درویش نے خود جب اس دور میں بدیسی تاریخ میں پناہ لی تو ہماری کیا مجال کہ استاذ کے آگے اپنا پاؤں رکھیں۔ ہم بھی اسی دور کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔ فرانسس فوکو یاما کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کی شہرہ آفاق کتاب ”تاریخ کا اختتام اور آخری انسان“ (یہاں تاریخ سے واقعات کا تسلسل مراد نہیں بلکہ اس کا مطلب تہذیب کا شعوری ارتقا ہے، جو فوکو یاما کے مطابق ’مغربی آزاد خیال جمہوریت‘ کی شکل میں اپنے منتہی کو پہنچ گیا ہے ) میں ہم طالب علموں کے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔
فوکو یاما نے جبر کی دو مختلف اقسام بیان کی ہیں : انیسویں صدی کی روایتی ”آمرانہ حکومتیں“ اور بیسویں صدی کی ”مطلق العنان ریاستیں“ ۔ دونوں میں اہم فرق یہ ہے کہ اول الذکر وسائل کی تقسیم، مذاہب کی روایات کو اپنی جگہ پر ہی رہنے دیتے تھے لیکن آخر الذکر ریاستوں کا بیانیہ معاشرے پر ہمہ گیر تسلط چاہتا تھا۔ وہ معاشرے کی ہر جہت پر پہرے بٹھانا چاہتا ہے، وہ ایک ہی بیانیے کو ’سالمیت‘ کا ضامن قرار دیتا ہے اور ہر متفرق آواز کو دبانا چاہتا ہے، اس طرح اصلاحات کے لیے نا قابل عمل ہو جاتا ہے۔
Read more