نقیب اللہ محسود بنام چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب
از مقام علیین،
19 جولائی 2018
مخدومی جناب ثاقب نثار صاحب! السلام علیکم،
امید ہے کہ مزاج بخیر ہوگا۔ ویسے تو یہاں آئے میں نے اب تک دو تین خطوط اہل پاکستان کے نام ارسال کرچکا ہوں تاہم اب کی بار یہ خط مطلق آپ کے نام تحریر کررہاہوں۔ آپ کی عدیم الفرصتی کا مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ اس چند سطری عریضے کو پڑھنے کے لئے بھی آپ کوتھوڑا بہت وقت نکالنا پڑے گا تاہم جیسوں کی مجبوری کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے جن کا اس دنیا سے آب ودانہ تمام ہوچکاہے۔
جناب قاضی القضاة صاحب! دریافت طلب امر یہ ہے کہ تیرہ جولائی کو روشنیوں کے شہر میں ہونے والے اس پولیس مقابلے کے ماسٹر مائنڈ راؤ انوارکا کیا بناجس کے نتیجے میں ”راقم ” کو نہ صرف اپنی محبوب زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے تھے بلکہ انہیں لشکر جھنگوی اور ٹی ٹی پی جیسی مہیب تنظیموں سے تعلق رکھنے والا جنگجو ڈکلیئر کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی؟ لیکن الحمدللہ بعد میں وہ سبھی حقیقتیں طشت ازبام ہوگئیں جن کا ایسا انکشاف کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ تب شہر بہ شہر اور کُو بہ کُو میری بے گناہی اور عصمت کے لئے آوازیں بلند ہونے لگے۔ تب کراچی سے خیبر تک غیور عوام کی عدالت نے مجھے بری اور راؤ انوار جیسے سفاک کردار کو مجرم قرار دیا لیکن بدقسمتی سے سرکار کی عدالت میں تادم تحریر مدعا علیہ کو کڑی سزا سنانے میں تامل سے کام لیا جارہا ہے۔
بے شک سرکار کی عدالت میں طویل عرصے کے بعد میرا قاتل بہ نفس نفیس پیش تو ہوا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ ایک فاتح کی طرح پر عزم اور بادشاہ سلامت کی طرح مطمئن تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اکیس مارچ کو جب وہ عقبی دروازے سے اپنے محافظوں کے غول میں عالی عدالت میں وارد ہوئے تو اس کی ایک عجیب شان تھی۔ اسی وقت یہ خبر بھی سننے کو ملی کہ فاتحانہ انداز میں وہ آپ کے روبرو پیش ہوئے اور انکوائری کمیٹی میں منہ مانگی مخفی مخلوق کو شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا، لا حول و لا قوہ۔
ان کی اس خود سپردگی کو پھر گرفتاری کا نام دے کر دوبارہ اسی شہر منتقل کر دیا گیا جہاں میرے لہو کے چھینٹے تر و تازہ تھے۔ اگرچہ ان کے گھر کو نام تو سب جیل کا دیا گیا اور وہ ایک اسیر کہلایا گیا تاہم واقفان حال بتاتے ہیں کہ ایسے لاڈلے اسیروں کو جیل میں بھی وہ سب کچھ دستیاب ہوتے ہیں جو اس جہاں آب و گل میں نصیب والوں کو ملتی ہے۔ اگرچہ اسی وقت بھی میرے قاتل کی یہ ادائیں اور عدلیہ کی یہ خاموشی میرے لیے حد درجہ ناقابل برداشت تھی تاہم اس کے باوجود اس ادارے سے انصاف کی امیدوں کے چراغ میں نے گل ہونے نہیں دیے۔
ابھی چند دن پہلے ایک اور دل دہلانے والی نئی تازی خبر آئی ہے جوایک مرتبہ پھر میری اور میرے والدین اور کروڑوں بہی خواہوں کی روحوں پر بجلی بن کر گری ہے۔ اس خبر میں کہا گیا ہے کہ نقیب اللہ ماسید قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم اور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار آج کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت نے اسے دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی“۔
معزز چیف جسٹس! میرے لیے یہ خبر بھی انتہائی روح فرسا ثابت ہوا ہے کہ میرے قتل کی پیروی کرنے والوں پر بھی زمین تنگ کی جارہی ہے۔ ان کو ہراساں کیا جاتاہے کہ ظالم کا پیچھا کرنے کی بجائے اسے مزید ظلم کرنے دو، ورنہ تیرا انجام بھی تیرے شہید جیسا ہوگا۔ ابھی تو چند دن پہلے ملک کے ایک انگریزی جریدے نے اس سفاک قاتل کے بارے میں یہ انکشاف بھی کیاہے کہ ریاست کا یہ اثاثہ شہر قائد کی لینڈ مافیا کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ لوگوں کی زمینوں کو غصب کرنے والے اس مافیا کو معلوم تھا کہ جب تک ریاست کے اس اثاثے کی حمایت انہیں حاصل ہوگی، تب تک کوئی مائی کا لال بھی ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ مجھے اب یہ بات بھی سمجھ آئی ہے کہ راؤ انوار جیسے قاتلوں کو جس طرح جعلی پولیس مقابلوں کے اجازت نامے دیے جاتے ہیں تو انہیں یہ باور بھی کرایا جاتاہے کہ
پر شا چی نہ شے ہر سہ کوہ
چی موژ ژوندی وو، بریت تاووہ
معزز فاضل قاضی القضاۃ! میرا والا نامہ وصول کرنے کے بعد مجھے جوابی خط ضرور لکھیے گا جس میں یہ تصریح ضرور ہونی چاہیے کہ قتل عمد کے ایک ایسے بے رحم قاتل، جن کی گردن پر راقم کے علاوہ بھی سینکڑوں معصوم انسانوں کا خوں ہوں، کو کیوں ایک محبوب دلہن کی مانند پیش کیا جاتا ہے؟ آخر اس سفاک درندے کے پیچھے ایسی کونسی قوتیں کھڑی ہیں جس کو مات دینا کروڑوں عوام اور نہ ہی عدالت عالیہ کی بس کی بات ہے؟
نیز جوابی خط میں اس بات کی بھی کچھ ضمنی وضاحت بھی ہونی چاہیے کہ وزیرستان کے محسودوں کا خون کب تلک ایسا مباح رھے گا کہ اس سے رنگے ہوئے ہاتھوں کو دستانوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی؟ یہی چند شکوے آپ جناب کے گوش گزار کرانے کے بعد علیین کا یہ مکین آپ سے اجازت چاہتا ہیں، لیکن ایک بات یاد رکھیے گا کہ میرے اور سینکڑوں دیگر بے گناہ افراد کے قاتل راؤ انوار کا مقدمہ معزز عدالت اور معزز ججز کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے جس سے انصاف اور شفاف انداز میں نمٹنا ناگزیر ہے وگرنہ ریاست کے اس ستون کے اوپر بیس کروڑ عوام کا باقی ماندہ اعتماد کی عمارت دھڑام سے گر جائے گی،
والسلام
اپ کے انصاف و کرم کا منتظر
نقیب اللہ محسود از عالم بالا


