ہیرو کی موت، نئے پاکستان میں جانے سے انکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے پاکستان میں داخل ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں اور اس ’ہیرو‘ نے ایسے وقت میں مر کر یہ بتانے کی ناکام کوشش کی کہ انتخابات میں صرف دہشت گر دی سے مرنے والے امیدواروں کا لہو شامل نہیں۔ میری ٹوٹی پسلیوں اور ہڈیوں، زخموں سے رستا خون، دن رات کی اذیت بھی شامل ہوگی۔ اس ہیرو کو کسی خود کش بمبار نے نہیں مارا اسے اس نفرت اور اندر پلنے والی عداوت نے مارا ہے جو ہمارے نوجوانوں میں ابل ابل کر باہر چھلکنے کو تیار رہتی ہے۔ بس قائد کا اشارہ ملنے کی ضرورت ہے، سو اشارہ ملا اور کام ہوگیا۔

جانوروں کی نگہداشت سے متعلق کام کرنے والا ایک سماجی ادارہ جو عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں کچھ روز قبل ایک زخموں سے چور گدھا لایا گیا جس کو صرف اس لئے مارا پیٹا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان جو بہت کچھ بدلنے کی بات کرتے ہیں، جن کے سینے پر کرپشن کرنے والوں کو اڈیالہ بھیجنے کا تمغہ سج چکا ہے، جنہیں طویل دھرنے کرنے اور اس مشکل ترین وقت میں بھی ایک خاتون صحافی سے رومانس چلانے اور خفیہ شادی کرنے کا اعزاز حاصل ہے اور جگرا اتنا کہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول کے سانحہ پشاور کے چند دن بعد شادی کا اعلان اور میڈیا کو ایسا منجن دینے پر ملکہ حاصل رہا، ان دنوں الیکشن کی گہما گہمی میں نون لیگ کے کارکنان کو گدھا بول گئے۔

بس پھر کیا تھا سارے کارکنان کو لگا کہ نون لیگی ہاتھ شاید نہ لگیں، اگر لگے تو ہڈی پسلی ٹوٹنے کا مقابلہ بھی برابر کا ہوسکتا ہے۔ کیا پتہ کوئی اسلحہ بھی چل جائے تو الیکشن سے پہلے اگر بلاوجہ شہادت کا درجہ مل گیا تو خان صاحب کے حصے میں ایک ووٹ کم نہ پڑ جائے تو سوچا کہ پیغام وہ دیا جائے جو دور تک جائے اور مدتوں یاد رہے تو بیچارے بے زبان گدھے پر زور چلایا گیا۔ اس پر مخالف پارٹی کے قائد کا نام لکھا اور لاتوں گھونسوں سے کسر نکالی دل نہ بھرا تو ویسے ہی پیٹ پیٹ کر لہولہان کر کے اس بے زبان پر اپنی نفرت اور قائد سے محبت کی ایسی مہر ثبت کی کہ انسانیت بھی شرما گئی۔

اس واقعے کو دیکھ کر میری ایک دوست نے کہا کہ اگر عمران خان کارکنان کو مردہ کہتے تو کیا یہ ظالم قبرستانوں میں داخل ہوکر قبروں سے مردے نکال کر چوراہوں پر لٹکا دیتے؟ یہ کون لوگ ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ اور اگر یہ ہی ذہنیت رہی تو آگے کیا ہوگا؟ خیر اس وقعہ نے جہاں کئی سوالات کو جنم دیا وہیں ایک خوف نے بھی جگہ بنائی کہ کیا اس ملک میں اب ایسا ہی ہوتا رہے گا؟ کیا واقعی مخالف پارٹی کے کارکنان کی کوئی عزت نہیں؟ جب جہاں جیسے دل کیا کسی کو گدھا تو کسی کو طوائف کی اولاد بنادیا جائے۔ اس بھی کچھ نہ بن پڑے تو کراچی کو زندہ لاشوں سے تشبییہ دے دی جائے وہی زندہ لاشیں جن کے ووٹ سے پاکستان تحریک انصاف نے اس شہر سے صوبائی اسمبلی میں سیٹیں نکالیں تھیں۔ کیا کسی لیڈر کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایسی زبان استعمال کرے کہ اس کا کارکن ہر حد پار کر جائے۔

