نفسیاتی مسائل، منشیات اور خودکشی


10جون 1997۔ نانی کے انتقال کو چار دن گزر چکے تھے۔ گھر میں تعزیت کا سلسلہ جاری تھا۔ تعزیت گاہ میں موجود خواتین کے پورشن میں ایک لڑکا آکر اطلاع دیتا ہے۔ ‘ فاتو نہر میں ڈوب گئی ہے‘۔ بوڑھی اماں حاجرہ بے معنی تعزیت گاہ سے اٹھ جاتی ہے لڑکھڑاتی ہے اپنے آپ کو لعنت و ملامت کرتی ہوئی اُس مقام پر پہنچتی ہے جہاں فاتو نہیں اس کی اپنی لاش رکھی ہوتی ہے۔ یہ منظر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ اس کی بڑی بہن زرّو لاش کے قریب بیٹھی رو رہی ہوتی ہے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ لاش آس پاس مجمع کھڑا ہے اور حاجرہ سب کے سامنے زرّو کو لعنت و ملامت کرنے میں مصروف ہیں ’فاتو کی موت کا سبب تم ہو تم‘۔ زرّو خاموش فقط روتی چلی جا رہی ہوتی ہے۔

جس وقت فاتو کو غسل دینے کا اہتمام کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اُسی گھر سے شور بلند ہوتا ہے ’زرّو نے خودکشی کی ہے‘۔ زرّو نے خودکشی کیوں کی؟ خودکشی کے اصل محرکات بھلا اور کیا ہو سکتے ہیں زرّو اگر زندہ بھی رہتی تو ماں اور سماج کے طعنے اسے کہاں زندہ رہنے دیتیں۔ سو زرّو نے سب کے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے نجات کا واحد ذریعہ ’خودکشی‘ میں ڈھونڈ نکالا۔

واقعے کو 21 سال گزر گئے واقعہ اب بھی میرے حافظے میں پیوست ہے۔ فاتو چلی گئی تھی زرّو کو بچایا جا سکتا تھا۔ جیتی جاگتی زرّو کوسماج کے اٹھتے اور چبھتے سوالات نے پھانسی کا پھندہ گلے میں لگانے پر مجبور کیا۔ ایک ہی گھر سے جب دو لاشیں اٹھیں تو محلے میں کہرام مچ گیا۔ ہم نانی کا غم بھلا کر ایک اور اذیت میں مبتلا ہوگئے۔ یہ اذیت، دکھ اور تکالیف کے منظر آج بھی نظروں کے سامنے گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے بعد نہ جانے کتنے واقعات رونما ہوئے۔ انسان ان رویوں کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کو داغِ مفارقت دے گیا۔ سات سال قبل میرے والد وہی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے جو زرّو اٹھا چکی تھی۔ والد سے احساس کا رشتہ تو بچپن سے ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ خودکشی کے محرکات کیا ہو سکتے تھے۔ یہ سوال آج تک میرے ذہن سے اٹھتا ہے اور وہیں دفن ہو جاتا ہے۔ ناتہ اس سے اس وقت کٹ کر رہ گیا تھا جب میں چھ ماہ کا تھا۔ ماں سے علیحدگی ہوئی تو میرا وجود ماں کے حصے میں آگیا۔ زندگی نے نہ جانے کتنے سال کاٹ کر گزارے۔ نہ وہ اپنے دل میں میرے لیے باپ کی شفقت کا احساس جگا پایا اور نہ ہی مجھے کبھی بیٹے کے رشتے کا احساس دلا پایا۔

کہا جاتا ہے کہ خودکشی سے قبل وہ منشیات کا عادی ہو چکا تھا اور نشہ آور گولیاں استعمال میں لاتا تھا۔ سماج سے کٹ کر رہ گیا تھا۔ سماج پر اپنے آپ کو بوجھ سمجھ بیٹھا۔ دوسری بیوی اور بچے پھانسی کا پھندا گلے لگانے سے اسے روک نہیں پائے وہ چل دیا۔ احساس کے رشتے کا جنازہ کب کا اٹھ چکا تھا فقط جسمانی طور پر دفنانا باقی تھا سو ہم نے کندھا دے کر ایک دنیاوی رسم نبھایا۔

ایک ماہ قبل آواران سے ہی خبر آئی کہ نشے میں مبتلا امیر بخش نے گھریلو طعنوں سے تنگ آکر خودکشی کر لی ہے۔ جو طریقہ قادربخش اور زرو نے اپنا یا۔ گھریلو حالات سے تنگ امیر بخش کو نجات کا واحد ذریعہ پھانسی کا پھندا گلے میں لگانے میں نظر آیا۔ امیر بخش نجات دہندہ ثابت ہوا۔ اور گھر والے قاتل کا نام ڈھونڈتے ڈھونڈتے رہ گئے۔

ایک میرا کلاس فیلو تھا امتیاز۔ روزگار کی تلاش نے دبئی کے سرحدوں کی سیر کرائی۔ امتیاز کو دبئی راس نہ آئی۔ گھر والوں کی ضد تھی واپس نہ آنے کی۔ پتہ ہے امتیاز نہیں آیا۔ پر اس کی میت ضرور آئی۔ امتیاز کی بند آنکھوں نے اس منظر کو الوداع کہا جسے وہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھنے کا خواہشمند تھا۔ حسرتیں حسرتیں ہی رہ گئیں۔

