پی کے98 اور این اے 39 میں جے یو آئی ف کی کارکردگی کا جائزہ
جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا تعلق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، عبدلخیل سے ہے اور وہ پچھلی بار بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ممبر قومی اسمبلی جبکہ ان کے چھوٹے بھائی اور سابقہ اپوزیشن لیڈر جناب لطف الرحمن صاحب بھی اسی شہر کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ سے رکن منتخب ہوئے تھے جو اب اگر متحدہ مجلس عمل خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو تقریبا انہی کو وزیراعلی بھی بنایا جانے کا امکان ہے۔
نئی حلقہ بندیوں کے تحت ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کو قومی اسمبلی کی دو سیٹیں دی گئی یعنی زیادہ آبادی ہونے کے سبب اب اس ایک حلقہ کو دو حلقوں (این اے 38 اور این اے 39) میں تقسیم کردیا گیا جبکہ صوبائی اسمبلی کی پانچ نشستیں ہیں۔ ایک بار پھر مولانا فضل الرحمان این اے 39 پر میاخیل گروپ کے آزاد امیدوار عمرفاروق خان میاخیل اور پاکستان تحریک انصاف کے شیخ یعقوب کے مدمقابل ہیں تو این اے 38 پر پاکستان تحریک انصاف کے علی امین گنڈہ پور اور آزاد امیدوار سینیٹر وقار آحمد خان کے مابین بھی مقابلہ ہوگا۔ جبکہ ان کے بھائی مولانا لطف الرحمان پی کے 98 سے متحدہ مجلس عمل کے نامزد امیدوار ہیں اور ان کے مدمقابل میانخیل گروپ کے آزاد امیدوار فخراللہ خان میانخیل۔ پاکستان تحریک انصاف کے خالد سیلم استرانہ جبکہ پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے نامزد امیدوار شیخ یعقوب کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار مفتی محمد فضل الرحمن کے درمیان مقابلہ ہوگا لیکن مولانا برادران کی پوزیشن جنوبی سرکل یعنی این اے 39 اور پی کے 98 پر بظاہر زیادہ مضبوط نظر آتی ہے اس کیاصل وجہ ان کی اس حلقہ میں بہترین کارکردگی ہے۔
مولانا برادران سے اختلاف رائے اپنی جگہ مگر بطور صحافی مجھ پر یہ فرض ہے کہ جس طرح خاکسار دوران اقتدار ان پر کچھ چیزوں کے حوالے سے سخت تنقید کرتا رہا ہے لہذا اب یہ ضروری ہے کہ ان کے اچھے کاموں سمیت بہترین کارکردگی کو بھی عوام الناس کے سامنے اجاگر کیا جانا چاہیے۔ چونکہ ناچیز خود اسی حلقہ سے تعلق رکھتا ہے اس لئے بخوبی آگاہ ہے کہ ہمارے علاقے میں بڑے بڑے ترقیاتی کاموں کا شعور کس نے پیدا کیا۔ شاید یہ تحریر کسی صورت بھی نہ لکھتا لیکن جب میں دیکھتا ہوں کہ یہاں کا مقامی میڈیا صرف ذاتی مفادات کی خاطر مولانا برادران کے بالکل خلاف چل رہا ہے۔ محض اس لئے کہ انہیں دوسرے لوگوں کی طرف سے ناصرف اشتہارات بلکہ ذاتی طور پر بھی کافی کچھ دیا جاتا ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنا ضمیر بیچ کر ناصرف غیرجانبدارانہ صحافت کو کاروبار بنایا ہوا ہے بلکہ وہ ایک پارٹی بنے ہوئے ہیں جس پر شدید تکلیف ہوتی ہے کہ یہ لوگ صحافت کے نام پر بدنماء داغ کیوں ہیں البتہ ہاں مجھے یہ فکر اب بالکل بھی نہیں کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے صحافت جیسا مقدس پیشہ لوگوں کی نظر میں دن بدن گرتا چلا جارہا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کے ایسے لفافہ صحافی خود بخود عوام کی نظر میں گر چکے ہیں۔
