جمہوریت اور پاپولزم میں فرق

اگر سوال الیکشن کے طریقہ کار تک محدود کر لیں تو دونوں میں کوئی فرق نہیں، اکثریت کی رائے ہی فیصلہ کن ہے۔ لیکن اگر سطح سے نیچے دیکھنے کی سعی کریں تو دونوں متصادم معلوم ہوتے ہیں۔ جمہوریت ایک ایسے مسلسل عمل کا نام ہے جو ’درمیانی راستہ‘ نکالنے کا ہدف رکھتی ہے جبکہ پاپولزم ’واحد حل‘ کا داعی ہے۔ جمہوریت کے لیے سیاست ’گرے ایریا‘ ہے دوسری طرف پاپولزم کے لیے سیاست ’حق و باطل‘ کا معرکہ۔ اول

Read more

ایما لازارس کا نیا مجسمہ

اس حبس زدہ اورالجھن زدہ معاشرے سے باہر نکلتے ہیں اور آزاد اور کھلے معاشروں کی تازہ خبرپڑھتے ہیں جہاں اندھیرے اور اجالے میں جنگ چل رہی ہے، ہمارے ہاں تولگتا ہے مستقل تاریکی کے ڈیرے ہیں- لیکن اس سے پہلے ذرا پیچھے چلتے ہیں اور امریکہ کے’مجسمہ آزادی’ کو دیکھتے ہیں- امریکِی خانہ جنگی (1865-1861جس میں امریکہ میں غلامی کا خاتمہ ہوا) کے بعد ‘ایڈورڈ رینے لابوئیلے’—- جو کہ ایک فرانسیسی سیاستدان تھا اور غلامی کے خاتمے کا حامی

Read more

سیکولرازم کا عہد

آج ہم سیکولر عہد میں جی رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ سیکولرازم کیا ہے؟ سیکولرازم کا اپنا بیانیہ یہ ہے : ہمارے آبا و اجداد قرون وسطی میں خدا، ارواح اور ماورائیت جیسی چیزوں پریقین رکھتے تھے، کائنات سے ’ماورا ذات‘ اور ’موت کے بعد زندگی‘ کے تخیل میں جی رہے تھے، پھر سائنس اور عقل کا دور آیا اور انسان نے طبعی قوانین کا پتہ لگا لیا، عقل نے کائنات کو مسخر کر لیا، مظاہر فطرت کی

Read more

کیا پاکستان ’الیکٹیبلز‘ نے بنایا؟

جواب میں کیا رکھا ہے، تاریخ تو درست سوال اور حقائق کا نام ہے، اس پر بیانیے کی تشکیل تو ہر ایک اپنے تعصب کے مطابق کرتا ہے، اور ویسے بھی تاریخ کا معروف بیانیہ تو فاتحین لکھا کرتے ہیں۔ اس لیے جواب کی جگہ سوال کو سمجھتے ہیں، اور سوال کو سمجھنے کے لیے ایک اور سوال کرتے ہیں۔ آزادی سے پہلے انگریز سرکار کے زیرنگرانی ’1935 ایکٹ‘ کے تحت پہلا انتخاب 1937 میں ہوا اور دوسرا انتخاب کم

Read more

امریکہ اور چین کی تاریخ سے دو واقعات اور دو تازہ خبریں

آئیے تاریخ کے دو واقعات کو آج کی دو خبروں کی روشنی میں جانچتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تاریخ سے کیسے سیکھا جاتا ہے۔

پہلا واقعہ – یہ 1989 کا سال ہے اور جگہ ہے چین میں ’ٹائنامن سکوائر‘۔ دیوار برلن کے انہدام میں ابھی چھ ماہ باقی ہیں اور آہنی پردے کا تار تار ہونا مستقبل کی پیش گوئی ہے، بورس یلسن نے ’بیلاویزا اکارڈ‘ پر ابھی ڈھائی سال بعد دستخط کرنے ہیں اور کریملن سے سوویت یونین کا جھنڈا دسمبر 1991 میں اترنا ہے۔

Read more

"امت مرحوم”، سیاسی طاقت اور وحدت امہ کا موہوم خاکہ

سیمیول ہنگٹنگٹن کی ’تہذیبوں کا تصادم‘ تو پرانا مقالہ ہو گیا لیکن اس میں بیان ہماری روداد بلکہ افتاد اسی طرح تازہ ہے۔ اکیسویں صدی میں جہاں قومی ریاستوں کا تصور اپنے عروج پر ہے وہاں ہم ’امت‘ کا موہوم سا خاکہ لیے پھر رہے ہیں جس کے بارے استاذ نے فرمایا ایسا اسم جس کا مسمی ہی نہ ہو۔ ’وحدت امت‘ کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ ’مرکزی طاقت‘ اور ’امت‘ دونوں کا تاریخی رومانس سمجھنے لائق ہے۔ ساتویں صدی

