ووٹ کیوں دوں اور کس کو دوں؟ 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

لگی ہے پھر صدا ایک بار کہ سر دار بدلے گا
فرعونی سلطنت کا بس ایک کردار بدلے گا
جس قوم کو خود پر جبر سہنے کی عادت ہو
وہاں کب کچھ بدلہ ہے جو اس بار بدلے گا

کراچی سے لے کر خیبر تک سیاست دانوں کی درگت بننے کا کھیل جاری ہے۔ یہ عوامی نمائندے جب اپنے علاقوں میں جاتے ہیں تو لوگوں کی خوب جلی بھنی سننے کو ملتی ہے۔ آخر بیچارے لوگ اور کریں بھی تو کیا، یہی وہ نمائندگان ہیں جنہوں نے پانچ سال میں کوئی کام نہیں کیا اور آج ایسے ووٹ مانگنے آگئے ہیں جیسے ان سے بڑا کوئی مسیحا نہیں۔

جب کسی کے پا س ضرورت سے زیادہ دولت شہرت اور عزت آ جائے تو وہ اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ یہی حال ہمارے سیاست دانوں کا ہے۔ سیاست دان وہ لوگ ہیں جنھیں ہم اپنے ووٹ کی طاقت سے منتخب کرتے ہیں۔ جب ہمارے سیاست دان ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں پہنچ جاتے ہیں تو باقی تمام کام کرتے ہیں لیکن غریب عوام کے بارے میں نہیں سوچتے اور سوچیں بھی کیوں غریب بیچارہ انہیں اپنے ووٹ کے سوا دے بھی کیا سکتا ہے؟

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ان سیاست دانوں کو لوٹتے ہی دیکھا ہے۔ سوچتا تھا قائداعظم یہ ملک انسانی خدمت کے لئے بناکے گئے ہوں گے لیکن جب تاریخ پر تھوڑی بہت نظر ڈالتا ہوں تو اسکندر مرزا سے لے کر شاہد خاقان عباسی تک سارے صرف مال بٹور نے کے لئے اقتدار پر قابض ہوئے۔ محکمہ زراعت کے بیوپاری بھی اس لوٹ مار میں برابر کے شریک ہیں۔

کہتے ہیں ووٹ امانت ہوتا ہے دینا چاہیے۔ ووٹ کی طاقت سے تبدیلی آتی ہے۔ ارے کیا کدو تبدلی آتی ہے۔ ہمارے یہا ں تو باپ کی جگہ بیٹا لے کر وہی پرانا چورن نئی پیکنگ میں بیچ رہا ہوتا ہے۔ یہ سارے حالات دیکھ کر میر ا دل تو نہیں چاہتا کسی کو ووٹ دینے کو اور کیسے چاہے؟ پڑھائی کی پرائیوٹ اسکول میں باپ مرا پرائیوٹ ہسپتال میں نوکری وہ بھی پرائیوٹ جگہ پر ٹیکس ایسے کاٹ رہے ہیں جیسے میری کمائی مجھے سود سمیت واپس کریں گے۔ پانی تک تو دے نہیں سکتے وہ بھی ٹینکر ڈلوا کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں سیاست دانوں کا رویہ عوام کے ساتھ افریقہ سے لائے گئے غلاموں کا سا ہے، ہمارے حاکموں کے مطابق انسان کی زندگی میں بنیادی مسائل غذا، مکان اور تحفظ کا ہوتا ہے اور غلاموں کو ان میں سے کسی کی فکر نہیں کرنی پڑتی، کیونکہ غلامی میں ان سب کا ذمہ دار ان کے آقا ہوتے ہیں اور اگر ان میں آزاد جینے کی تمنا بھی پیدا ہوتی تو انہیں ایسے سزائیں، پابندیاں اور مجبور کرتے ہیں کہ وہ کبھی بھی ایسے اقدام نہیں اٹھاتے۔ انہیں نشان عبرت بنا دیتے ہیں۔ آج کے میڈیا نے انسانی شعور کو بہت وسیع کر دیا ہے آج چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر کوئی سوال کررہا ہے۔ غلامی دادا سہہ سکتا ہے، باپ سہہ سکتا ہے مگر بیٹا نہیں، وہ بول اٹھتا ہے، مذاحمت کرتا ہے، تشدد سہتا ہے، وہ اپنی شناخت کے لئے جبر و ظلم سہنے کو آرام دہ زندگی پر فوقیت دیتا ہے۔

2018 کے الیکشن کا بگل بج گیا ہے ہر سیاسی پارٹی بریانی کھلا کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ میاں نواز شریف جن کو اس آنے والے الیکشن سے آؤٹ کر دیا گیا ہے ووٹ کو عزت دو کے نعرہ کے ساتھ سرگرم ہے ارے میاں صاحب پہلے ووٹر کو تو عزت دے لو۔ سالوں سے پنجاب کے اقتدار پر قابض شہباز شریف کہتے ہیں اگر موقع ملا تو چاند اتار کر زمین پر لے آؤں گا چھوٹے میاں کو کوئی سمجھائے بول بچن بند کریں۔ عوام نے آپ کی ڈرامے بازی خوب سمجھ لی ہے۔

