ہیرو کی موت، نئے پاکستان میں جانے سے انکار

جانوروں کی نگہداشت سے متعلق کام کرنے والا ایک سماجی ادارہ جو عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں کچھ روز قبل ایک زخموں سے چور گدھا لایا گیا جس کو صرف اس لئے مارا پیٹا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان جو بہت کچھ بدلنے کی بات کرتے ہیں، جن کے سینے پر کرپشن کرنے والوں کو اڈیالہ بھیجنے کا تمغہ سج چکا ہے، جنہیں طویل دھرنے کرنے اور اس مشکل ترین وقت میں بھی ایک خاتون صحافی سے رومانس چلانے اور خفیہ شادی کرنے کا اعزاز حاصل ہے اور جگرا اتنا کہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول کے سانحہ پشاور کے چند دن بعد شادی کا اعلان اور میڈیا کو ایسا منجن دینے پر ملکہ حاصل رہا، ان دنوں الیکشن کی گہما گہمی میں نون لیگ کے کارکنان کو گدھا بول گئے۔
بس پھر کیا تھا سارے کارکنان کو لگا کہ نون لیگی ہاتھ شاید نہ لگیں، اگر لگے تو ہڈی پسلی ٹوٹنے کا مقابلہ بھی برابر کا ہوسکتا ہے۔ کیا پتہ کوئی اسلحہ بھی چل جائے تو الیکشن سے پہلے اگر بلاوجہ شہادت کا درجہ مل گیا تو خان صاحب کے حصے میں ایک ووٹ کم نہ پڑ جائے تو سوچا کہ پیغام وہ دیا جائے جو دور تک جائے اور مدتوں یاد رہے تو بیچارے بے زبان گدھے پر زور چلایا گیا۔ اس پر مخالف پارٹی کے قائد کا نام لکھا اور لاتوں گھونسوں سے کسر نکالی دل نہ بھرا تو ویسے ہی پیٹ پیٹ کر لہولہان کر کے اس بے زبان پر اپنی نفرت اور قائد سے محبت کی ایسی مہر ثبت کی کہ انسانیت بھی شرما گئی۔
اس واقعے کو دیکھ کر میری ایک دوست نے کہا کہ اگر عمران خان کارکنان کو مردہ کہتے تو کیا یہ ظالم قبرستانوں میں داخل ہوکر قبروں سے مردے نکال کر چوراہوں پر لٹکا دیتے؟ یہ کون لوگ ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ اور اگر یہ ہی ذہنیت رہی تو آگے کیا ہوگا؟ خیر اس وقعہ نے جہاں کئی سوالات کو جنم دیا وہیں ایک خوف نے بھی جگہ بنائی کہ کیا اس ملک میں اب ایسا ہی ہوتا رہے گا؟ کیا واقعی مخالف پارٹی کے کارکنان کی کوئی عزت نہیں؟ جب جہاں جیسے دل کیا کسی کو گدھا تو کسی کو طوائف کی اولاد بنادیا جائے۔ اس بھی کچھ نہ بن پڑے تو کراچی کو زندہ لاشوں سے تشبییہ دے دی جائے وہی زندہ لاشیں جن کے ووٹ سے پاکستان تحریک انصاف نے اس شہر سے صوبائی اسمبلی میں سیٹیں نکالیں تھیں۔ کیا کسی لیڈر کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایسی زبان استعمال کرے کہ اس کا کارکن ہر حد پار کر جائے۔

ایک بار میں نے ایک نوجوان سے پوچھا کہ تم تو ہار گئے پھر بھی اسے تھپکی دے رہے ہو تو اس کے جواب نے مجھے ہنسنے پر مجبور کردیا اس نے اپنے لیاری والے لہجے میں کہا ’ باجی ہارنا تو تھا یہ ہم سے ناراض ہے رات ہم دیر سے آیا اس کو ہیلو ہائے نہیں کیا صبح اپنے مطلب کو یہاں لے آیا یہ بھی سوچا ہوگا کیسا خود غرض ہے اپنا مالک۔ شاباشی دیتا نہیں حال احوال پوچھتا نہیں جیت کے لئے پیسہ چائیے تو لے آیا“ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اب مان جائے گا؟ تو وہ بولا ہاں نہ کیسے نہیں مانے گا نہیں مانے گا تو ہم خود کو معاف نہیں کرے گا۔ تھوڑی دیر بعد عبداللہ اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوا اور بادل کی دوڑ بتارہی تھی کہ ناراضگی دور ہوچکی۔
میں نے اس روز ایک مالک کی اپنے جانور سے یہ ناز برداری دیکھی۔ اس کے بہت عرصے بعد سڑک کنارے ایک کتے کو گاڑی سے ٹکر لگنے کے سبب تڑپتے دیکھا اور یہ منظر بھی دیکھا کہ کچھ نوجوان اسے پانی پلانے کی کو شش کر رہے ہیں کہ اس کی موت آسان ہوجائے اور پھر ایک لڑکے نے یہ نعرہ لگایا کہ اسے تکلیف نہیں دو ڈاکٹر کے پاس لے چلو یہ ٹھیک بھی ہوسکتا ہے۔ وہ آوارہ کتا جو بے جان سا لگ رہا تھا ایسا لگا جیسے اس کی آنکھوں میں تشکر اتر آیا ہو میں نے لڑکوں سے پوچھا کہ کیا یہ آپ لوگوں کا پالتو کتا ہے؟ تو جواب ملا نہیں ہم تو یونیورسٹی کے پوائنٹ سے اترے تو یہ حادثہ ہمارے سامنے ہوا اور پھر ایک گاڑی آئی اور اس میں اس بے زبان کو ڈال کر لیجایا گیا۔

( ایک پارٹی کو طوائف زادیوں کی پارٹی سے بھی منسوب کیا گیا تھا کیا کوئی کارکن ہیرا منڈی بھی جاکر اپنی فرسٹریشن نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ یا صرف گدھے پر زور چلتا ہے؟ میرے خیال سے یہ ہمت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ وحشی اتنا جانتے ہیں کہ یہ وہاں گئے تو واپس مرد کی حیثیت سے تو نہیں آئیں گے )۔