Read more

تناور درخت کی کھوکھلی جڑیں

درویش نے خود جب اس دور میں بدیسی تاریخ میں پناہ لی تو ہماری کیا مجال کہ استاذ کے آگے اپنا پاؤں رکھیں۔ ہم بھی اسی دور کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔ فرانسس فوکو یاما کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کی شہرہ آفاق کتاب ”تاریخ کا اختتام اور آخری انسان“ (یہاں تاریخ سے واقعات کا تسلسل مراد نہیں بلکہ اس کا مطلب تہذیب کا شعوری ارتقا ہے، جو فوکو یاما کے مطابق ’مغربی آزاد خیال جمہوریت‘ کی شکل میں اپنے منتہی کو پہنچ گیا ہے ) میں ہم طالب علموں کے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔

فوکو یاما نے جبر کی دو مختلف اقسام بیان کی ہیں : انیسویں صدی کی روایتی ”آمرانہ حکومتیں“ اور بیسویں صدی کی ”مطلق العنان ریاستیں“ ۔ دونوں میں اہم فرق یہ ہے کہ اول الذکر وسائل کی تقسیم، مذاہب کی روایات کو اپنی جگہ پر ہی رہنے دیتے تھے لیکن آخر الذکر ریاستوں کا بیانیہ معاشرے پر ہمہ گیر تسلط چاہتا تھا۔ وہ معاشرے کی ہر جہت پر پہرے بٹھانا چاہتا ہے، وہ ایک ہی بیانیے کو ’سالمیت‘ کا ضامن قرار دیتا ہے اور ہر متفرق آواز کو دبانا چاہتا ہے، اس طرح اصلاحات کے لیے نا قابل عمل ہو جاتا ہے۔

Read more

سات لاکھ پاؤنڈ اور پچیس سال

الجزیرہ نے حال ہی میں انگلینڈ کے ایک جاسوس کے انٹرویو کا انکشاف کیا ہے، نارمن ڈربی شائر جو کہ بیسویں صدی کے وسط میں جزیرہ قبرص میں ایم آئی سکس کے انچارج تھے۔ ڈربی شائر نے 1985 میں ایک انٹرویو دیا تھا [برٹش سیریز ”اینڈ آف ایمپائر“ کے سیزن کے لیے لیکن انہوں نے سکرین پر آنے سے معذرت کرلی تھی] اور ان کی درخواست پر اس وقت انٹرویو کو شائع نہیں کیا گیا۔ ڈربی شائر 1993 میں وفات پا گئے، اور ان کا انٹرویو نیشنل سیکورٹی آرکائیو نے 17 اگست 2020 کو جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں شائع کیا ہے۔ اس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ایم آئی سکس اور سی آئی اے اس سازش کے پیچھے کارفرما تھے جس کے ذریعے ایران کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کو اقتدار سے برطرف کیا گیا اور جس کا نام ”آپریشن آجیکس“ تھا۔

Read more

روایات کے اسیر

ساقی نامہ میں اقبال نے فرمایا: تمدن، تصوف، شریعت، کلام بتان عجم کے پجاری تمام استاد نے شعر میں تصرف کیا، وزن گر گیا، مفہوم واضح ہو گیا تمدن، تصوف، فقہ، کلام بتان عجم کے پجاری تمام شریعت کے ساتھ عجم کا جوڑ نہیں بنتا اور یہ کہ الہامی ہے، فقہ البتہ اعلی درجے کا کام ہے لیکن ہے ”انسانی کام“ ہی۔ شریعت اور فقہ میں کیا فرق ہے؟ ایک الہامی اور ابدی دوسرا انسانی اور زمانی، اس سے آگے

Read more

احسن تقویم سے اسفل سافلین تک

انسان کی راہنمائی کے لیے اس کے خالق کے کوئی کسر نہیں اتھا رکھی، فجور و تقوی کی پہچان کو اس کی تخلیق کے مرحلے میں الہام کیا، معاہدہ الست کیا، پے در پے انبیا اور رسل کا سلسلہ جاری کیا۔ ۔ جنہوں نے اس ”الہام“ کی ”یادہانی“ کرائی جو فطرت میں ودیعت کردہ تھا اور اس سلسلے کے اختتام پر اپنے کلام کو انسانی دست و برد سے محفوظ کرکے ابد تک انسانیت کے لیے ”حق کا میزان“ قرار

