یہ سول بالا دستی کی جنگ نہیں ہے


مارشل لاء مہذ ب انسانوں اور قوموں نے کبھی براداشت نہیں کیا۔ حضرت مجید نظامی کا فرمان ہے کہ مارشل لاء نہ ہی کوئی قانون ہوتا ہے اور نہ مارشل لاء کورٹ کوئی عدالت۔ پاکستان میں مارشل لاء ایوب خاں نے لگایا۔ اس کی دہشت اور دبدبہ کچھ زیادہ ہی تھا۔ ملک بھر میں اک سکوت مرگ طاری ہو گیا۔ حبیب جالب کے لفظوں میں ’خوف کے مارے پتہ بھی نہیں ہلتا تھا۔ ان کڑے دنوں میں جسٹس ایم آر کیانی کی تقریریں جرات، زندگی اور جمہوریت کی علامت بن کر سامنے آئیں۔ ایسی بات کہنے کیلئے بڑا دل گردہ چاہئے۔ یہ ان کی تقریروں کے مجموعے ”افکار پریشاں “ سے پہلا جملہ ہے۔ ”تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے اقتدار اعلیٰ تفویض فرمایا افواج کو، پھر عوام کو افواج کا اور افواج کو اپنے مفاد کا تابع کیا“۔

ایوب خاں کا یہ زمانہ جواہر لعل نہرو، صدر کینڈی، جمال ناصر، صدرسوئیکارنو، صدرڈیگال اور شاہ فیصل جیسے قد آور حکمرانوں کا دور تھا۔ ان بڑے لوگوں میں ہمارے ایوب خاں بڑے ہی لگتے تھے۔ ہماری کرنسی مضبوط تھی۔ ان دنوں ہماری کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت آج ناقابل یقین سی لگتی ہے۔ پہلی زرعی اصلاحات کا ڈول بھی انہی صدر ایوب نے ڈالا تھا۔ ہمارے سارے ڈیم اسی دور میں بنائے گئے۔ کالا باغ ڈیم بننے سے رہ گیا، سو رہ گیا۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ایوب خاں کی بنیادی جمہوریت سرے سے جمہوریت بھی تھی یا نہیں؟ البتہ یہ بات لکھنا بہت ضروری ہے کہ ان دنوں سیاست سادہ اور سستی تھی۔ اس سفید پوش سیاست نے ابھی منڈی کی راہ نہ دیکھی تھی۔ پھر بھٹو نے عوام کے روٹی، کپڑا، مکان کے حق کو اجاگر کیا۔ جنرل ضیاءالحق کے عہد میں ہمارے ہاں معکوس ترقی ہوئی۔ زرعی اصلاحات کی واپسی ہو گئی۔ سیاست میں مذہب بھی آگیا اور پیسہ بھی۔ امیدوار کی برادری پھر پوچھی جانے لگی۔ سیاست کاروبار ہو گئی۔

بھٹو کے لواحقین معاملہ روٹی، کپڑا، مکان سے بھوک، پیاس، تحفظ تک لے آئے ہیں۔ سیاست عوامی اجتماعی مفاد سے ذاتی نام و ناموس کے گرد گھومنے لگی۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وزیر آباد میں اربوں روپوں کی لاگت سے امراض قلب کا ہسپتال بنایا۔ پھر گجرات کے چوہدری چلے گئے اور لاہور والے آگئے۔ لاہور والوں نے دس برس اس مکمل ہسپتال کو فعال نہیں ہونے دیا۔ مجھے اس ہسپتال کے انچارج سرجن ڈاکٹر وحید احمدنے بتایا کہ یہاں کی مشینری لاہور کارڈیالک انسٹیٹیوٹ سے زیادہ بہتر اور جدید ہے۔ کربلا اور کیا ہوتی ہے؟ دس برس جہلم، کھاریاں، لالہ موسیٰ اور گجرات سے مریض لاہور جاتے ہوئے، یہاں سے گزرتے ہوئے مرتے رہے لیکن یہ ہسپتال بند رہا۔ اس ہسپتال کا” گناہ کبیرہ“ صرف یہ تھا کہ اسے گجرات کے چوہدریوں نے بنایا تھا۔ اب اللہ کے فضل و کرم سے یہ ہسپتال فعال ہو گیا ہے۔ جمعرات کو یہاں پہلا بائی پاس آپریشن ہوا ہے۔

ایوب خاں کی بنیادی جمہوریت بیشک جمہوریت نہیں تھی۔ لیکن آج کی جمہوریت بھی جمہوریت کہاں ہے؟ ہم جماعتی آمریت کو جمہوری پوشاک پہنائے ہوئے ہیں۔ گوجرانوالہ ڈویژن کا ایک ن لیگی ممبر اسمبلی بھی یہ مطالبہ نہ کر سکا کہ اس مکمل ہسپتال کو فعال کر دیاجائے۔ کسی رکن میں پارٹی قیادت کے آگے بولنے کی جرات ہی نہیں ہوتی۔ جماعتی آمریت اورکیا ہوتی ہے؟ ایک مرتبہ مقامی ایم این اے قاضی حمید اللہ سے میں نے پوچھا تھا، آج کے اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ آپ پچھلے پورے برس اسمبلی کے فلور پر ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ اب آپ کی مراعات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ فرمانے لگے: میرے بھائی! پارٹی قائد کی اجازت کے بغیر اسمبلی میں ایک لفظ بھی بولا نہیں جا سکتا۔ یہی کچھ مجھے وزیر آباد سے سابق ایم این اے جسٹس افتخار چیمہ نے بھی بتایا تھا۔ جماعتی آمریت کی ایک مثال بے مثال خطیب حافظ حسین احمد بھی ہیں۔ ایک عرصہ سے ہماری پارلیمنٹ ان کی خطابت سے محروم ہے۔

