شوگر کے اسباب، نقصانات، احتیاطی تدابیر اور علاج
ذیابطیس جسے عرف عام میں شوگر کہا جاتا ہے، اس دور کی ایک خطرناک بیماری ہے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اسے بیماری سمجھنے سے ہی انکاری ہیں جب کہ پا کستا ن میں ہر دسواں فرد ذیابطیس کا مریض ہے نیز آنے والے چند سالوں میں اس کی تعداد دوگنی ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے
ذیابطیس کیا ہے؟
اس بیماری میں انسانی جسم گلوکوز کو موثرطورپراستعمال کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ جس کےنتیجہ میں خون میں گلوکوز کی مقداربڑھ جاتی ہے اور یہ اضافی گلوکوز پیشاب کے راستے خارج ہونے لگتا ہے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جولبلبہ سے خارج ہوتا ہے جو گلوکوز کو استعمال میں لانےکےلئےاھم کردار ادا کرتا ہے لیکن جب لبلبہ انسولین بنانا بند کردے یا انسولین خاطرخواہ کام نہ کرےتو ذیابطیس کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔
اسباب:۔
1)عام طورپرخیال کیا جاتا ہےکہ یہ ایک مورثی بیماری ہے جو کسی حد تک درست بھی ہے لیکن اکثر یہ ان لوگوں کو بھی ہوجاتی ہے جن کے خاندان میں کہیں دورتک اس بیماری کا اتا پتا نہیں ہو
2) ایسی خواتین جن کے بچے نو پونڈ سے زیادہ وزن کے پیدا ہوں
3) ایسے افرادجن میں HDL کولیسٹرول کم اورٹرائی گلیسٹراڈ کی سطح زیادہ ہو جائے
4) ہائپرٹنشن کے شکارافراد
5) اکثر خواتین کو دوران حمل بھی ذیابطیس ہوجاتی ہے
6) انسان کا موٹاپا بھی اکثرذیابیطیس کا سبب بن جاتا ہے
اس بیماری کے نقصانات:
1) وہ شریانیں جو انسانی جسم کو خون فراہم کرتی ہیں زیادہ شکر سے ناکارہ ہوجاتی ہیں
2) باربار پیشاب آنے کی وجہ سے گردے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور اگر یہ بیماری بچوں میں ہو تو بڑوں کی نسبت ان کے گردے جلد خراب ہوجاتے ہیں
3) ذیابیطیس کا مریض بہت جلد بینائی کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے
4) کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے سبب ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے جس سے دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں
5) ذیابطیس میں قبض کی شکایت بھی پیدا ہوجاتی ہے اور مریض پٹھوں کے درد کا شکار ہو جاتا ہے
6 ) خون میں شوگر کی زیادہ مقداراعصاب کوبھی نقصان پہنچاتی ہے
7) فالج کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے
احتیاطی تدابیر :۔
1)پرہیزی کھانے کے ساتھ، مریض کو روزانہ ورزش کرنا بہت ضروری ہے
2) سادہ کھانا استعمال کریں اور چہل قدمی کو اپنی زندگی کا لازمی جز بنا لیں
3) ذیابطیس کے مریض کو چا ہیے اگر وہ موٹا ہے تو فورا اپنا وزن کنٹرول کرے
4 ) خود کو ذھنی الجھنوں سے آذاد رکھیں
علاج :۔
ذیابطیس کا مرض دریافت ہوتے ہی فورا ڈاکٹرسے رجوع کریں اور اپنا باقاعدہ علاج شروع کریں۔ وقت پر اپنے ٹیسٹ کروائیں اور کوشش کریں جسم میں شکر کا تناسب برقرار رہے
یاد رکھیں آپ کی صحت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے جسے آپ تھوڑی سی کوشش اور توجہ سے برقرار رکھ سکتے ہیں


