انتخابات 2018 : آخری لمحات میں ہونے والی دھاندلیاں


کئی اضلاع میں پاکستان الیکشن کمشن کے انچارج رہنے والے ایک ریٹائرڈ آفیسر نے اپنا واقعہ سنایا کہ بطور انچارج انھیں ایک ضلع کے اہم وزیر نے اپنی فیکٹری میں ملازم پانچ سو سے زائد افراد کے ووٹ کے اندراج کے لیے سفارش کی۔ میں نے جب معاملے کو تھوڑا لیٹ کیا، تو ان کا براہ راست پیغام آیا کہ پنجاب سے بلوچستان کون سے ضلع میں آپ کا تبادلہ کیا جائے۔ ان کا یہ حربہ کامیاب رہا، کیونکہ ان دنوں ویسے بھی بلوچستان کے حالات بہت خراب تھے، کئی پنجابی ملازمین کو شر پسندوں نے قتل کر دیا تھا۔ وفاقی اداروں کے آفسران میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔ میں اگلے ایک ہفتے میں ہی ان کی طرف سے بھجوائے گئے ناموں کے ووٹوں کا اندراج کرنے کی اپنے عملے کو اجازت دے دی۔

چند سال بعد اگلے انتخابات میں دلچسپ بات یہ ہوئی کہ وہ وزیر صاحب جب الیکشن ہار گئے تو اس کے مخالف جیتنے والے امیدوار کو بھی پانچ سو جعلی ووٹوں کے اندراج کا علم تھا۔ اس نے مجھے اپنی کوٹھی بلوایا اور دھمکی دے کہ میں آپ کو اندر کروا دوں گا، آپ لوگوں نے میرے مخالف کے جعلی ووٹ بنائے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے نئے حالات کو دیکھتے ہوئے انھیں اپنی مجبوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ سابق وزیر کے کہنے پر درج کروائے گئے ووٹ ختم جلد ختم کر دیے جائیں گے۔ اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔ اس وقت ریکارڈ چونکہ مینویل تھا، کمپیوٹرائزڈ نہیں تھا، دو دو جگہوں پر لوگوں کے ووٹ کا اندراج عام سی بات تھی۔ تاہم کچھ ایماندار پریزائیڈنگ آفسران کی مثالیں بھی ہمارے سامنے موجود ہیں، جو دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دیانتداری سے اپنے فرائض کی ادائیگی کی۔

گجرات میں ہمارے ایک اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر تھے بہت ہی ایماندار۔ کئی سال پہلے ایک الیکشن میں بطور پریزائیڈنگ آفسر ڈیوٹی کے دوران انہوں نے ایک سیاسی جماعت کے دھاندلی کے تمام منصوبے ناکام بنا دیے اور سارا اپنے پولنگ اسٹیشن پر ان کے سامنے ڈٹے رہے۔ رات کو جب گنتی کے بعد فائنل رزلٹ کی کاپی اور اپنا سامان جمع کروانے اپنے موٹر سائیکل پر سیشن کورٹ جار ہے تھے تو راستے میں ایک تیز رفتار گاڑی میں سوار نامعلوم افراد نے انہیں بُری طرح سے ٹکر مار کر فرار ہو گئے۔ نتیجتاً پروفیسر صاحب اللہ کا شکر ہے جان سے تو بچ گئے مگر ایک ٹانگ میں فریکچر اور دیگر چوٹوں کے باعث کئی ماہ ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔

گزشتہ انتخابات کی طرح 25 جولائی کو بھی منعقد ہونے والے انتخابات کو شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے فرائض سرانجام دینے والے انتخابی عملے، ریٹرننگ آفسران اور پاکستان الیکشن کمیشن کی استعداد کار بڑھانے کے لئے UNDP اپنے اتحادی پارٹنرز، یو ایس ایڈ، جاپان اور یو کے ایڈ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ اس پراجیکٹ جس کا نام ”Strengthening Electoral and Legislative process (SLEP)
ہے جو( 2017 تا 2020) تک جاری رہے گا، 5.9 ملین یو ایس ڈالر کے اس منصوبے کا مقصد بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سسٹم اور اس کے عملے کی استعداد کار کو برھانا ہے۔ اسی امداد کے ذریعے یواین ڈی پی نے 25 جولائی کو ہونے والے 86000 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں اور اور تقریباً دو لاکھ پچاسی ہزار سے زائد پولنگ بوتھوں پر اپنی ڈیوٹی دینے والے ایک لاکھ پریزائیڈنگ اور اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفسران کو پھر سے ٹرینڈنگ مہیا کی گئی ہے۔

یو این ڈی پی کے تحت ہی (2013ءتا 2019ء) 6.1 ملین ڈالر سے، اسی طرح کا ایک اور منصوبہ جس کا مقصد ووٹر کو آگاہی دینا اور خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو انتخابات میں یقینی بنانا شامل ہے جاری ہے۔ اس کے علاوہ کئی ملین ڈالر کی امداد اس کے علاوہ ہے۔ جو قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی قانون سازی کے عمل میں ان کی تربیت کرنا شامل ہے۔

اب 25 جولائی کو ہونے والے شفاف، آزادانہ غیر جانبدارانہ اور دھاندلیوں سے پاک انتخابات کے لیے مہیا کی جانے والی کئی ملین ڈالر کی امداد کے کیا دور رس نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس کا آنے والے اگلے چند دن تک پتہ چل جائے گا۔
( نیویارک میں مقیم مضمون نگار طاہر محمود چوہدری فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ UNDP کے پروگرام برائے ”سپورٹ ٹو نیشنل الیکشنز ان پاکستان“ میں بطور ڈویژنل ٹریننگ کوآرڈی نیٹر (2007۔ 2008) کام کر چکے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2