 2018 کا الیکشن چند دنوں کی بات ہے۔ پنجاب کے آٹھ سیاسی گھرانوں کی چوتھی نسل سے کئی افراد اپنے اپنے اضلاع میں خاندانی سیاسی بالا دستی کیلئے مسلم لیگ ن، تحریک انصاف یا آزاد امیدواروں کے طور پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ کئی بڑے بڑے گھرانوں کے حصے میں پورا پورا ضلع آتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے سیاسی گھرانے ایک ایک قومی یا صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر قابض ہیں۔ یہ لوگ اپنا اپنا حلقہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ یہ لوگ اپنی سیاسی جماعت چھوڑ سکتے ہیں لیکن اپنا حلقہ نہیں۔ مرشد علامہ اقبالؒ یاد آگئے :

مانگنے والا گدا ہے صدقہ مانگے یا خراج

کوئی مانے یا نہ مانے میر سلطاں سب گدا

اگر ایک سیاستدان اپنا حلقہ نہیں چھوڑتا تو چوک میں مستقل کھڑا لولالنگڑا فقیر اپنا چوک کب چھوڑتا ہے۔ دونوں کا ایک ہی مسئلہ ہے۔ ایک دن ایک چوک میں مستقل کھڑاہونے والا فقیرمجھے نظر نہ آیا۔ اس کی عدم موجودگی سے مجھے چوک کا منظر نا مکمل سا لگ رہا تھا۔ میں نے اس کے ٹھکانے پر کھڑے بچے سے اس کے بارے پوچھا تو وہ بتانے لگا۔ وہ میرا باپ ہے۔ بیمار ہے۔ آج میں اس کی ڈیوٹی پر ہوں۔ چوک خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ورنہ کوئی اوراس چوک پر قابض ہو جائے گا“خالی گھر میں جن دیو آجاتے ہیں۔ فارسی کی یہ دانش سیاستدان اور فقیر ہی سمجھ پائے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ یہ سمجھتی ہیں کہ ہمارے چوک پر کوئی اور قابض ہو گیا ہے۔ لیکن یہاں سیاسی جماعتیں کہاں ہیں؟ تجارتی کمپنیاں ہیں۔ ہر ضلع شہر میں ان کے سول ایجنٹ مقرر ہیں۔ کوئی اپنی ایجنسی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ورنہ کئی اور امیدوار نئی اور بہتر شرائط پریہی ایجنسیاں لینے کو تیار بیٹھے ہیں۔

لینن کی سنئیے! ”سرمایہ دارانہ طرز نظام پر یقین رکھنے والی سیاسی پارٹیاں اپنے خام مال یعنی اپنے کارکنوں کو ضائع کر دیتی ہیں تاکہ مسلط اور غیر حقیقی لیڈر شپ کے خلاف کوئی ابھر نہ سکے “۔ میں اب سمجھا ہوں کہ اسی لئے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی نچلی سطح پر کوئی تنظیم سازی نہیں کی گئی۔ عمران خان کہتے ہیں کہ میں الیکٹ ایبلز کو ٹکٹ اسلئے دے رہا ہوں کہ ہر حلقہ میں الیکشن کیلئے دو اڑھائی ہزار کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں مہیا کرنا صرف کسی الیکٹ ایبل کے ہی بس کی بات ہے۔ لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ اڑھائی ہزار کارکنوں کی دستیابی کا یہ مسئلہ نچلی سطح پر جماعتی تنظیم سازی سے بآسانی حل ہو سکتا ہے؟ لیکن یہ بات بھی تو ہے کہ اس طرح سیالکوٹ سے فاروق مائر، گوجرانوالہ سے رانا نعیم الرحمان اور چوہدری محمد علی، لاہور سے محمد مدنی جیسے نظریاتی کارکن خودسر اور طاقتور ہو جاتے ہیں۔ پھر سیاسی جماعتوں میں اوپر والوں کی من مرضیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ جماعتی قائد کو بھی اپنے فیصلوں کا کوئی نہ کوئی معقول جواز ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب آجکل میاں نواز شریف بھی سول بالا دستی کا بہت ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی سول بالا دستی بھلا کہاں چاہتے ہیں۔ وہ اپنے خلاف کرپشن کے مقدمے کو سیاسی رنگ دیکر اسے سول بالا دستی کی جنگ بنا رہے ہیں۔ وہ صرف اپنی بالا دستی چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان سے پوچھ نہ سکے۔ نہ نیب، نہ کوئی عدالت اور نہ ہی کوئی اور۔

Facebook Comments HS