بھٹو، شریف، خان اور لیفٹ رائٹ کا پاکستان
اب آئیں عمران خان کی طرف اور اس پر لگے ایک اور اعتراض کی جانب کہ اس نے جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کی۔ جی ہاں یہ تسلیم ہے کہ یہ اس کی ایک بڑی سیاسی غلطی تھی اور احساس ہوتے ہی وہ اس غلطی پر نہ صرف ایک سال بعد ہی پچھتایا بلکہ آج بھی اس غلطی پر شرمندہ ہے۔ اور خاص بات یہ ہے کہ عمران خان جیسا ناتجربہ کار سیاست دان تو ایک طرف، اپنے وقتوں کے کئی بڑے دانشور، مشہور سیاسی کارکن، جغادری صحافی اور لیفٹ کے خاصے پڑھے لکھے حضرات بھی جنرل مشرف کے بظاہر اصلاحی ایجنڈے کو سچ جان کر جنرل مشرف کی روشن خیالی پر نثار ہوگئے تھے۔ اس میں ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ مسٹر بھٹو اور مسٹر شریف کو جنرل ایوب اور جنرل ضیا کی سیاسی قربت سے فوائد حاصل ہوئے جبکہ مسٹر خان جو کہ جنرل مشرف کی سیاسی شرائط مان کر اور ان سے قربت بڑھا کر کئی سیاسی فوائد ہاصل کرسکتے تھے، انہیں جنرل مشرف کی اس جزوقتی ایک سالہ قربت سے سیاسی نقصان ہوا اور ان کی منزل مزید دور ہوگئی جس کو حاصل کرنے کی جدوجہد میں وہ ابھی تک اپنی اس غلطی کا کفارہ ادا کر رہے ہیں۔
ہمارے دور کے ڈیڑھ عقل مند تجزیہ کار کیونکہ پاکستان کے ہر مسئلے کو لیفٹ رائٹ کا مسئلہ اور اسٹیبلشمنٹ، اینٹی اسٹیبلشمںنٹ کی جنگ بنا ڈالتے ہیں اس لئے بطور سیاسی طالب علم ان غیر متوازن رویوں کا مطلعہ بھی ضروری ہے۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے ہاں لیفٹ اور رائٹ دونوں کے رویے بھی رد عمل کی کیفیت کا شکار ہیں۔ جمود اتنا کہ گزشتہ ستر برسوں سے رائیٹ والوں کو پاکستان میں وقوع پذیر ہونےو الے ہر واقعہ، تحریک، عمل کے پیچھے امریکہ اور یہودیوں کی سازش نظر آتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ رویہ لیفٹ والوں کا بھی جدا نہیں، کیونکہ انہیں تو قیام پاکستان کے پیچھے بھی امریکہ کی سازش نظر آتی ہے۔
لیفٹ والے دوست، زندگی کے ہر شعبے میں جمہوریت، ووٹ اور آزادی اظہار را ئے کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں مگر حیران کن امر یہ ہے کہ پاکستان کا نام آتے ہی اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کا قیام، جمہوریت، ۤازادی اظہار رائے اور ووٹ ہی کی طاقت کا نتیجہ تھا۔
حیران کن امر یہ ہے کہ ہر اس لمحے جب بھی کوئی سیاست دان ( جیسے عمرن خان ) عوامی حقوق کی پاسداری، آئین کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لئے انتخابی عمل میں اصلاحات لانے کی بات کرتا ہے۔ ہمارے لیفٹ کے دوستوں کو جمہوریت خطرے میں نظر آنا شروع ہوجاتی ہے اور وہ آنکھیں بند کرکے نعرہ لگا ڈالتے ہیں کہ ایسے ہی چلنے دیں، سسٹم چلتا رہے گا تو اس میں خود بخود بہتری آجائے گی۔ یعنی ایک طرف تو پاکستان میں جمہوری حکومت کے خامیوں پر بھی بات نہیں کرنے نہیں دیتے تو دوسری جانب جمہوریت کے نتیجے میں قائم ہونے والا پاکستان انہیں سب سے بڑی خامی نظر آتا ہے۔
اب ستم ظریفی دیکھئے کہ قیام پاکستان سے قبل رائٹ والوں کا جھنڈا علمائے دیوبند اور جماعت اسلامی نے اٹھا رکھا تھا تو لیفٹ والوں کا پرچم باچا خان المعروف سرحدی گاندھی صاحب کے ہاتھوں میں تھا اور اس میں دلچسب بات یہ ہےکہ لیفٹ اور رائٹ والے دونوں ہی قیام پاکستان کے سرے سے مخالف تھے۔ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ آج کے یہ مثال ان کے عمران خان سے متعلق رویوں پر صادق آتی ہے۔
ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جوان ہونے و الے لیفٹسٹ، جناب ذوالفقار علی بھٹو کو عقل کل گردانتے ہیں مگر عین اسی لمحے، نوے اور دو ہزار کی دہائی میں جوان ہونے والی نسل کو عمران خان کو عقل کل مانتے دیکھ کر دل کھول کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ بات ساری رومانیت کی ہے۔ سیدھا سادھا نفسیاتی مسئلہ ہے کہ جن کا آتش ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جوان تھا ان کو اپنی رومانویت کے باعث ذوالفقار علی بھٹو صاحب میں کوئی خامی نظر نہیں آتی اور جن کا آتش نوے اور دوہزار کی دہائی میں جوان ہوا، ان کو بھلا عمران خان میں کوئی خامی کیوں نظر آئے گی۔ یہاں بعض استثنیات بہر حال موجود ہیں۔
