چلیے اب دونوں وقت ملتے ہیں۔۔۔

تخیّل کے علاوہ کوئی بھی چیز ہمیں بیتے ہوئے پل اور گزرے ہوئے کل نہیں لوٹا سکتی (یوں تو تاریخ بھی یہ کام کر سکتی تھی، المیہ مگر یہ ہوا کہ ساری تاریخ بوگس اور بے ہودہ نکلی)۔ چونکہ تخیّل کا تخلیقی اظہار محض آرٹ ہے لہٰذا آرٹسٹ کو ماضی میں ضرور جینا چاہیے۔ یہ نہ صرف ایک تخلیقی اور پرمسّرت عمل ہو گا بلکہ زندگی اور سماج کے لئے ہزارہا امکانات اور ممکنات کا راستہ بھی ہموار کر سکے گا۔
آج کا شاعر جب دس ہزار سال پیچھے پلٹ کر دیکھے گا اور اپنے دیکھے ہوئے کے مرکز میں چوکڑی ڈال کر بیٹھے گا تو اسے محبت، فطرت اور حسن کے نئے قرینے سوجھیں گے، وہ اپنے تعصبات سے باہر نکل کر دھمال مچا سکے گا، اُسے وقت کی قید و بند سے رہائی مل جائے گی، اُسے زندگی، انسان اور کائنات کی مثلث کو ایک اکائی میں دیکھنے کا ہنر آ جائے گا۔ آج کا مصور یا ناول نگار جب وقت کے بہاؤ کو الٹا کر اپنی پوری دیوانگی اور حساسیت کے ساتھ پیچھے کی جانب دوڑے گا تو اسے ہر موڑ اور ہر ڈگر پر آنکھیں چندھیا دینے والے منظر ملیں گے، وہ نئے رنگوں کی پچکاریوں سے کھیلے گا، وہ تازہ شبدوں کی مہک سونگھے گا، وہ اَ چھوتے خیال پینٹ کرے گا، وہ انوکھے واقعات رقم کرے گا، وہ اَن دیکھی دنیاؤں کو دیکھنا سیکھے گا اور اُن کو اپنے تخیّل اور فن کے ملاپ سے یکجا کر کے ہم میں سے ہر ایک کو اس کا حصہ بنائے گا۔
یہ حیرت اور خوشی بانٹنے کا عمل ہو گا۔ یہ جوڑنے اور جڑنے کا پراسیس ہو گا۔ ان تجربات کی یکجائی بالآخر ایک نئے بیانیے کو خلق کر سکتی ہے جو دنیا کے ہر فردکو ایک نیا اجتماعی شعور عطا کرنے کے سنگل ایجنڈے پر اپنی پوری توجہ مرتکز کر سکے گا۔ ممکن ہے آپ میں سے کچھ لوگ اِسے دقیانوسیت سمجھیں، عصر حاضر کے تقاضوں سے فرار کہیں، آرٹسٹ کے ”مقام اور مرتبے‘‘ کے منافی قرار دیں، ادیب کی ”بنیادی ذمہ داریوں‘‘ سے انحراف کا نام دیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر آرٹسٹ اور ادیب نے صرف لمحہ موجود میں ہی جینا ہے، اِسی لمحے کے اندر ہی دھڑکنا ہے، اِسی عہد کے تقاضوں سے مکالمہ کرنا ہے تو بطور ایک فرد تو وہ پہلے بھی یہی کچھ کر رہا ہے تاہم اس کے باوجود نفرت جوں کی توں ہے، ہمہ قسم تعصبات عالمگیریت کا بدن نوچ کر کھا رہے ہیں اور اجتماعی تو درکنار، انفرادی شعور بھی دھمکیوں اور دھماکوں کی زد پر ہے۔
محض لمحہ ٔ موجود میں جینے پر اصرار کے بجائے ایک نئے درخشاں ماضی اور اجتماعی بیانیے کو مرتب کرنے کا وقت آ پہنچا۔ اس گلوبل ایج اور ہائیڈروجن بم کے عہد میں بھی پرانی شناختوں اور سابقہ حوالوں کو بچانے کی کوشش کی گئی تو سب کچھ بھک سے اڑ جائے گا۔ نئی شناخت اور نئے حوالے ہی بقاء کا واحد امکان ہیں تاہم یہ نئی حساسیت اور نیا تخیّل بھی مانگتے ہیں، جو انفارمیشن کا بکھراؤ اور گلوبل سپیس کے منشی تو فراہم کرنے سے رہے، لہٰذا تخلیق کار کو ہی ماضی میں جھانک اور جی کر، نیا زمانہ اور نئے صبح و شام پیدا کرنے ہوں گے۔

