کانٹے والا
میں نے دروازہ کھولا۔ میرے سامنے لال بتی چمک رہی تھی۔ اس طرف سرنگ کا ڈراونا منہ تھا۔ دونوں جانب سیلے نوکدار پتھروں کی دیواریں تھیں۔ ان سب کے اوپر آسمان پر تارے چمک رہےتھے۔
دیکھ رہے ہو۔ میں نے ایک نظر اس کو دیکھتے ہویے کہا۔ اس کی آنکھوں میں خوف جھلک رہا تھا لیکن شاید ایسا ہی خوف وہ میری آنکھوں میں بھی دیکھ سکتا تھا
نہیں، اس وقت وہ یہاں نہیں ہے۔
اب وہ اذیت کے عالم میں کہ رہا تھا
’جب وہ پہلی مرتبہ لال بتی کے نیچے کھڑا ہوا تھا تو اس وقت ہی مجھے کیوں نہیں بتا دیا تھا کہ کونسا حادثہ کب اور کہاں ہو گا۔ جب وہ دوسری دفعہ اپنا چہرہ چھپا کر آیا تھا تو اس وقت کیوں نہیں کہا کہ وہ معصوم لڑکی مر جایے گی۔ اب وہ مجھے تیسرے خطرے سے آگاہ کر رہا ہے لیکن وہ مجھے بتا کیوں نہیں دیتا کہ خطرہ کیا ہے، کب ہے، کہاں ہے؟ میں ایک غریب کانٹے والا ہوں، اوہ خدایا، مجھ پر ہی یہ بلا کیوں نازل ہو رہی ہے۔ کسی اور پر کیوں نہیں جو با اختیار ہو۔ جو کچھ کر سکے اور جس کی بات پر لوگ یقین بھی کر لیں۔
رات کے دو بجے میں نے اسے شب بخیر کہا۔ اور اگلی رات پھر ملنے کا وعدہ کیا۔
مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کو ئی عار نہیں ہے کہ واپسی پر میں نے کئی مرتبہ خوف سے مڑ مڑکر اس لال بتی کو دیکھا۔ میرے ذہن میں دونوں حادثے سر ابھارتے رہے خاص طور پر نوجوان لڑکی کی موت۔
لیکن جو خیال بار بار میرے ذہن میں آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ اب جب کہ مجھے تمام حالات سے آگہی ہو چکی تھی، اس صورت میں میرا فرض کیا ہے؟ کانٹے والا اس ذہنی کشمکش میں کب تک ان فرایض کو ذمہ دای سے نبھا سکتا تھا؟
اگر وہ اپنا ذہنی توازن برقرار نہ رکھ سکے تو کئی جانوں کے ضایع ہونے کا خطرہ تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ میں اس کے محکمے کے بڑے افسروں کو اس کی اطلاع کروں لیکن پھراحساس ہوا کہ میں اس کے اعتماد کو دغا دوں گا۔
چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کو قایل کرنے کی کوشش کروں گا کہ وہ اس معاملے میں بہترین ڈاکٹروں کی رائے لے اور میں اس کے ساتھ جانے کی پیشکش کروں گا۔ فی الحال میں نے اس سارے معاملے کو ایک راز ہی رکھنا مناسب سمجھا۔
اگلی شام بہت حسین تھی۔ میں جلدی ہی نکل آیا۔ جب میں بگڈنڈی کے قریب پہنچا تو آگے قدم بڑھانے سے پہلے میں نے عادتاٌ نیچے نظر ڈالی جہاں میں نے اسے پہلے دن دیکھا تھا۔
