آپ عجیب سوال کرتے ہیں تعمیراتی منصوبوں میں وزرائے اعلیٰ کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا؛ پرویز خٹک اور پشاور میٹرو کا سوال


سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میٹرو سے متعلق نیب کی انکوائری کو ویلکم کرتا ہوں، پشاور میٹرو پراجیکٹ مکمل طور پر ایشین ڈویلپمنٹ بینک چلارہا ہے، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی کمپنی اس کی کنسلٹنٹ ہے، اس منصوبے میں جو بھی تبدیلیاں یاتوسیع ہوئی وہ ایشین ڈویلپمنٹ نے کیں صوبائی حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کا کام صرف میٹرو پراجیکٹ کی نگرانی کرنا تھا، ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے ہی کانٹریکٹر کی منظوری بھی دی، پشاور میٹرو منصوبے میں ایسی کوئی غلط بات نہیں ہوئی جتنی بڑی بات اس وقت بن گئی ہے۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پشاور میٹرو پراجیکٹ مکمل کرنے کا معاہدہ چھ مہینے کا تھا لیکن تبدیلیوں کی وجہ سے ایشین بینک توسیع کرتا رہا، یہ منصوبہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا ہے ہمارا تو کوئی کام ہی نہیں ہے، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا پیسہ ہے وہ خود سب کچھ مانیٹر کرتے ہیں، پری کوالیفکیشن انہوں نے کی جبکہ بلنگ اور ادائیگی بھی وہ خود کرتے ہیں ہم تو صرف اپنا شیئر ان کو دیتے ہیں۔

پشاور میٹرو منصوبہ پنجاب اور اسلام آباد کے میٹرو بس منصوبوں سے سستا ہے، اس منصوبے کی لاگت میں 220 بسیں بھی شامل ہیں جبکہ پنجاب میں بسیں کانٹریکٹ پر چلائی جارہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ آپ عجیب سوال کرتے ہیں تعمیراتی منصوبوں میں وزرائے اعلیٰ کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا انجینئرز کام کرتے ہیں، محکمہ تعمیراتی لاگت کا تخمینہ بناتا ہے اوپر صرف منظوری کیلئے آتا ہے، تجربہ صرف یہی ہے کہ یہ اچھی چیز ہے یا بری چیز ہے، آپ غلط جارہے ہیں میں نے ایسے جواب دیدیا توآپ خفا ہوجائیں گے، چیلنج کرتا ہوں پشاور اور پنجاب میٹرو بس منصوبوں کا اسٹرکچر چیک کرلیں ہمارا اسٹرکچر بہتر ہوگا، تجربے کی بات نہ کریں تجربہ کسی کا نہیں ہوتا، پراجیکٹ بنتا ہے تو آئیڈیا دیتے ہیں آگے ڈپارٹمنٹس کام کرتے ہیں، میں یا شہباز شریف سارا دن بیٹھ کر حساب کتاب نہیں کرتے، انہوں نے لاہور کھودا تو ٹھیک پشاو ر میں کھدائی کی گئی تو غلط ہے۔

Facebook Comments HS