مما، میں ووٹ کسے دوں

بے خبر سو رہی تھی کہ یکے بعد دیگرے فون لرز اٹھا۔ گھبرا کے اٹھی کہ یا اﷲ سب خیریت ہو۔ فون جو دیکھا تو پانچ عدد فارورڈ میسج تمسخرانہ انداز میں منہ چڑا رہے تھے۔ میری قوم کل اگر کالا باغ ڈیم پہ اتنی متحرک ہوتی تو آج کو یہ بن بھی چکا ہوتا۔ Dunkin Donuts فری ڈونٹ دے رہا ہے اپنی سالگرہ پہ، اور ہر ذی روح اگلے تیس نمبرز کو یہ چیخ چیخ کے بتا رہا تھا کہ اسے ڈونٹ مل سکیں۔ میری قوم متفق بھی ہوئی تو کس بات پہ۔ پھر تو ان ان لوگوں نے بھی مجھے یاد کیا جو میری صورت دیکھنے کے بھی روادار نہیں۔
نہ دن سکھی نہ رات۔ سارا جمعہ پرانے پاکستان کے آخری جمعے کی مبارکباد وصول کرتے گزرا، یا تو میرا مزاج کافی حد تک منفی سوچ کا حامل ہے یا لوگ دس قدم آگے مثبت مزاجی میں غوطہ لگا بیٹھے ہیں۔ ہمیں کیوں سمجھ نہیں آتا کہ ہمارے ساتھ کوئی معجزہ نہیں ہونے والا۔ ہم میں سے ہی لوگ ہم پر آ کے مسلط ہونے والے ہیں۔ ہم ہی میں سے لوگ تھے جو آج تک بگاڑ بھی کرتے آئے ہیں۔ کوئی بھی جادو کی چھڑی لا کے نہیں گھما دے گا۔ پاکستان کو تبدیل ہونے کی ضرورت کبھی بھی نہیں تھی۔ یہاں کے لوگوں کو ہی نیند کی خماری سے جاگنا ہو گا۔ سڑک ہی خراب ہو تو ٹائرز بدلنے کا خاطر خوا ہ نتیجہ نظر نہیں آیا کرتا۔ میرا پاکستان تو روز اول سے اسی طرح ہے، ہر شخص کو اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو نوچ کھسوٹ کے کھانے والے ہم میں سے ہی تو ہیں اگر یہ سوچ بیدار نا ہوئی تو عمران خان ہو یا کوئی اور، ایک سیماب میں اپنا عکس ہی ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔ یہ سوچ کے میں نے ایک دعا فیس بک پہ ڈال دی۔ ملک کے لیے دیانتدار اور رحم دل حکمران کی دعا۔
’اے اﷲ! ہم پر ایسے شخص مسلط نہ فرما جو ہم پہ رحم نہ کرے۔‘
میرے دن آج کل کراچی میں گزر رہے ہیں۔ قارئین لوگوں میں عجیب بے چینی دیکھی۔ جوں جوں الیکشن نزدیک آ رہے ہیں لوگوں میں کسمپرسی کا عالم بڑھ رہا ہے۔ کراچی میں پچھلے الیکشن سے لوگ پی ٹی آئی کی طرف جھکنا شروع ہو گئے تھے۔ مگر اس وقت بھی ایم کیو ایم کا راج ختم نہیں ہوا تھا۔ کیوں کہ لوگوں کو ا تنی آسانی سے ا عتبار نہیں آ پاتا کسی پہ۔ قارئین کراچی والے تو آج بھی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کراچی اور سندھ میں کیا ہو گا۔ وہ آج بھی کراچی کو ملک کا دارالحکومت ہی مانتے ہیں ۔ بڑے بوڑھے یہ حقیقت آج بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے۔ مہاجروں کے مسائل حل کرنے والا مسیحا سچ میں آئے گا بھی کہ نہیں، ان کا یہ خوف بھی دور نہیں ہو تا۔ ہم کراچی والوں سے کوئی مخلص ہے بھی کہ نہیں۔ ایسے میں تنکا تھی ایم کیو ایم سہارے کے لیے، سب اسی کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ چونکہ نئی نسل نے اس زمرے میں ہوتی کوئی زیادتی نہیں دیکھی کبھی ، نہ نوکریوں میں، نہ داخلوں میں، تو انھیں یہ حقائق تسلیم کرنے میں ہمیشہ مشکل درپیش رہتی آئی ہے۔ بالآخر نئی نسل نے اپنا ہاتھ کرکٹ کو یعنی عمران خان کو پکڑا دیا۔
اس دفعہ ایم کیو ایم ہی ٹوٹ گئی۔ میں نے لوگوں میں خاصا اضطراب دیکھا۔ انہیں سر پکڑے گفتگو کرتے دیکھا کہ کیا کریں۔ آخر کیوں ایسا ہے کہ کوئی بھی کراچی میں لوگوں کا سر سہلا کے اپنائیت سے نہیں آیا کہ سنو میں آ گیا ہوں۔ فکر نہ کرنا۔ اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ایسا ہوتا تو لوگ اتنا پریشان کیوں کر ہوتے۔ ایک شخص ڈالفن کی طرف جاتا ہے تو باقی چار اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ایک شخص پتنگ کی طرف جائے تو باقی چار کہتے ہیں کہ اب تو ایم کیو ایم میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ شناخت نہیں رہی۔ بڑے بوڑھے ابھی پوری طرح عمران خان پہ اعتبار نہیں کر پائے ہیں، درحقیقت کسی نے کوئی خاص کوشش بھی نہیں کی۔ ہاں ایک بڑی تعداد عمران خان کو چانس دینے کو تیار ہو چکی ہے کیونکہ ان کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا۔ کراچی والوں کے عدم اعتماد کی ایک بڑی دجہ پچیس سال سے جاری آپریشن بھی ہے۔ اور جب ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اس طرح کراچی کی زبان اور ثقافت کا ملکی میڈیا پر مذاق اڑائیں گے تو عوام کا عدم اعتماد اور احساس محرومی تو اور بڑھے گا۔
سعد اور معاذ کا بھی شناختی کارڈ بن گیا تھا۔ اس دفعہ ان دونوں نے بھی ووٹ ڈالنے جانا ہے۔ سب بہت خوش تھے۔ ہمیں لگا کہ بچے اس عمر میں اتنا تو سوچ سمجھ ہی لیتے ہیں، باقی ہم سب نے اتنا شعور تو دے ہی دیا ہو گا کہ انھیں سمجھ آ جائے کہ ووٹ کسے ڈالنا ہے۔ بچوں کو عمران خان پسند ہیں، وہ جائیں گے اور ووٹ ڈال دیں گے۔ گھر میں سیاسی بحث و مباحثہ چلنا بھی آج کل اتنی کوئی اچھوتی بات نہیں ہے۔ مگر رات ایک عجیب بات ہوئی ۔ نجانے کیوں وہ ساری گفتگو، تبادلۂ خیال جو اتنے دن سے ہوتے آ رہے تھے، شاید سن کے گھبرا گئے بچے یا کیا ہوا۔ پاس آئے اور گھبرا کے پوچھا،
مما میں ووٹ کسے دوں؟
میں کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی کہ باقی قوم بھی کیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words