ایک اور المیہ ہے کہ بظاہر فوجی اسٹیبلشمںٹ کے رویوں اور عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید کرنے والے سیاسی کارکنوں، سیاسی ورکروں بلکہ ییاں تک کہ اکثر سیاسی رہنماؤں اور خود میڈیا کا مزاج بھی سیاسی اور صحافتی ہونے کی بجائے سے ججمنٹل اور فوجی ہے۔ کتنی عجیب غیر منطقی بات ہے کہ ہم اپنے سیاسی رویوں میں بھی کسی کو پورا ماننے یا پورا رد کرنے کی دلفریب لذت میں مبتلا ہیں۔ فوجی رویوں میں چیزیں سیاہ ہوتی ہیں یا سفید جبکہ سیاسی رویوں میں چیزیں گرے بھی ہوسکتی ہیں مگر ہماری سیاسی کلاس کا المیہ ہے ہے کہ ان کی سیاسی تربیت کیونکہ فوج کے ہاں ہوئی یا پھر مذہبی جماعتوں کے ہاتھوں یا پھر پاکستانی معاشرے سے ہرگز موافقت نہ رکھتے بیرونی نظریات نے انہیں متاثر کیا۔ اس لئے ان کے رویوں میں بھی چیزیں سیاہ اور سفید ہی ہیں۔ گرے کا دور دور تک کوئی نشان نہیں۔
کہیں ایسا تو نہں کہ ہمارا مسئلہ لیفٹ اور رائٹ کے نظریات نہیں بلکہ عمومی رو یے، سماجی انصاف کی عدم فراہمی اور بیڈ گورنس ہے۔ ہماری قوم کا نمائندہ نہ مولوی ہے اور نہ این جی او مافیا کے پالش زدہ بابے اور آنٹیاں۔
یاد رکھئے ایک وقت میں دونوں چیزیں ٹھیک نہیں ہوسکتیں مگر دونوں چیزں غلط ضرور ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ دونوں چیزیں ٹھیک ہوں توپھر غلط کیا ہوگا مگر دونوں چیزیں غلط ہوں تو کوئی تیسری چیز ٹھیک ہوسکتی ہے۔
کوئی امریکہ کے خلاف بات کرے تو ہم اسے طالبان کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ کوئی طالبان کے خلاف بات کرے تو ہم اسے امریکہ کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ بھلے لوگو! ایک وقت میں امریکہ اور طالبان کا مخالف ہوا جاسکتا ہیں۔ امریکا کی مخالفت کا یہ مطلب نہیں کہ آپ طالبان کے حمایتی ہیں۔ اور طالبان کی مخالفت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ امریکی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
ہم لیفٹ سے متاثر ہوں یا رائٹ سے، ہمارے رویے اتنے منافقانہ کیوں ہیں؟ جنرل ایوب خان کے دور اور اس کے بعد ستر کی دہائی میں ہماری سوسائٹی خاصی کھلی ڈھلی اور روشن خیال تھی۔ مسٹر بھٹو نے بائیں بازو کو کھل کر استعمال کیا ( سوشلزم کا نعرہ ) مگر جاتے جاتے دائیں بازو کو خوش کرنے کی کوششوں میں لگ گئے۔ (جمعہ کی چھٹی، جو ئے، ریس اور کلب پر پابندی جیسے اقدمات)۔
ضیالحق کے دور اور اس کے بعد نوے کی دہائی میں ہماری سوسائٹی نسبتا بند اور گھٹی گھٹی سی تھی۔ مسٹر شریف نے دائیں بازو کو کھل کر استعمال کیا ( اسلامی جمہوری اتحاد اور شریعت بل یاد کریں ) مگر پھر بائیں بازو کو خوش کرنے کے ٹھان لی ( اتوار کی چھٹی، بھارت سے تجارت، ہولی اور دیوالی کے حوالے سے روشن خیال بیانات)
گویا ہم یہ اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ مسٹر بھٹو نے اقتدار کی سیڑھی کے لئے لیفٹ کو استعمال کیا، بعد میں سارے لیفٹ والے ایک ایک کرکے چھوڑتے گئے اور بھٹو مرحوم جاتے جاتے رائٹ کو خوش کرنے کے چکر میں پڑ گئے۔ مسٹر شریف نے رائٹ کو استعمال کیا اور اب لیفٹ کو خوش کرنے کے چکر میں قوم کو چکرا کر رکھ دیا۔ کیوں نہ ہم یہ سمجھ لیں کہ وجہ دونوں کی ہوس اقتدار تھی، نظریات نہیں، جہاں سے فائدہ نظر آیا، اٹھا لیا اور جن لوگوں کے ووٹوں سے اقتدار تک پہنچے ان سے رابطے ختم کرکے مخصوص افراد اور بیورو کرییسی کے نرغے میں آگئے جنہوں نے مسٹر بھٹو اور مسٹر شریف دونوں کے عوام سے رابطے منقطع کر ڈالے۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

