کانٹے والا
اگلی رات اپنے ہاتھ میں ٹارچ لئے وہ میرا منتظر تھا۔
ہم اس کی چھوٹی سی کوٹھری میں پہنچے اور انگیٹھی کے پاس بیٹھ گئے۔
’اصل میں جب میں نے کل شام آپ کو دیکھا تو مجھے شک ہوا تھا کہ آپ کو ئی اور ہیں‘
’ کون؟ میں نے سوال کیا
مجھے معلوم نہں
کیا اس کی شکل مجھ سے ملتی ہے؟
’مجھے معلوم نہیں‘ اس نے دہرایا۔ ’میں نے کبھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا۔ بس یہی دیکھا کہ اس کا بایاں ہاتھ اس کی آنکھوں کو ڈھانپے ہویے تھا اور دائیں ہاتھ کو وہ بہت شدت سے ہلا رہا تھا، ایسے۔ ‘
اس نے اپنا ایک ہاتھ آنکھوں پر رکھ ایسے دوسرا ہاتھ آگے پیچھے ہلایا جیسے کہہ رہا ہو، کون ہے ادھر، کون ہے نیچے، ہٹ جاوٌ، راستہ دو، خدا کے واسطے راستہ دو‘
اس نے پھر بولنا شروع کر دیا۔
’میں ایک رات یہاں بیٹھا ہوا تھا۔ رات چاندنی کی وجہ سے کافی روشن تھی، مجھے اچانک آواز آئی، ’کون ہے نیچے۔ کون ہے ادھر‘ میں ہڑبڑا کر اٹھا اور دروازے سے باہر نکل کر دیکھا کہ ایک آدمی لال بتی کے پاس کھڑا ہے اور ایسے ہاتھ ہلا رہا ہے جیسے میں نے ابھی آپ کو دکھایا۔
میں اس کے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے آنکھیں ڈھانپی ہوئی تھیں، اور دوسرا ہاتھ مسلسل خطرے سے آگاہ کرنے کے انداز میں ہلا رہا تھا۔ میں پریشان تھا کہ اس نے اپنی آنکھیں کیوں ڈھانپی ہوئی ہیں اور ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ کو آنکھوں سے ہٹانے ہی لگا تھا کہ وہ اچانک غایب ہو گیا،
کہاں۔ سرنگ میں؟ میں نے پوچھا
نہیں جناب، میں لیمپ لے کر سرنگ کی طرف بھاگا۔ لیکن کچھ نظر نہیں ایا۔ باہر نکل کر ہر طرف دیکھا، لیمپ لے کر لوہے کی سیڑھی پربھی چڑھا اور پھر نیچے آ کر دونوں سمتوں کے تار گھروں کو خطرے سے آگاہ کیا لیکن دونوں طرف سے جواب آیا ’ یہاں توسب ٹھیک ہے‘
کانٹے والے کی باتیں سن کر مجھے ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے، لگ رہا تھا کسی کی برف جیسی ٹھنڈی انگلی میری کمر پر لکیریں ڈال رہی ہے، میں اندر سے کانپ رہا تھا لیکن میں نے اس ڈر کا اظہار نہیں ہونے دیا اور اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہویے کہا کہ بعض دفعہ بخار کی کیفیت میں اس طرح کے وہم سامنے آجاتے ہیں جن میں ذہنی مریض تیز ہوا کے چلنے کو گفتگو سمجھتے ہیں اور ٹیلیگراف کی تاروں کی آواز کو موسیقی سمجھ لیتے ہیں۔
اس نے اپنا بیان جاری رکھا۔ تو جناب’ اس شبیہ کے ظاہر ہونے کے صرف چھ گھنٹے کے اندر اندر اس ریلوے لاین پر بہت بڑا حادثہ ہوا اوراسی سرنگ سے مردہ اور زخمی سواریوں کی لاشیں گزریں جہاں وہ پراسرار آدمی کھڑا خطرے کی اطلاع دے رہا تھا۔
مجھے ایک کپکپی سی محسوس ہو ئی جس کو میں نے چھپانے کی کوشش کرتے ہویے پھر منطقی اندازکہا کہ ہاں بعض دفعہ ایسا اتفاق بھی ہو جاتا ہے، لیکن سمجھدار لوگ اپنی زندگی کے فیصلےایسی اتفاقی باتوں پر نہیں کرتے،
