سکھر کی سڑک پہ ایک غیر سیاسی سفر
آج کل میرے خوبصورت شہر سکھر میں اس کی ”خوبصورتی” کے خلاف گہری سازش ہوتی محسوس ہورہی ہے۔ کوئی ڈیڑھ ماہ قبل سے ایک دم ہی شہر کی تزئین و آرائش پہ کام ہوتا لگ رہا ہے۔ کیاریاں بن رہی ہیں۔ درخت لگائے جارہے ہیں۔ اور فی الحال شہر کی شکل کچھ ایسی ہے جیسے آپ ایک عوامی قسم کی ٹرین کی اکانومی کلاس میں بیٹھ کے خیبر تا کراچی آئیں اور منہ دھوئے بغیر میک اپ کرنے کے بعد جیسے آپ لگیں گے۔ اگر آپ نے کبھی اکانومی کلاس میں سفر نہیں کیا تو میں آپ کو ایک اور مشورہ بھی دے سکتی ہوں مگر موسم کے تیور کے مطابق یہ ایک جان لیوا مشورہ ہوسکتا ہے۔ اور وہ یہ کہ بائیک پہ ایک چکر سکھر شہر کا لگا لیں، نتائج یکساں ملیں گے۔
ہمیں ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ ہمارے خوبصورت شہر کی خوبصورتی کے باعث پچھلے کچھ سالوں سے یہاں رہنے والوں میں سانس کی بیماریوں میں قابل ستائش حد تک اضافہ ہوا ہے۔ مابدولت خود بھی اس اعزاز کا شرف حاصل کر چکی ہیں۔
اگر آپ پیچیدہ وڈیو ریسنگ گیم کھیلنے کے شوقین ہیں تو آپ کو سکھر آنے کھلی دعوت ہے۔ یقین مانئیے آپ عمدہ سے عمدہ اور پیچیدہ سے پیچیدہ ریسنگ گیم بھول جائیں گے۔
صبح صبح گھر سے نکلیے تو پہلی باری یوں جائے گی کہ آپ گھر سے نکلتے ہی مچھروں سے سجے نالی کے پانی پہ نزول کریں گے۔ اب حسب ذائقہ صفائی کر کے گیم دوبارہ شروع کیجیے۔ اب آپ کے پاس دو چوائسز ہیں یا تو ویگن میں ٹنگ جائیے یا شان سے رکشے والے کی بغل میں بیٹھیے۔ ٹنگ ٹنگ ٹنگ فرسٹ لیول پاس۔ چلیے جی رکشہ چل پڑا جو کہ ہر قسم کی دنیاوی تام جھام سے مبرا ہے نہ سائیڈ اور بیک ویو مرر ہیں نہ ہارن۔ یہ سادگی آپ کو سڑک پہ موجود ہر رکشہ اور بائیک پہ ملے گی۔ میں صدقے قربان، ماشاﷲ، اﷲ ہمارے شہر کے لوگوں کی ڈرائیونگ سینس کو نظر بد سے بچائے۔ اوہ ہاں ہمارا رکشہ چل رہا ہے سوری سوری۔ لوگ موت کے کنویں میں گاڑی چلاتے دیکھے ہوں گے اب رکشہ بھی دیکھ لیں۔ تو جی رکشہ اپنی ہمت کے مطابق برق رفتاری سے چلا جارہا ہے۔ آپ رستے میں گزرتے ہر شخص سے پچھلے سال تک کا حال پوچھ کے دوبارہ رکشے میں بیٹھ سکتے ہیں رستے میں آپ کو کچھ کھنڈر نظر آئیں گے جہاں ایک گروہ خوش گپیوں میں مصروف ہوگا یہ ہمارے سرکاری اسکول اور اس کے اساتذہ ہیں۔ بیچ میں ہی ایک دو بار آپ کا یورپ سے بھی گزر ممکن ہوسکتا ہے جلدی سے علاج کروائیے بچ جائیں تو دوبارہ رکشے میں بیٹھ جائیے۔
آپ کا رکشے والا اب آگے جاتی گدھا گاڑی کو اوور ٹیک کر کے بائیک والے انکل کے سر پہ پہنچ گیا ہے اور کیوں کہ نہ بائیک والے انکل کے پاس بیک ویو مرر ہیں اور نا رکشہ والے کے پاس ہارن تو آپ کا کام ہے کہ آپ بائیک والے کو تھپکی دے کر سائیڈ کرائیں۔ اور رفتار دھیمی کرنا ناممکن ہے تو چند پہیے دور سے ہی اوئے اوئے کا سگنل دے دیں۔ بائیک والے انکل اگر گل محمد ثابت ہوں تو انہیں ایک اچھی والی سائیڈ مار کر آگے جاکر رکشہ رکوائیں اور انکل کو بیچ سڑک میں روک کے بتائیں کہ اوئے اوئے کے جواب میں سائیڈ پہ ہونا ہوتا ہے۔ ساتھ میں بہت اخلاق کے ساتھ ان کے گھر کی خواتین کا تذکرہ بھی کرتے جائیے۔ اب اگر آپ کا گھونسا تگڑا تو لیول ٹو پاس اور انکل کا گھونسا جاندار تو ایک اور باری گئی۔
چلیے جی آدھے گھنٹے بعد گیم دوبارہ شروع ہو گیا۔ ساتھ ہی آپ کی وجہ سے رکا ٹریفک بھی۔ بے فکر رہیے پیچھے والے آگے جاکر کہیں نہ کہیں آپ کو مکافات عمل سے گزرنے پہ مجبور کر دیں گے۔ اب آپ کچرے کے ڈھیروں سے بچتے، ٹوٹی سڑک کے پیچ و خم سے لطف اندوز ہوتے، لوڈ شیڈنگ اور پانی نہ آنے کی وجہ سے احتجاج کرتے مجمعے سے گزر کے زیر تعمیر عمارت کے تعمیری سامان تک جاپہنچے جو کہ آدھی سڑک تک مزے سے ”نیند کر رہا ہے” اب آپ کے پاس دو راستے ہیں یا تو یاہو کا نعرہ لگائیں اور سامان میں گھستے چلے جائیں یا پھر یاہو کا نعرہ لگائیں اور سامنے سے آتی ہوئی ٹریفک میں گھس جائیں۔ ورنہ سائیڈ میں کھڑے ہوکر عمارت مکمل ہونے تک ناخن چبائیے۔ اگر آپ میں دس پندرہ سال کھڑے رہنے کی ہمت ہو تو۔ کیوں کہ یہ زیر تعمیر عمارت ویسے ہی پچھلے دس سال سے زیر تعمیر ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد غیر قانونی زمین پہ تعمیرات کی وجہ سے اس کی تعمیر روک دی جاتی ہے اور پھر ہاوس بلڈنگ کارپوریشن والوں کی نظر بچتے ہی دوبارہ تعمیر شروع۔ پھر ناقص مٹیریل کی وجہ سے پھر بند اور پھر نظربچتے ہی پھر شروع۔ اب یہ نظر کیسے بچائی جاتی ہے یہ ہم سب جانتے ہی ہیں۔ تو جناب ایسی کئی عمارتیں سکھر میں زیر تعمیر ہیں اور کئی اپنی ناقص کوکھ میں انسانوں کو سموئے کھڑی ہیں۔ اگر جو سکھر ذرا سا فالٹ لائن پہ ہوتا تو تاریخ کے طلبہ کا سلیبس بہت آسانی سے بڑھ جاتا۔
اوہو آپ ابھی تک سائیڈ میں کھڑے ناخن چبا رہے ہیں آئیے ورنہ لیول تھری پہ ہی ہار جائیں گے۔ تو جی اب لیول تھری پار کرکے اگلا لیول آگیا اس باریک سی سڑک پہ آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں یا تو ٹریفک صرف آرہی ہے یا صرف جارہی ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی قسم کے پہیوں کا مالک ہے وہ رستہ بنانے کی کوشش میں ہے اور صورت حال کچھ یوں ہے کہ سڑک کے بیچوں بیچ دونوں اطراف کے رکشے و گاڑیاں ایک دوسرے کی ہیڈ لائٹس میں ہیڈ لائٹس ڈالے خونخوار طریقے سے ایک دوسرے کو گھور رہی ہیں اور اچھے کپڑوں والے انکل (ٹریفک سارجنٹ) ناپید ہیں۔ رکشہ اور گاڑیوں کے بیچ موجود خالی جگہوں پہ خوبصورتی سے بائیکس کی فلنگ ہے۔ اس کا ایریل ویو بچوں کو ٹھوس اشیاء میں ایٹمز کی مثال سمجھانے میں انتہائی کار آمد رہتا ہے۔ لیول فور پار کرنے کے لیے آپ کو رکشے سے اتر کے اس منی پزل کو حل کرنا ہے کہ کہاں سے کونسے رکشے اور ٹیکسی کو جنبش دی جائے گی کہ آپ کے رکشے کی آگے جانے کی جگہ بنے۔ باقی ٹریفک پہ اس کا کوئی اثر پڑے نا پڑے آپ کی بلا سے سب کا لیول فور پار کرانے کا ٹھیکہ تھوڑی ہے آپ کا۔
امید ہے سکھر ہی وہ شہر ہوگا جہاں سب سے پہلی بلی کی خصوصیات رکھنے والی گاڑیاں متعارف ہوں گی جو چھوٹی سے چھوٹی جگہ سے بھی سٹک سے نکل جائیں۔ بلکہ ایک نئی اور کار آمد ایجاد اور بھی ہوسکتی ہے جس کی سکھر والوں کو ہی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ سڑک پہ گاڑی میں آپ کو لگنے والے جھٹکوں سے چارج ہونے والا پنکھا۔ کرنا صرف اتنا ہوگا کہ روز اس کی بیٹری پیٹ پہ باندھ کے نکل پڑئیے۔ اور واپس آکر مزے سے گرم ہوا کے تھپیڑوں سے لطف اندوز ہوئیے۔ (پی ایس۔ سکھر میں پنکھوں سے صرف دسمبر جنوری میں ٹھنڈی ہوا آتی ہے)۔ ان مفت کے جھٹکوں سے آپ فزیو تھیراپی سمیت اپنے ذوق اور اخلاقیات کے مطابق کئی فوائد مزید حاصل کر سکتے ہیں۔ بس بندے کو تخلیقی ہونا چاہیے۔
میں نے کتنی ساری ادھر ادھر کی باتیں بگھار لیں مگر دیکھیے آپ ابھی تک رکشہ کی جگہ بنانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ اتنا آسان تھوڑی ہے بھائی۔ جلی کو آگ کہتے ہیں بجھی کو خاک کہتے ہیں اور پندرہ منٹ کے رستے سے جو تین گھنٹے میں جلدی سے پہنچ جائے اسے سکھر والا کہتے ہیں۔ اور خبردار کوئی مجھے یہ نہ بتائے کہ مصرعہ وزن میں نہیں۔ اس مصرعے پہ پہلے کونسا وزن میں جوڑ لگائے جاتے ہیں جو میں لگاوں۔
چلیے معاف کیا آپ کو، مزید جان جوکھم میں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ چھوڑئیے گیم ویم، جائیے اپنے شہر میں بور ہوں اور ہمیں روز اس دلچسپ ایڈونچر کے مزے لوٹنے دیں۔ کیوں کہ ہمیں اسی ایڈونچر میں مزہ آتا ہے۔ غریب عوام کے لیے یونیورسٹی کوئی ہے نہیں کہ وہاں جاکر لڑکے لڑکیاں فراغت میں عشق و عاشقی ہی کرسکیں۔ تو اب کرنے کو یہی ایڈونچر رہ جاتا ہے۔ (ایک اور پی ایس: اوہ یہ نئی نسل کو بگڑنے سے بچانے کا اقدام ہے گڈ، ویل ڈن)۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ باقی لوگ ووٹ سے حکمران چنتے ہیں، سکھر والوں نے ماضی میں ووٹ سے ابو چن لیا۔ اب کوئی احترام ہوتا ہے، ابو بھی کوئی بدلا جاتا ہے؟ تو اب ہر دفعہ ابو کو جتوانا پڑتا ہے تاکہ یہ ایڈونچر کبھی ختم نہ ہو۔
اور جو حالات یہاں کے ہیں بالفرض کوئی اور ابو آئے بھی تو وہ بھی ابو ہی بن جائیں گے، عوام کے نمائندہ نہیں کیوں کہ بہت سادہ بات ہے۔ آپ ناقص مشین سے ناقص مال ہی بنا سکتے ہیں۔ جب تک نظام نہ بدلے، شکلیں بدلتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ ہمارا سیاست کا سوپ سیریل ہے یہاں صرف چہرے بدلتے ہیں کہانی وہی پرانی رہتی ہے۔