میں اس سنسنی کو بیان نہیں کر سکتا جس کی لہر میرے سارے جسم میں دوڑ گئی جب میں نے دیکھا کہ نیچے ایک آدمی سرنگ کے منہ کے پاس کھڑا ہے۔ اس کا ایک ہاتھ آنکھوں پر تھا اور دوسرے سے وہ والہانہ اشارے کر رہا تھا جیسے کہ رہا ہو، کون ہے ادھر، ہٹ جاؤ، خبردار، آگے خطرہ ہے۔ ہٹ جاؤ۔
جو شبیہ مجھے اشارے کرتی ہو ئی نظر آئی تھی وہ درحقیقت ایک آدمی تھا جس کے آس پاس ایک چھوٹا سا گروہ اکٹھا تھا جن کو وہ اپنا اشارہ دکھا رہا تھا۔
سرخ بتی ابھی روشن نہیں ہوی تھی۔ کھمبے کے پاس ایک لکڑی کا ڈھکا ہوا تختہ سا رکھا ہوا تھا۔ تقریبا اک بستر کے ناپ کا۔
میں نہایت تیزی سے نیچے اترا
کیا ہوا، یہاں کیا ہوا ہے؟
کانٹے والا مر گیا ہے صاحب
وہ تو نہیں جو اس کوٹھری میں کام کرتا تھ؟ ا
جی ہاں وہی
وہی جس کو میں جانتا تھا؟
آپ اس کی شناخت کر لیجیے۔ ایک آدمی نے کہا جو لگتا تھا اس گروہ کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اس نے تارپلین کا ایک کونہ اٹھایا اور کہا۔ کہ چہرہ زیادہ مسخ نہیں ہوا۔
یہ کیسے ہوا؟
انجن سے ٹکرا کر صاحب۔ سارے ملک میں اس سے زیادہ قابل اور تجربہ کار اور کوئی کانٹے والا نہیں تھا۔ کوئی اس کام کو اتنی مہارت سے نہیں جانتا تھا۔ لیکن خدا جانے کیوں وہ ریل کی پٹری سے وقت پر نہیں ہٹ سکا۔ اس کے ہاتھ میں لیمپ تھا۔ اس کی پشت انجن کی طرف تھی اور جیسےہی انجن سرنگ سے باہر آیا وہ اس سے ٹکرا گیا۔ یہ ادمی انجن کا ڈرائیور ہے۔ یہ آپ کو تفصیل بتا دے گا۔
ڈرائیور جو کالی وردی میں ملبوس تھا سرنگ کے منہ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور بتانے لگا ’جناب میں جیسے ہی سرنگ میں داخل ہوا میں نے اسے دیکھا، وہ اتنا نزدیک لگ رہا تھا جیسے میں اسے دوربین سے دیکھ رہا ہوں۔ ریل پوری رفتار سے جا رہی تھی۔ میں نے انجن بند کیا جتنی زور سے چلا سکتا تھا چلایا۔ ‘
کیا کہا تم نے؟
’کون ہے ادھر کون ہے، خبردار، خبردار۔ خدا کے واسطے راستے سے ہٹ جاؤ۔
میں نے ایک جھرجھری لی،
ڈرائیور بولا
’میں چیختا رہا، بالکل نہیں رکا، چلاتا رہا۔ میں نے اپنا یہ ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیا تاکہ اسے مرتے نہ دیکھ سکوں۔ اور دوسرا ہاتھ ہلاتا رہو تاکہ اسےخبردار کر سکوں، اس طرح، دیکھیے صاحب اس طرح، لیکین سب بیکار‘،
میں اس عجیب و غریب واقعے کو بہت طول نہیں دینا چاہتا بس آخر میں یہ ضرور کہوں گا کہ ڈرائیور نے جو الفاظ کہے وہ لفظ بلفظ وہی تھے جو اس بدقسمت کانٹےوالے نے دہرائے تھے۔
یہی نہیں بلکہ یہ وہی الفاظ تھے جو خود میں نے اپنے ذہن میں ان اشاروں سے منسوب کر دیے تھے جو کہ رہے ہوں ’ کون ہے ادھر، کون ہے، ہٹ جاؤ، خدا کے واسطے ہٹ جاو، راستہ سے ہٹ جأؤ۔