میر ا کزن گھر ملنے آیا بہت خاموش لگ رہا تھا۔ میں نے پوچھا کیوں خاموش ہو۔ کہنے لگا کپتان نے لوٹوں اور الیکٹیبلز کو ٹکٹ دے کر مایوس کیا میں نے ازراہ مذاق کہا تم ہمیشہ کہتے تھے کپتان اگر گدھوں کو بھی کھڑا کر دے گا تو ووٹ دو گے۔ لو اب کپتان نے گدھے کھڑے کر دیے ہیں اب ووٹ دو۔ تبدیلی کے دعویدار عمران خان 25 سال سے کہتے پھر رہے ہیں یہ نظام چوروں اور ڈاکوؤں کا ہے لیکن خان ان لٹیروں کے ساتھ کیسے تبدیلی لاتا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے۔ کپتان کے کھلاڑیوں کی پر فارمنس کے پی کے میں مثالی نہیں رہی لیکن کپتان خود اقتدار میں بھی نہیں رہا ہے اس لئے کپتان کے اقتدار کی کوئی مثال دینا قبل ازوقت ہوگا۔

پیپلز پارٹی جس نے اپنے گھر کا بیڑا غرق کر دیا وہ ملک کے حالات کیا اچھے کرے گی۔ زرداری صاحب جو کبھی مسٹر 10 پرسنٹ کے نام سے مشہور تھے آج منجن بیچنے کے لئے بلاول کو سامنے لے آئے ہیں۔ جو لوگ کراچی کا کچرا نہیں اٹھا سکے اندرون سندھ بنیادی ضروریات نہیں پہنچا سکے ان لوگو ں سے کوئی اچھے کی توقع کیسے رکھے؟

جماعت اسلامی، متحدہ مجلس عمل، پین دی رسری یا کوئی اور مذہبی جماعت اسلام کے نام پر سیاست کرتی ہے۔ اسلام درس ہی انسانی خدمت کا دیتا ہے لیکن یہ مذہبی جماعتیں انسانوں کی خدمت کیا کریں گی جن میں کرپٹ عناصر کی موجودگی کا سب کو علم ہے۔ ایم ایم اے بڑی توندوں والے رہنماؤں کو دیکھ کر کسی نے متحدہ مجلس عمل کو متحدہ مجلس حمل ہی قرار دیدیا ہے۔

پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ایک پاکستانی سیاستدان دو یا دو سے زائد حلقوں سے بیک وقت الیکشن لڑ سکتا ہے، مگر ایک پاکستانی شہری دو حلقوں میں ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ ایک شخص جو جیل میں ہے ووٹ نہیں دے سکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان جیل میں ہونے کے باوجود بھی الیکشن لڑ سکتا ہے۔ ایک شخص جو کبھی جیل گیا ہو کبھی سرکاری ملازمت نہیں حاصل کرسکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان کتنی بار بھی جیل جا چکا ہو، صدر، وزیراعظم، ایم پی اے، ایم این اے یا کوئی بھی عہدہ حاصل کر سکتا ہے۔ بینک میں ایک معمولی ملازمت کے لئے آپ کا گریجویٹ ہونا لازمی ہے مگر ایک پاکستانی سیاستدان فنانس منسٹر بن سکتا ہے چاہے وہ انگوٹھا چھاپ ہی کیوں نہ ہو۔

اگر کسی سیاستدان کے پورے خاندان میں کوئی کبھی اسکول گیا ہی نہ ہو تب بھی وطن عزیز میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اسے وزیر تعلیم بننے سے روک سکے اور ایک پاکستانی سیاستدان پر اگرچہ ہزاروں مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہوں وہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا وزیر داخلہ بن کر سربراہ بن سکتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی خیر کی توقع رکھنا کسی دیوانے کے خواب دیکھنے سے کم نہیں۔ سب سے مزہ کی بات جو مجھے لگتی ہے کوئی بھی سیاست دان پاکستان کے کسی بھی حلقے سے کھڑا ہو کر الیکشن لڑ سکتا ہے جیسے عمران خان، شہباز شریف کراچی سے لڑ رہے جن علاقوں سے یہ الیکشن میں حصہ لے رہے ان کے یہ بنیادی مسائل تک نہیں جانتے ہوں گے ان میں ایک صاحب اسلام آباد میں او ر دوسرے لاہو ر میں رہتے ہے۔ جن علاقوں سے یہ لوگ الیکشن سے حصہ لے رہے ہیں وہا ں کے لوگوں کی ان تک رسائی کیسے ہوگی وہ اپنے غم ان کو کیسے سنائیں گے عوام اس گتھی کو سلجھانے سے بھی قاصر ہیں۔

ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں جمہوری نظام حکومت ہے او ر اس نظام میں تبدیلی صرف ووٹ کے ذریعے آسکتی ہے۔ یہ نظام برا نہیں ہے دنیا بھر میں ایسے ممالک موجود ہے جہاں جمہوری نظام حکومت نے انسانوں کو بہتر زندگی فراہم کی ہے۔ ظاہر ہے ان اقوام نے اپنے ووٹ کا صیح استعمال کیا جس کی بدولت تبدیلی ممکن ہوئی۔ پاکستان میں بھی یہ تبدیلی لائی جا سکتی ہے اگر ہم اپنا ووٹ ایک نوکری کی خاطر، رشتہ داری کی خاطر، ہم زبان، اور ہم عقیدہ ہونے کی خاطر نہ دیں تو۔ ہمیں دور اندیش ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے ماضی او ر حال میں درپیش مشکلات اور مسائل کو سامنے رکھنے کی ضرروت ہے، ہمیں ایک روشن مستقبل کے لئے ووٹ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سیاسی غنڈہ گردی کا جواب سوچ بیچار سے دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اصلی او ر کھوٹے سکوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ووٹ کا صحیح حقدار وہ ہے جو ہمارے مسائل کو سمجھ کر ان کو حل کرنے کی کوشش کرے جو ہمیں ہماری کھوئی شناخت دلانے کی بات کرے نہ کہ دو وقت کی روٹی بھی چھین لے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں