طرح ہمارا میڈیا دہشت پھیلاتا ہے تو ساون کے جھولے تو کیا ساون سے ڈر لگنے لگتا ہے۔ بچہ بچہ بارش رکنے کی دعا مانگنے لگتا ہے، اب موسم سے خاک لطف اٹھائیں گے۔

کوئل کی کوہو کوہو اور پپہیے کی پی ہو پی ہو ساون کے موسم کی نوید ہوتی تھی، ساون وہ موسم جو سوکھے تنکے میں جان ڈال دے، کالی گھٹائیں گھر گھر آئیں تو دل والے اپنا دل تھام کر رہ جائیں، ایک زمانہ تھا ساون کا انتطار کیا جاتا تھا تاکہ رج کے ساون کے پکوان بنائے جائیں، بارش کا پہلا چھینٹا ذہن ودل میں سرور پیدا کردیتا تھا، جھولے ڈالے جاتے، لڑکیاں بالیاں رنگ برنگ ملبوسات میں کھلکھلاتی پینگیں بڑھاتیں، بڑی عمر کی خواتین پکوڑے، گلگلے، پوریاں، گجیاں تلتیں اور ساتھ ساتھ لے میں گنگناتی جاتیں

اماں میرے باوا کو بھیجو جی کہ کے ساون آیا

اس طرح کے ساون کی کہانیاں بڑوں سے سنتے تھے لیکن ہم بھی ساون کا بھر پور استقبال کرتے تھے، پکوان تو اسی طرح بنتے، رم جھم پھوار میں ساحل سمندر کی تفریح دنیا کی سب سے بڑی نعمت لگتی، گھر میں آلو کے پراٹھے، چٹنی، پکوڑے گلگلوں سے لطف اٹھاتے۔ حتی المقدور بارش میں نہاتے بھی تھے۔ قسمت سے صبح سویرے بارش شروع ہوتی تو اجتماعی چھٹی کرکے بارش کا لطف اٹھاتے، آموں کو بارش کے پانی میں دھو دھو کو چوسا جاتا، آم ختم ہوجاتے پیٹ بھر جاتا پر نیت نہ بھرتی، اگر بارش دوپہر میں ہوتی تو اسکول کالج میں دوستوں اور ٹیچرز کے ساتھ موسم کے مزے لیتے، جلدی چھٹی کروا کر گھر کی راہ لیتے۔ آفس جانے والے بھی موسم کے تیور دیکھ کر گھر کی راہ لیتے، سب گھرت والے آجاتے تو شکرانہ ادا کیا جاتا لیکن کبھی بارش رکنے کی دعا یا بارش کو زحمت کہنے کی نوبت نہ آتی۔

شاید ہم مشینی ہو گئے ہین ہر گھنٹے بعد نیوز سننا، سیل فون پر پل پل کی خیریت پتہ کرنا، مائیں بچوں کے لیے فکر مند، بیویاں شوہروں کے لیے پریشان، کسی کو ہوش نہیں کہ موسم کی پہلی بارش ہے لطف اٹھائیں ، بلکہ بچوں کو زبردستی گھر کے اندر بند کرکے بارش کے نقصانات اور خطرات سے ڈرانا۔ اب خود فیصلہ کریں ہم کہاں تک درست ہیں ہم نے نیچر سے اپنے آپ کو کتنا دور کر لیا ہے، ہم تو اب بھی یہی کہیں گے

تیری دو ٹکیاں دی نوکری
میرا لاکھوں کا ساون جائے

Facebook Comments HS