گزشتہ چند روز سے ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرر ہی ہے۔ تصویر مجھے یادِ ماضی میں واپس لے گئی۔ مجھے ایک بار پھر سے سوچنے پر مجبور کر گئی کہ آدمی خودکشی پر کیوں اتر آتا ہے؟ وہی زندگی جسے آدمی بچانے اور سنوارنے کے لیے ہزار بار جتن کرتا ہے۔ دماغ ہلکا سا اِدھر اُدھر ہوجائے تو آدمی زندگی ختم کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ لیکن جاتے جاتے اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ جاتا ہے۔ لیکن جواب کو ہمیشہ گمشدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بائیس سالہ طیب فاروق انجینرنگ یونیورسٹی خضدار میں کیمیکل انجینیرنگ کا طالبعلم تھا۔ 2013 کو آواران میں آنے والا زلزلہ اس کی زندگی میں بھی طوفان بن کر آیا۔ 2014 کو باپ جہاں فانی سے کوچ کر گیا۔ زندگی نے کروٹ بدلنی تھی۔ گھریلو حالات نے تعلیم سے کنارہ کش ہونے پر مجبور کیا۔ گھر کا نظام و انتصرام اپنے ذمے لینے میں عافیت جانی۔ معاشی مسائل، تنگدستی اور تعلیم سے دوری نے اسے نہ صرف گھر تک محدود کردیا بلکہ نفسیاتی مسائل میں الجھا کر رکھ دیا۔ ان کے ایک دوست نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل جب ہم اس سے ملنے گئے تو طیب نے ہم سے اپنے آپ کو چھپانے کے لیے ایک بند کمرے کا سہارا لیا۔ ہم نے زبردستی اسے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ اب کی بار ہمیں طیب وہ طیب نظر نہیں آیا جو اس کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔ جو تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کے شعبے کو ترجیح دیتا تھا۔ نفسیاتی مسائل نے منشیات اور نشہ آور ادویات کا عادی بنا کر اسے سوسائٹی سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔

طیب کے قریبی رشتہ دار طارق محمد حسنی کہتے ہیں کہ 9 جون 2018 کی شب 11 بجے اس کی خودکشی کا واقعہ پیش آیا اس سے پہلے وہ دو بار خودکشی کی ناکام کوشش کرچکا تھا۔ ان کے مطابق طیب نفسیاتی مسائل کا شکار تھا۔ وہ جن بیماریوں کی طرف اشارہ کرتا تھا وہ بیماریاں اس کے اندر موجود نہیں تھیں۔ نفسیاتی مسائل کے علاج کے لیے اسے دو بار ہسپتال لے جایا گیا۔ لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا تو ملاؤں کا سہارا لیا گیا جنہوں نے طیب پر کالے جادو کا انکشاف کیا۔ خودکشی سے قبل اس کا علاج وہیں سے ہوتا رہا۔

طیب کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں پوزیشن لینے والا نوجوان تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ کرکٹ کا بہترین پلیئر تھا۔ طیب معاشرے کا ایک اچھا فرد بننا چاہتا تھا۔ گھریلو اور معاشرتی مسائل نے نہ صرف طیب سے اس کے آنکھوں کا خواب چھین لیا۔ بلکہ زندگی کے خاتمے کا سبب بنا۔ طیب کو ابھی ہنسنا تھا، کھلکھلانا تھا، محبت کا درس دینا تھا۔ طیب نے جاتے جاتے معاشرے کے سامنے وہ سوال کھڑے کیے جن کا جواب ہمارا معاشرہ گھریلو ٹوٹکوں میں ڈھونڈ نکالتا ہے۔

یہ کہانیاں کہیں اور کی نہیں، کہانیوں کا تعلق بلوچستان کے سب سے بدقسمت ضلع آواران سے ہے۔ یہ کہانیاں میرے اپنوں کی ہیں۔ پیارے پیارے سپنوں کی ہیں۔ سچ کہوں تو برے سپنوں کی ہیں۔ کہانیاں جب میرے ذہن میں در آتی ہیں تو میں اپنا روح کہیں گم پاتا ہوں۔ اپنے جسم کو فقط ہڈی اور گوشت پاتا ہوں۔ سچ پوچھو تو بلوچستان میں ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں۔ ایک بار پھر سے سوچتا ہوں کہ آدمی نفسیاتی مریض کیوں بن جاتا ہے۔ نشے کی جانب کیوں راغب ہوجاتا ہے۔ اور پھر سب سے چھٹکارا پانے کے لیے خودکشی کا راستہ ہی کیوں اختیار کرتا ہے۔ تینوں کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق کیوں ہے؟ ذمہ دار کون ہے؟

زرا سوچیے۔ اپنے قرب و جوار پہ نظریں دوڑائیے۔ نفسیاتی مسائل کا اندازہ کیجیے اور حل ڈھونڈیے۔ نفسیاتی مریضوں پہ ہنسنے یا ان کا مرض نظرانداز کے بجائے ان کا ہاتھ تھامیں۔ انہیں وقت دیں۔ رویوں میں تبدیلی لائیں۔ یہ وقت آپ پہ بھی آسکتا ہے۔ سب پہ آ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS