کہاں کی آزادی کیسی آزادی ؟


آزاد ی ایک حسین محبوبہ جس کی خاطر انگنت عاشقوں نے جانیں دی، سولی چڑھے، سماج کی چکی میں پسے، کہنے کو تو پاکستان ایک آزاد ملک او ر اس کے شہری آزاد انسان ہیں لیکن کیا ہم واقعی آزاد ہیں۔ انسانوں کو غلام بنانے کا دور ختم ہوئے زمانہ ہو ا لیکن آج بھی ہم واقعی آزاد ہیں؟ کیا صرف سوچنے کی بھی آزادی ہمیں میسر ہے؟ ہم جو آزاد پیدا ہوئے انگنت، اندیکھی زنجیروں میں قید کردیے گئے۔ پیدا ہوئے تو نام کسی نے رکھا اور زندگی کا فیصلہ کسی اور نے کردیا۔ ہم سے بنا پوچھے ہمارے مذہب مسلک کا فیصلہ بھی کردیا گیا۔

ہمیں تو سوال کرنے کی بھی آزادی نہیں۔ گھر میں کسی بات پر سوال نہیں کرسکتے، کسی بڑے کو جواب نہیں دے سکتے یہاں تک کہ وہ سوال بھی کررہا ہو تب بھی نہیں کہ بڑوں کو جواب دینا گستاخی ہے اور شریفوں کا یہ شیوا نہیں۔ زمانہ طالب علمی میں استاد سے کوئی ایسا سوال پوچھ لیا جس کا جواب استاد کو نہ آتا ہو تو بس شامت آگئی۔ رٹا لگائے استاد کی انا کو ٹھیس پہنچادی کہ کیسے ایک نیکر پہنے بچے کی ہمت ہوئی مجھ سے سوال کرنے کی، پھر کیا استاد سے نام نہاد استادی دکھانے کا صلہ کچھ یوں ملتا کہ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنتے اور اگر یہی واقعہ یونیورسٹی میں ہو تو استاد جو سب کچھ کا مالک ہے جس سے کوئی کچھ پوچھنے والا نہیں، وہ مطلع العنان آمر کی صورت آپ کے سالوں فیل کرتا رہے گا یہاں تک کہ آپکی ہمت ٹوٹ جائے یا اس کیسانسوں کی ڈو ر۔ انا تو ہمارے تعلیمی ادروں کے کرتا دھرتا اور استادوں میں معمول کی بات ہے۔

نوکری میں آزادی دیوانے کا خواب ہے۔ اس حقیقت سے کون نہ آشنا ہے؟ خاص کر نجی اداروں میں نوکری کرنے والے جدید دور کے غلام اس حقیقت سے خوب واقف ہیں۔
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان!

کیا آج کل کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ مصرع درست دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسے یوں نہیں ہونا چاہیے تھا کہ! کیوں دی ہمیں آزادی! کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ قائد نے ہمیں آزادی کا تحفہ کیوں دیا تھا؟ آخر قائد ہم سے چاہتے کیا تھے؟ آزاد ملک دلانے کا مقصد کیا تھا؟ ہوش سنبھالا تو اس ملک میں سویلین اور اسٹیبلشمنٹ کی جنگ ہی دیکھی اس جنگ میں نقصان کس کا ہوا؟ صرف میرے جیسے عام انسان کا۔ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے سیاست دان چور ہیں ان لوگوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے بجا فرمایا عالی جاہ لیکن خاکسار جب آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان سیاست دانوں کو چوری کا راستہ کس نے دکھایا تو آپ لوگ اپنی طاقت سے میر ی زبان بند کر نے پر تل جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر آزادیِ رائے سب کے لئے کا نعرہ لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری طرف ہمارے پیارے سیاستدان بیچارے اتنے معصوم ہیں کہ ان کی تعریف کیا بیان کرسکوں۔ نواز شریف صاحب آج کل جیل یاترا پر ہیں اور یہ ایسے ہی ہے جیسے ساری زندگی گناہ کرو اور ایک حج کر کے اپنے سارے گناہ بخش والو۔ معصوم میاں صاحب کی معصومیت پر قربان جاؤں آج کل میڈیا کی آزادی کی بات ایسے کر رہے ہیں جیسے صاحب ساری زندگی آزادی کے قائل رہے ہیں۔ پرچی پکڑ کر تقریر کرنے والے میاں صاحب سے کوئی آزادی کی تعریف پوچھے۔ جو انسان اپنی پارٹی میں آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کر نے والے پرانے ساتھی چوہدری نثار کو صرف اس بات پر چلتا کردے کہ وہ ان کی شہزادی کے نیچے کام کرنے کو تیا ر نہیں اور جو انہیں سمجھائے کہ میاں صاحب اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کسی کے مفاد میں نہیں۔ جس نام نہاد جمہوری پارٹی میں اختلاف کا حق بھی نہ ہو وہ لوگ آزادی کی بات کرتے اچھے نہیں لگتے او ر مملکت خداداد کے نام نہاد لبرلز اور کچھ صحافی حضرات میاں صاحب کی حقیقت کو جان کر بھی انجان بنے ہوئے ہیں اور میاں صاحب کی گاڑی کو دھکا لگانے میں جتے ہوئے ہیں۔ سیاستدانوں کا کام تھا اپنا دامن صاف رکھتے اور پھر جرنیلوں کی کرپشن کا حساب مانگتے جبکہ یہ خود ڈاکے مارتے ہیں اور جرنیلوں سے حساب مانگتے ہیں۔

ہم جس معاشرہ میں رہتے ہیں وہاں مذہب پر بات کرنا ایسا ہی کہ اے عزرائیل آجا اور مجھے لے جا۔ ہم اگر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو ہمارے معاشرہ کے انتہاپسند مذہب کے حولدار بن کر آپ کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم خود کو مسلمان اور دوسروں کو کافر سمجھتے ہیں۔ آپ انہیں کافر سمجھنے کے بعد قابل قتل سمجھتے ہیں۔ آپ ان کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ انہیں رہنے کی اجازت نہیں دیتے خود کو ہمیشہ
ٹھیک او ر حق پر اور دوسرے کو ہمیشہ غلط اور باطل پر سمجھنا بھی ایک بیماری ہے۔

آزادئی اظہار کو عمومًا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ خاموشی کو یہاں عبادت سمجھ کر لوگ چپ رہتے ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ عبادت کب تک جاری رہتی ہے۔ جینے کی آزادی، بولنے کی آزادی، رائے دینے کی آزادی، یہ سب حسین نعرے ہیں ہم آزاد رہنے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔

ہم آزادی ِ فکر، آزادیِ رائے، آزاد ئی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، آزادی، فقط ہمارے خود پر قابو پاسکنے کے اختیار کے استعمال کا نام ہے۔ یہ اختیا ر جتنا زیادہ چاہو استعمال کرو! یہی آزادی ہے۔ خود پر قابو پانے کی تمہیں کھلی آزادی ہے۔ جتنا جی چاہے پالو!

Facebook Comments HS