پچھلے سالہ سال سے اس پسماندہ حلقہ پر دوسرے سیاسی گروپ کے ایک خاندان نے مسلسل کئی سال تک اس حلقہ کی عوام کے ووٹ سے اقتدار پر راج کیا مگر ان کی کارکردگی جمیعت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر رہی۔ انہوں نے اپنے دور میں سیاسی مخالفین کو نیچا دیکھانے کی ہر کوشش کی مثلا جس نے انہیں ووٹ نہیں دیا پھر ان کے خلاف طرح طرح کی سازشیں گڑھی حتکہ جھوٹی ایف آئی آر کٹوائی جبکہ اب وہ ووٹ مانگتے جاتے ہیں تو لوگ ان سے سوال کرتے ہیں کہ 2013 سے پہلے آپ مسلسل کئی سال تک اقتدار میں رہے آخر آپ لوگوں نے اس علاقے کے لئے کونسا بڑا کام کیا تھا؟ جس پر ان کا جواب نفی میں ہوتا ہے ہاں البتہ ان لوگوں نے قبرستانوں۔ اسپتالوں سمیت متعدد جگہوں پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کی پشت پناہی ضرور کی ہے۔
دوسری جانب جب سے مولانا برادران نے اس حلقہ کا اقتدار سنبھالا پچھلی پانچ سالہ کارکردگی میں 2013 سے 2018 تک جمیعت علماء اسلام ف کے دور میں زنانہ و مردانہ ڈکری کالج و اسکول تعمیر ہوئے (تقریبا 200 سے زائد کلومیٹر) دور دراز علاقوں کے لئے بلیک ٹاپ روڈ بنوائے گئے۔ اکثر دیہاتوں اور شہروں میں کنکریٹ اور سولنگ گلیاں بنوائی گئی جبکہ پینے کے صاف پانی کے لئے ناصرف واٹر اسکیم دی گئی بلکہ پانی کو مزید صاف بنانے کے لئے فیلٹر پلانٹ بھی مہیا کیئے گئے۔ اور ایسے علاقے جہاں بجلی نہیں تھی وہاں اندھیروں کو ختم کرکے روشنی پہنچائی گئی واضح رہے کہ یہ انہوں نے عوام پر پر کوئی احسان نہیں کیا لیکن اتنا تو ہے نا کہ کچھ حد تک ووٹ لینے کا حق تو ادا کیا۔ لیکن یہ بھی یاد رکھئے کہ خاکسار نے کچھ عرصہ قبل جمیعت کے مقامی قیادت کے بارے لکھا تھا کہ اگر ان کا یہی طرز سیاست رہا تو مولانا برادران کے لئے اس حلقے میں بےشمار کام اور ترقیاتی منصوبے کرکے بھی جیتنا مشکل ہوجائے گا اور ایسا کچھ جگہوں پر ہوا بھی کہ جمیعت کی اعلی قیادت کے سامنے دوران الیکشن کمپین کچھ لوگوں نے مقامی قیادت کی زیادتیوں کا رونا روا بھی اس کیاصل وجہ مقامی قیادت کی طرف سے کچھ لوگوں پر سیاسی مخالفت کی بنا پر جھوٹی ایف آئی آر سمیت پریشرائیز کیا گیا تھا۔
لیکن اب مولانا لطف الرحمان صاحب بذات خود اپنے کارکنان کو مل رہے ہیں انہیں اس بات پر آمادہ کررہے ہیں کہ آئیندہ ان لوگوں کے نظر کرم پر آپ کو نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ آپ میرے ساتھ براہ راست رابطہ کریں جب بھی کوئی مسئلہ ہو اسی بنا پر ناراض کارکنان بھی جمیعت میں واپس آرہے ہیں۔
قارئین کو بتاتا چلوں کہ میں نے آج تک جمیعت علماء اسلام ف کو ووٹ نہیں دیا کیونکہ انشاء اللہ الیکشن 2018 میں صرف اور صرف پاکستان اور جمہوریت کی بقاء کے لئے پہلی بار ووٹ پول کرونگا اور نہ ہی میری مولانا برادران سے کوئی خاص شناسائی ہے لیکن میں نے اپنے حلقہ میں یہ ضرور محسوس کیا کہ انہوں نے اس حلقہ کی عوام کے لئے وہ کچھ کیا ہے جو دوسروں نے اس سے قبل نہیں کیا تھا۔ مولانا لطف الرحمن کو اس بات پر بھی دات دینا پسند کرونگا کہ انہوں ایسے علاقوں کے مقامی وڈیروں کو بھی ساتھ چلایا جو اجتماعی منصوبوں کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود انہوں نے بےشمار اجتماعی۔ ترقیاتی کام بھی کیئے جس سے جمیعت علماء اسلام ف کے حامی اور مخالف دونوں سیاسی کارکنان کو برابر کا فائدہ ہوا ہے تاہم اس سے کچھ مقامی وڈیرے ناخوش ہوئے۔ آخر میں عوام سے گزارش ہے کہ آپ کا جہاں بھی دل کرے اسی امیدوار کو ووٹ دیں مگر یہ ہرگز نہ بھولیں کہ 25 جولائی کے بعد ہماری مشکلات کو دور کرنے میں کونسا شخص اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اور کس امیدوار نے ماضی میں ہمارے حالات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔


