حق حکمرانی
پچھلے دنوں وTس ایپ پر مکرمی وجا ہت مسعود صاحب کا کالم اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کیا۔ ایک محبی نے اس پر سخت تبصرہ کیا۔ چونکہ یہ کالم من و عن اس تبصرے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے اس کا خلاصہ بیان کرنا کفایت کرے گا۔
"یہ ہر وقت تم لوگ جمہوریت کی جگالی کرتے رہتے ہو۔ یہاں فرد کے بنیادی مسایل حل نہیں ہو رہے اور تم لوگوں کو ہرا ہرا سوجھ رہاہے۔ “
پہلے تو دل شاد ہوا کہ جناب من نے ”تم لوگ“ جمع کے صیغے میں استاد اور مجھے ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ پھر جب احساس ہوا کہ گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑِ یاں تو جھلاہٹ طاری ہوِئی۔ سوچ میں پڑ گیا کہ کیا یہ سوال واقعی اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ دن رات اس کی مالا جپی جائے؟ ہر عہد کے اعلیٰ قلم اس پر اٹھیں۔ اور اسے اتنی اہمیت دی جائے۔ آئیے پہلے سوال ترتیب دیتے ہیں کہ سیانے کہتے ہیں اچھا اور صحیح سوال خود اپنے اندر جواب رکھتا ہے۔
"حق حکمرانی کا فیصلہ کیا انسانی بنیادی حقوق سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے؟ “ کیا پانی کے مسائل، کرپشن، تعلیم اور صحت کے مسئلے اس قدر گھمبیر نہیں کہ اس سوال سے اغماض برتا جائے۔
اگر ”حق حکمرانی“ پر ذرا تدبر کریں تو یہ ”فصل نزاعات“ اور ”وسائل کی تقسیم“دونوں حقوق اس طبقے کے لیے مخصوص مانتا ہے۔ نزاعات کے فیصلے چاہے باہمی ہوں یا بین الاقوامی فیصلے کا حق انہیں کو ہے، وسائل کی تقسیم وہی منصفانہ ہوگی جو یہ کریں گے۔
ایک گھر کے امور چلانے کے لیے باپ اس فیصلے کا حق رکھتا ہے کہ بچوں کو کس معیار کی تعلیم دینی ہے، گھر میں بیمار کے علاج کے لیے زیادہ پیسے خرچنے ہیں یا گھر کے چوبارے پر کمرے ڈالنے پر رقم صرف ہوگی۔ چوکیدار، دودھ والا اور مالی ہر ایک کا معاوضہ اس نے اپنی آمدنی اور اخراجات کے مطابق طے کرنا ہے۔ اسی طرح تنازعات کے امور میں کس ہمسائے سے کس طرح کے روابط رکھنے ہیں، کس سے منقطع کرنے ہیں، کہاں عزیمت سے کام لینا ہے اور کہاں رخصت کا سہارا لینا ہے۔ کہاں چشم پوشی کرنی ہے اور کہاں ڈٹ جانا ہے۔
اگر دونوں حقوق اور اختیار باپ کے پاس نہیں تو جان لیجیے وہ سربراہ نہیں، وہ جگہ مٹی اور بجری کا مکان ہے گھر یا وطن کہلانے لائق نہیں، اور وہاں رہنے والے قوم اور خاندان نہیں بلکہ سرائے میں ٹھہرنے والے کچھ مسافروں کا اکٹھ ہے۔
تو بات طے ہوئی کہ ”وسائل کی تقسیم“ اور“ تنازعات میں فیصلہ کن اختیار“ دونوں ”حق حکمرانی“ کا جزولا ینفک ہیں۔
آئیے تاریخ کو ٹٹولتے ہیں اور جائزہ لیتے کہ ہم سے پہلے جب کسی کو اس سوال سے سابقہ پڑا تو ان کا رویہ کیا تھا؟ کیا ان کے لیے یہ فیصلہ اہم تھا یا انہوں نے اسے چنداں اہمیت نہیں دی؟ تاریخ کا بہاؤ تو وسیع ہے اور ویل ڈیوراں کو پڑھنا بھی مشکل ہے۔
چلیں یہاں سے دیکھتے ہیں جب پہلی بار تاریخ انسانی میں اللہ نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ وہ اب انسانی شعور اور عقل پر اس دنیا کے امور چھوڑ دے۔ ختم نبوت کے بہت سے پہلَوں میں سے ایک اہم پہلو یہ بھی یے کہ وحی کا انقطاع اس بات کی دلیل بھی ہے کہ اب انسان شعوری طور پر اس درجہ بالغ ہو گیا ہے کہ خدا کی منشا یہی ہے کہ اب وہ اپنے فیصلے عقل عام کی روشنی کرے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ اس ابتلا کے بعد سب سے پہلا مسئلہ قدسیوں کی جماعت کی توجہ کا مرکز بنا وہ ”حق حکمرانی“ کا ہی تھآ۔
سقیفہ کا واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ چودہ سو سال پہلے ہمارے اخیار نے زبان حال سے اعلان کیا کہ یہ قضیہ تمام قضیوں سے اہم ہے۔ اس اینٹ کے بغیر عمارت کی شروعات ممکن نہیں۔ اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو اجتماعیت دفن ہوجائے گی۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں انسانی شعور انقطاع وحی کے بعد سب بے پہلے اجتماعیت اور معاشرے کے سب سے اہم مسلَے میں آزمایا گیا۔ وہ پاگئے کہ ”اس سوال“ کے جواب کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ سیدنا عمر رض کا حضرت خالد بن ولید رض کو معزول کرنا اس سوال کا مکرر جواب ہے۔
اگرچہ یہ دوسری بہث ہے لیکن مجھے یہ کہنے میں بالکل تامل نہیں کہ سقیفہ میں جو فیصلہ ہوا وہ عین جمہوری روایات کا حامل تھا۔ ”لا خلا فۃ الا القریش“ اصل میں جمہوریت کی ایک فرع ہے۔ جمہوریت جو انسانی تمدن کے ارتقاء کی اعلیٰ ترین شکل ہے اور ایک مشترکہ انسانی میراث ہے اس کے بنیادی خدوخال اصحاب رسول ص نے ”وامرھم شوریٰ بینھم“ کی روشنی میں طے کیے۔ سقیفہ کو کہیں سے نکال کر پڑھ لیجیے آپ کو جمہوریت کے بنیادی اسباق مل جائیں گے۔ لیکن یہ پھر کبھی۔
تو عزیز ذرا اپنی اداؤں پر غور کریں ہم کچھ کہیں گے تو شکایت ہوگی۔ توقف کریں اور سوچیں کہیں افراد کے بنیادی حقوق پر زور دیتے دیتے آپ معاشرے کے بنیادی حقوق سے اغماض تو نہیں برت رہے۔ سمجھنا چاہیے معاشرے کے بنیادی حقوق ہی افراد کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہیں۔

