جب ہم واقعی ایک تھے


جب ہم ہندوستان میں تھے تو ہمیں باقاعدہ اس بات کا احساس رہتا تھا کہ ہندو قوم ہمارے حقوق چھین رہی ہیں اور ہمیں ہمارے حقوق نہیں مل رہے، پھر ہم نے آل انڈیا مسلم لیگ بنائی اور ہم مطمئن ہوگئے کہ ہمیں ہمارے حقوق بھرپور طریقے سے مل جائیں گے اور اس ہی پارٹی کی چھاوں میں ایک بیٹھ کر ہم نے ایک علیحدہ مسلم ملک حاصل کرلیا۔

پھر ہم مسلمانوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ ہمیں اس مسلم ملک میں بھی اپنے حقوق باقاعدگی سے نہیں مل رہے لہٰذا ہم نے اک اور پارٹی بنالی پاکستان پپلز پارٹی کے نام سے، لیکن ہم سب پاکستان کے پیپلز ہوکر بھی اس پارٹی سے بھی مطمئن نہ رہ سکے اور ہمیں احساس ہوا کہ پی پی پی تو سندھیوں کی پارٹی ہے وہ اردو بولنے والوں کو حقوق فراہم نہ کرسکیں گے تو ہم نے مہاجروں کے حقوق کے لئے ایک پارٹی بنالی اس کا نام رکھ دیا مہاجر قومی موومنٹ، پھر ہمیں یہ محسوس ہونے لگا کہ اس کا نام قومیت سے دور ہوکر کسی ایک طبقے کی رہمنائی کا اشارہ کر رہا ہے لہٰذا ہم نے اس کو تبدیل کرکے متحدہ قومی موومنٹ کردیا، پھر بھی ہماری قوم کے حقوق کی وصولی نہ ہوسکی تو ہم نے اٹھ کر پاکستان مسلم لیگ ن بنا لی، لیکن اس کے بعد بھی ہم حقوق پانے سے قاصر رہے۔

جب ہمیں محسوس ہونے لگا کہ ان سب جماعتوں کے حقوق مانگنے اور اجتماعات کے بعد بھی ہمیں انصاف نہیں مل پارہا پھر ہم حقوق اور انصاف کی تلاش میں نکلے اور تحریکِ انصاف بنالی، سکون اس کے باوجود میسر نہ آسکا تو ہم نے عوام کے ساتھ تعاون کے لیے عوامی نیشنل پارٹی بنالی، الغرض یہ کہ ہم جناح کا پاکستان، پاک سر زمین اور دیگر جماعتوں کو پاکستان کے ہی نام پہ تشکیل دے چکے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ہمیں ہمارے حقوق نہیں مل رہے، ملک میں امن و امان برپا نہیں ہورہا، قرضے بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں، مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے، بے روزگاری عروج پر ہے، تعلیم کا نظام دھرم بھرم ہے، لوڈشیڈنگ اپنی جگہ قائم ہے، کرپشن اپنی انتہا پہ ہے لیکن اتنی جماعتوں کے باوجود ہم ان مسائل کو حل نہیں کر پارہے۔

تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کا نام اٹھا کر دیکھیں تو اس ملک اور قوم کے نام پہ ہی رکھا گیا ہے لیکن اس ملک کو، قوم کو اور اس عوام کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان ہی پہنچتا رہا ہے، ملک کے قرضوں میں اضافہ ہوتا گیا، عوام مزید ٹیکس اور مہنگائی میں دب کر رہ گئی اور ان جماعتوں کو تشکیل دینے والوں اور چلانے والوں کے اثاثے بڑھتے ہی چلے گئے، تین کی جگہ چھ گاڑیاں آگئیں، دو بنگلوں کی جگہ چار بنگلے ہوگئے، بچے ڈیفنس کلفٹن کے بجائے لندن، امریکہ اور دبئی میں عیش و عشرت میں پل بس گئے، اور جس ملک کے نام پہ جماعتوں کو تشکیل دیا گیا اس کی حالت آپ کے سامنے ہے، جس عوام اور قوم کے حقوق کے نام پر آواز اٹھائی گئی وہ عوام آپ کے سامنے ہے۔

مختصراً جب ہم واقعی ایک تھے ایک جماعت سے تعلق رکھتے تھے، ایک مشن، ایک عزم، ایک ارادہ رکھتے تھے تو ہم نے ایک الگ وطن جیسا مشکل ترین مرحلہ بھی پار کر لیا اور آج ہم وہی قوم، افراد اور جماعت کی صورت میں بٹ گئے تو سوائے تعصب کے وجود کے ہم کچھ تشکیل نہ دے پائے، متحد ہونے کے بجائے ہم خود مزید بٹتے چلے گئے اور ملک میں امن قائم کرنے کے بجائے تعصب پیدا کرواکے لڑائی اور فساد برپا کرنے کے علاوہ کچھ نہ کر پائے۔

جب ہم اپنی زبانیں، اپنی ذات، اپنے فرقے بھول کر صرف ایک پاکستانی کہلانے کی لگن میں تھے تو ہم وہ حاصل کرکے ہی رہے، لیکن جب ہم ایک لفظ ”پاکستانی ” بھول کر زبان، ذات، فرقے کے چکر میں تعصب کا شکار ہوئے تو ہم وہ بھی کھو بیٹھے جو ہم نے حاصل کیا تھا۔

اپنے حقوق کی جنگ ہم اپنے ہی لوگوں سے لڑنے بیٹھ گئے، خود پاکستانی ہو کر دوسرے پاکستانی سے مقابلہ کرنے لگے، خود مسلمان ہوکر دوسرے مسلمان پہ کیچڑ پھینکنے لگے، ایک ہی خدا کو ماننے کے باوجود فرقوں مجھے تقسیم ہوگئے، زبانوں کے چکر بھائی چارہ بھلا بیٹھے، اور مذہب کے کاندھے پہ چڑھ کر انسانیت کو دھکا دینے لگے تو ہمارے ساتھ یہ ہی کچھ ہونا تھا جو ہو رہا ہے، ہمیں ہمارے حقوق کیسے ملیں گے جب ہم جود ہی اپنے حقوق و فرائض کو سمجھنے اور ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔

Facebook Comments HS