ہم روز مرہ زندگی میں کسی کو بھی نکما یا عقل سے پیدل سمجھتے ہوئے گدھا کہہ ڈالتے ہیں جبکہ اس ملک میں یہ بے زبان جانور آج بھی اپنے اوپر نہ جانے کتنا کتنا وزن لادے بنا شکوہ کیے چلے جاتا ہے اور بدلے میں مالک سے اسے پیٹ بھر کر نہ کھانے کو ملتا ہے نہ آرام۔ کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں آج بھی سامان کی ترسیل کے لئے گاڑیوں کا استعمال نہیں اسی گدھے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ میں نے سی ویو کے قریب لیاری کے من چلے نو جوانوں کو گدھا گاڑی کی ریس لگاتے دیکھا ہے۔ جن کی جگہ اب اسپورٹس بائیک اور بیش قیمت گاڑیوں نے لے لی مطلب یہاں بھی اشرافیہ کی من مانی۔ لیکن جب بھی وہ ریس ہوتی تو مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی کہ ریس ہارنے یا جیتنے کے بعد جس طرح گدھے کو ستائش دی جاتی اس سے لاڈ کیا جاتا وہ حیران کن ہوتا۔

ایک بار میں نے ایک نوجوان سے پوچھا کہ تم تو ہار گئے پھر بھی اسے تھپکی دے رہے ہو تو اس کے جواب نے مجھے ہنسنے پر مجبور کردیا اس نے اپنے لیاری والے لہجے میں کہا ’ باجی ہارنا تو تھا یہ ہم سے ناراض ہے رات ہم دیر سے آیا اس کو ہیلو ہائے نہیں کیا صبح اپنے مطلب کو یہاں لے آیا یہ بھی سوچا ہوگا کیسا خود غرض ہے اپنا مالک۔ شاباشی دیتا نہیں حال احوال پوچھتا نہیں جیت کے لئے پیسہ چائیے تو لے آیا“ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اب مان جائے گا؟ تو وہ بولا ہاں نہ کیسے نہیں مانے گا نہیں مانے گا تو ہم خود کو معاف نہیں کرے گا۔ تھوڑی دیر بعد عبداللہ اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوا اور بادل کی دوڑ بتارہی تھی کہ ناراضگی دور ہوچکی۔

میں نے اس روز ایک مالک کی اپنے جانور سے یہ ناز برداری دیکھی۔ اس کے بہت عرصے بعد سڑک کنارے ایک کتے کو گاڑی سے ٹکر لگنے کے سبب تڑپتے دیکھا اور یہ منظر بھی دیکھا کہ کچھ نوجوان اسے پانی پلانے کی کو شش کر رہے ہیں کہ اس کی موت آسان ہوجائے اور پھر ایک لڑکے نے یہ نعرہ لگایا کہ اسے تکلیف نہیں دو ڈاکٹر کے پاس لے چلو یہ ٹھیک بھی ہوسکتا ہے۔ وہ آوارہ کتا جو بے جان سا لگ رہا تھا ایسا لگا جیسے اس کی آنکھوں میں تشکر اتر آیا ہو میں نے لڑکوں سے پوچھا کہ کیا یہ آپ لوگوں کا پالتو کتا ہے؟ تو جواب ملا نہیں ہم تو یونیورسٹی کے پوائنٹ سے اترے تو یہ حادثہ ہمارے سامنے ہوا اور پھر ایک گاڑی آئی اور اس میں اس بے زبان کو ڈال کر لیجایا گیا۔

کاش جب ہیر و کو زدوکوب کیا جارہا تھا تب اس لمحے کچھ انسان اس بے زبان کو بچانے آجاتے تو اس کی تکلیف اور زخم اتنے نہ ہوتے جس کے سبب اسے آج یہ دنیا چھوڑنی پڑی۔ لیکن اب میں سوچ رہی ہوں کہ اچھا ہی ہوا کہ ہیرو چلا گیا۔ اس ظالم دنیا نے جو سلوک اس کے ساتھ کیا اس نے جانے سے قبل انھیں بتایا کہ میں فائٹر ہو، کوشش کر رہا ہوں کہ موت سے لڑ سکوں، اپنے زخموں کا درد سہہ سکوں لیکن اب جب وہ جا چکا ہے تو یہ اس کی موت نہیں انسانیت کی موت ہے۔ وہ بتا گیا ہے کہ جیسے نئے پاکستان میں عورت کے لئے اس کی حرمت کے لئے کوئی جگہ نہیں وہاں بے زبانوں کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں۔

( ایک پارٹی کو طوائف زادیوں کی پارٹی سے بھی منسوب کیا گیا تھا کیا کوئی کارکن ہیرا منڈی بھی جاکر اپنی فرسٹریشن نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ یا صرف گدھے پر زور چلتا ہے؟ میرے خیال سے یہ ہمت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ وحشی اتنا جانتے ہیں کہ یہ وہاں گئے تو واپس مرد کی حیثیت سے تو نہیں آئیں گے )۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 79 posts and counting.See all posts by sidra-dar