Read more

رخصت اور عزیمت میں کیا فرق ہے؟

درویش نے لکھا کہ ملک کے حالات صحافی کی حدود سے نکل کر قوم کے اجتماعی شعور تک پہنچ گئے ہیں۔ اب گفتگو تمثیلات اور تاریخی واقعات کے پیرائے میں ہونی چاہیے۔ تو آئیے ہم بھی اسی پیرائے میں دل بہلاتے ہیں۔ اس بات کا جاٰئزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں، اس رویے کو سمجھنے کی سعی کرتے ہیں کہ ہماری ستر سالہ تاریخ میں سیاستدان کیوں اقتدار کی کشمکش میں جبر کی قوتوں کے ساتھ کبھی افہام و تفہیم

Read more

ریاست اور مذہب کو الگ الگ کیسے کیا جائے؟

”ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ ’ استاد نے توقف کیا، وہ جاننا چاہ رہے تھے کہ ”ہمارا“ سے مراد کیا ہے، کیا یہ طالبعلم جغرافیائی لکیروں کے جال میں الجھا ہواہے ہا مذہبی حدبندی کے، جب سوال کرنے والا ہی الجھن کا شکار ہو تو جواب کیسے تشفی کرے گا، لیکن استاد نے اسے نظرانداز کیا اور گویا ہوِے ”ہمارا مسلئہ یہ ہے کہ ہم محکوم ہیں“ طالب علم کے آنکھوں میں بے الجھن کے سائے لہرائے کہ آزادی حاصل کیے

Read more

اخلاقیات کی بنیاد: مذہب یا سائنس؟

سوال اتنا سا ہے۔ اخلاقیات کا ماخذ طبیعاتی ہے یا مابعد طبیعاتی؟ ڈارون کا نظریہ ارتقاء جب انسان کے حیوانی وجود کی کڑیاں ملاتا ہے تو مذہبی بیانیے کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، اگر کوئی قدغن لگائی بھی گئی ہے تو وہ سطحی ہے۔ وجہ نزع اور بحث کا موضوع انسان کا اخلاقی وجود ہے۔ سائنس کا مقدمہ ہے کہ انسان نے اخلاقی اصول کا سفر ارتقائی انداز میں طے کیا۔ ”شکاری انسان“ کے اپنے پیمانے تھے جنھیں آج

Read more

جمہوریت یاترا

اقبال نے رومی کا ہاتھ پکڑا اورروحانیت کی منازل طے کرنے کے لیے قرہ العین طاہرہ کے حضور حاضر ہوِئے، طاہرہ نے مقطع میں نچوڑ رکھ دیا:

در دل خویش طاہرہ گشت و ندید جز ترا
صفحہ بہ صفحہ لا بہ لا پردہ بہ پردہ تو بہ تو

قرہالعین۔ زریں تاج۔ طاہرہ۔ 1 نیسویں صدی کے وسط میں ”بابی“ عقائد کی پاداش میں ناصردین قاچارکے دربار میں تہران میں پیش ہوئی، بابی عقائد کی پاداش میں سزائے موت کی حقدار ٹہری۔

Read more

جمہوریت کے لبادے میں پاپولزم کی پیش قدمی

پاپولزم کیا ہے؟ کتابی تعریف میں کیا رکھا ہے؟ آئیے جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں- تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کریں، "یوٹوپین” دنیا تخلیق کریں، "تابناک ماضی” سے یادیں مستعار لیں اور اس دنیا میں رنگ بھریں، اپنے تضادات اور احساس محرومی کو دنیا کے مسائل کی بنیاد سمجھ کران کا حل تجویز کریں، اپنے فکر کو "حق” کی کسوٹی سمجھ کر دوسروں کی اصلاح کا مسودہ تیار کریں، پہلے مذہب پھر فرقے کی بالادستی اور اس

Read more

حق حکمرانی

پچھلے دنوں وTس ایپ پر مکرمی وجا ہت مسعود صاحب کا کالم اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کیا۔ ایک محبی نے اس پر سخت تبصرہ کیا۔ چونکہ یہ کالم من و عن اس تبصرے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے اس کا خلاصہ بیان کرنا کفایت کرے گا۔ "یہ ہر وقت تم لوگ جمہوریت کی جگالی کرتے رہتے ہو۔ یہاں فرد کے بنیادی مسایل حل نہیں ہو رہے اور تم لوگوں کو ہرا ہرا سوجھ رہاہے۔ “ پہلے تو

Read more