پی ٹی ایم : میرانشاہ اجتماع اورفرحت اللہ بابر کی گواہی

منظورپشتین نے جب بدقسمت پشتونوں کے تحفظ کے تحریک کا آعاز کیا تو مخالفین بھی حرکت میں آئے۔ بہتوں کو اس دبلے پتلے نوجوان اور ان کی ٹیم کے پیچھے ہندوستان کی جاسوس ایجنسی کا ہاتھ نظر آیا اور بے شمار لوگوں کو افغانستان سے اس تحریک کی ڈوریں ہلنے محسوس ہونے لگے۔ یھاں تک…

Read more

ہمارا لیول اور ہماری مسلمانی

” یہ دوسری صدی ہجری کا ابتدائی زمانہ تھا اور عرب معاشرے میں مسلمانوں کے بیچ مسلکی مناظرے ایک عام روایت تھی۔ ایک دن خارجیوں کی ایک جماعت امام ابوحنیفہ کے پاس آئی اور کہا کہ“ مسجد کے دروزے پر دو جنازے ہیں، پہلا جنازہ ایک ایسی عورت کی ہے جو زنا سے حاملہ ہوئی تھی اور بالآخر شرم کے مارے خودکُشی کرکے مرگئی۔جبکہ دوسرا جنازہ ایک مرد کا ہے، جو شراب کا پکا عادی تھا اور شراب پیتے پیتے ان کی موت واقع ہوئی ”۔ امام نے پوچھا کہ ان دونوں کا مذہب کیا تھا؟ کیا یہودی تھے یاعیسائی تھے؟ خارجیوں کا جواب نفی میں تھا۔

Read more

مفتی محمد تقی عثمانی سے بھی دشمنی؟

کراچی کو جس طرح پورے ملک کا معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے اسی طرح اس کے دینی اور علمی مرکز ہونے میں بھی دورائے نہیں۔ سہارنپور (ہندوستان) کی سرزمیں کو ایک زمانے میں دارالعلوم دیوبندجیسے دینی ادارے کا شرف حاصل تھا، الحمدﷲ یہی شرف آج کل کراچی کو دارالعلوم کورنگی، جامعہ بنوری ٹاون اور جامعہ…

Read more

نیوزی لینڈ حملہ : شُوٹنگ یا کھلی دہشت گردی

نیوزی لینڈ شہر کرائسٹ چرچ کی مسجدوں میں جمعہ کو ہونے والا فائرنگ حملہ اس ملک کی تاریخ کا سب سے سفاک حملہ تھا۔ اس حملے میں پچاس بے گناہ نمازی پل بھرمیں شہید اور اتنی ہی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ خون کی یہ ہولی اس وقت کھیلی گئی جب ڈینزایونیوکی ”النور“ اور لن…

Read more

سیانے پٹھان کہتے ہیں

سیانے پٹھان کہتے ہیں کہ ”ا حمق جب حماقت پر اتر آتا ہے تو مخالف کا اتنا نہیں بگاڑتا جتنا نقصان وہ خود کو پہنچا دیتا ہے“۔ پاکستان دشمنی کے سلسلے میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بھی وہی احمقوں والا گیم کھیل کراپنے ملک کی وقعت کا جنازہ نکال دیا۔ پلوامہ حملے کا وجہ…

Read more

پاک بھارت کشیدگی اور مودی

جنگیں دراصل دوصورتوں میں لڑی جاتی ہیں۔ پہلی صورت میں لڑنے والی جنگوں کو ہم ناگزیر صورتحال سے جنم لینے والی جنگیں کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پرحالات اضطراری بن جاتے ہیں اوردشمن کے اقدام سے نمٹنے کی خاطر ایک ملک کو چاروناچار جنگ کی آگ میں کھودناپڑتاہے۔ جبکہ دوسری صورت میں لڑنے والی جنگوں کاسبب ناگزیر حالات نہیں ہوتے بلکہ اس کے پیچھے مطلق رعونت اور عیاشی کارفرما ہوتی ہے۔ ایسی جنگوں کی نوبت جب آتی ہے تو پھر طبل جنگ بجانے والے کسی معقول دلیل کوخاطرمیں لاتے ہیں، نہ ہی کسی کی مشاورت کاسہارالیتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے بیچ چھڑنے والی حالیہ جنگ بھی عیاشانہ جنگ کی ایک بین مثال ہے جس کاسہرانریندر مودی حکومت کو جاتا ہے۔ مودی نے ایک عیاشانہ جنگ کی ابتداء تو کردی لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ آگے چل کر اس کے نتائج تباہی، بربادی اور انسانی جانوں کی ضیاع پر منتج ہو گا۔ نریندرمودی نے ایک غیرمعقول جنگ کا دروازہ تو کھول دیا لیکن ڈیڑھ ارب آبادی کے اس انتہا پسند حکمران کہ یہ معلوم نہیں تھاکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ملکوں کے درمیان یہ جنگ کسی بھی وقت جوہری ہتھیاروں کی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

Read more

پاک بھارت کشیدگی: کون جیتا کون ہارا؟

جنگیں دراصل دوصورتوں میں لڑی جاتی ہیں۔ پہلی صورت میں لڑنے والی جنگوں کو ہم ناگزیر صورتحال سے جنم لینے والی جنگیں کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پرحالات اضطراری بن جاتے ہیں، دشمن حملہ آور ہو جاتا ہے یوں دشمن کے اقدام سے نمٹنے کی خاطر ایک ملک کو چاروناچار جنگ کی آگ میں…

Read more

خانوزئی اور پھولوں کے جنازے

بلاشبہ انسانی زندگی مختلف سانحات اورالمیوں سے عبارت ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ روئے زمیں پر ہر ذی روح کو فنا ہوناہے اور صرف خداوندباری تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہنی ہے ”کُل مَن علیہا فان ویبقیٰ وجہ ربک َذُوالجلالِ والاکرام (القرآن) ۔ ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے اور ہونا چاہیے کہ پَل پَل بدلتی انسانی زندگی میں تقدیر کے رول کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن ان لوگوں کی عقل پرتو ماتم ہی کیا جاسکتاہے جو ہرناخوشگوار واقعے کو صرف مقدر کی کارستانی کہہ کر انسان کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ اگر ان قابل رحم انسانوں کی بات کو مان لیاجائے تو پھر اس کا یہ مطلب ہوتاہے کہ انسان ایک مجبورِ محض مخلوق ہے اور نظام زندگی میں ہونے والی خرابیوں کے ادنیٰ درجے کی ذمہ داری بھی اس پر عائد نہیں ہوتی ہے۔

Read more

اغیار میری زبان کو ایک دوزخی زبان سمجھتے ہیں

ہر انسان کی فطری زبان ان کی اپنی مادری زبان ہوتی ہے۔ مادری زبان کو بھلا کر بعض لوگ حقیقت میں اپنی ماں اور فطرت کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مادری زبان ہی میں انسان اپنا اظہارمافی ضمیر کسی بھی دوسری زبان کے مقابلے میں بہترکرسکتاہے۔

ماں کی زبان حقیقت میں خواب وخیال کی زبان ہوتی ہے اسی لئے علم نفسیات اور لسانیات کے ماہرین اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ بچوں کو ایسی زبان میں تعلیم دینی چاہیے جس میں وہ خواب دیکھتے ہوں۔ ان ماہرین کا یہ دعویٰ بھی طویل تجربات کے بعد سچ ثابت ہوا ہے کہ جس بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، نتیجے کے طورپر وہ ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں جنہیں یہ مواقع میسر نہ ہوں۔

Read more

ریاستی انصاف کی صرف چار مثالیں

کیا ریاست انصاف کی فراہمی میں سنجیدگی دکھا رہی ہے؟ میں نے نفی میں سر ہلایا کیونکہ میرے دوست کے اس سوال کا جواب مجھے دس سیکنڈ کے اندر مل چکا تھا۔ میرے دوست نے اس نفی کی وجہ پوچھی تو ماضی میں جانے کی بجائے میں نے بات کا آغاز پچھلے سال کی جنوری…

Read more