اس نے گفتگو کو یہ کہ کر آگے بڑھایا
”یہ واقعہ ایک سال پہلے ہوا تھا۔ جب چھ سات مہینے گزر گیے میں بھولا تو نہیں لیکن کم از کم پریشان ہونا چھوڑ دیا۔ پھر ایک دن صبح ہی صبح میں دروازے پر کھڑا لال بتی دیکھ رہا تھا کہ اچانک وہی شبیہ مجھے دوبارہ نظر آئی۔
تو کیا اس دن کی طرح وہ پھر چیخا کہ ہٹو راستہ دو؟ میں نے پوچھا
نہیں، وہ بالکل خاموش رہا،
تو کیا اس نے ہاتھ ہلایا؟
نہیں، وہ روشنی کے کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا، اور دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیے، اس طرح سے۔
میں اندر آگیا، میں کچھ دیرسکون سے بیٹھ کر سوچنا چاہتا تھا۔ جب میں باہر واپس آیا تو سورج روشن ہوچکا تھا اور اس شبیہ کا کو ئی نشان نہیں تھا۔
’اور تو کچھ نہیں ہوا‘؟
وہ میری طرف خوف زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کانپتی آواز میں بولا
اسی دن جب ٹرین سرنگ سے گزر رہی تھی، میں نے ایک بوگی کی کھڑکی میں دیکھا کہ کوئی میری طرف اشارہ کر کے ہاتھ ہلا رہا ہے۔ روکو، روکو، گاڑی کو روکو، میں نے لال جھنڈی اور لال بتی سے ڈرائیور کو خطرے کا اشارہ دیا۔ ڈرائیور نے بہت زور سے بریک لگائی اور تقریباٌ ڈیڑھ سو گز دور جا کر ٹرین روک لی۔ بوگی سے ڈراونی چیخوں کی آواز آرہی تھی۔ آگے والے ڈبے میں ایک بہت خوبصورت نوجوان لڑکی اچانک مر گئی تھی۔ اس کی لاش اندر لائی گئی اور جہاں ہم بیٹھے ہیں بالکل یہاں، ہمارے درمیان، رکھ دی گئی۔
میں نے لاشعوری طور پر ایک جھٹکے سے اپنی کرسی پیچھے کی۔
جی جناب، یہاں، بالکل اسی جگہ اس کی لاش رکھی تھی،
میرے گلے میں جیسے کانٹے بھر گیے تھے، منہ خشک ہو گیا تھا۔ الفاظ ہی نہ نکل سکے۔ باہر ہوا کا شور اور زیادہ ہو گیا اور ٹیلیگراف کے کھمبوں کی تاریں اور زور سے بجنے لگیں
اس نے پھر گفتگو شروع کی۔ تو جناب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ میں پریشان کیوں نہ ہوں۔ اس دن سے آب تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد یہ آسیب پھر واپس آ جاتا ہے۔
لال بتی پر؟
جی،
’تو کیا کل اس نے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی جب میں تمھارے پاس بیٹھا تھا؟
دو مرتبہ
’دیکھو، میں بھی کل یہیں بیٹھا تھا۔ میں نے وہ گھنٹی ایک مرتبہ بھی نہیں سنی
جناب، میں نے یہ نہیں کہا کہ گھٹی ہر ایک کو سنائی دیتی ہے۔ آپ نے نہیں سنی، ٹھیک ہے، مگر میں نے سنی۔
تو کیا کل بھی وہ یہاں آیا تھا جب تم اسے دیکھنے باہر گیے تھے؟
جی جناب۔
دونوں مرتبہ؟
جی، دونوں مرتبہ۔
اچھا تو ابھی میرے ساتھ چلو اور دیکھو کہ وہ اب ویاں ہے یا نہیں؟
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے





