بھٹو، شریف، خان اور لیفٹ رائٹ کا پاکستان


اب آئیں مسٹر خان کی طرف تو عمران خان اس لحاظ منفرد ہیں کہ ان سے تو دائیں اور بائیں بازو والے دونوں ہی ناراض ہیں۔ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشل پارٹی میں بچے کھچے نام نہاد لیفٹسٹ عمران خان کو طالبان خان کہتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز اور جمیعت علمائے اسلام کے ڈھکے چھپے رائٹسٹ عمراں خان کو یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ مڈل کلاس کی نمائندگی کا دعوی کرنے والی، مالی کرپشن سے بظا ہر نسبتا پاک ( مسائل علاوہ موجود ہیں ) سیاسی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی جو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مقابلے میں خود کو تیسری قوت کہتی تھیں وہ کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہری علاقوں میں عمران خان کی مقبولیت سے خائف نظر آتی ہیں ( اگرچہ بعد میں جماعت اسلامی، اتحادی بن گئی )۔

زرا دیر کو رک کر، ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو سہی، پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، جمیعت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، سب کے سیاسی نظریات، منشور، جماعتی قاعدے، سیاسی قوانین، ایک دوسرے سے کتنے مخلتف اور الگ ہیں مگر یہ سب جماعتیں تحریک انصاف اور عمران خان کی مخالفت میں ہمیشہ ایک صفحے پر کیوں نظر آتی ہیں۔ اور تو اور جماعت اسلامی بھی سیاسی اتحادی بننے سے قبل ( دوسرے درجے کی قیادت اور جماعت کے کارکن آج بھی ) تحریک انصاف سے فاصلہ رکھنے کو ترجیح دیتی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ ق اور طاہرالقادری کی عوامی تحریک، حافظ سعید صاحب کی حمایت یافتہ ملی مسلم لیگ اور مولانا خادم رضوی کی تحریک لبیک بھی عمران خان سے کوئی خاص خوش نظر نہیں آتیں۔ آخر اس عمران کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ صرف اتنا ہے کہ عمران خان نے سیاست کے گہرے پانیوں میں پتھر پھینکا ہے، نیچے برسوں کا گند تو موجود تھا ہی، پتھر پھینکنے سے وہ گند اوپر آگیا۔ اب اس گند میں بار بار پتھر مارے گئے جس سے چھینٹے اڑ کر سب سیاست دانوں حتی کہ خود عمران خان پر بھی آن پڑے۔ گند کی صفائی میں ہاتھ پاوں تو گندے ہوتے ہی ہیں نا۔ عمران خان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔
عرض یہ ہے کہ ساٹھ، ستر، اسی، نوے اور دو ہزار کی دہائی کے اخبارات موجود اور محفوظ ہیں۔ ان اخبارات سے نیشنل لائبریری سے استفادہ حاصل کی جاسکتا ہے۔ تھوڑی سی محنت اور تحقیق سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ کون، کب اور کیسے اس گندے کھیل کا کھلاڑی رہا؟

ہمارے سیاست دان، ادارے، پارلیمنٹ، عدلیہ، فوجی اسٹیبلشمنٹ، بیورو کریسی، میڈیا اور عوام برسوں سے جو گند قالین کے نیچے چھپارہے تھے۔ عمران خان نے 15 برس کی کوششوں کے بعد 2011 میں وہ قالین اٹھا دیا۔ قالین اٹھتے ہی نیچے موجود گند کو کھل کر اڑنے کا موقع مل گیا۔ اب سارے کہنے لگے کہ عمران خان گندا ہے۔ دیکھنے والوں کو بھی بظاہر لگ رہا ہے کہ عمران خان گندا ہے کیونکہ اسٹٹیس کو کی قوتیں عوام کو دکھا رہی ہیں کہ عمران خان کے ہاتھ گندے ہیں، مگر یہ ہاتھ گند پھیلانے سے گندے نہیں ہوئے بلکہ قوم کو قالین کے نیچے برسوں سے چھپے ستر سالہ گند کو دکھانے کی کوشش میں گندے ہوئے ہیں۔

عمران خان کہہ رہا ہے کہ یہ گند اس نے نہیں پھیلایا ہاں مگر یہ گند اس نے دکھایا ضرور ہے کیونکہ اگر گند کے اوپر پڑا قالین نہ ہٹتا تو یہ گند برسوں نیچے چھپا رہتا اور پھر ایک دن آنے ولی نسلیں اس گند کی اتنی عادی ہوجاتیں کہ اس گند کی بدبو انہیں محسوس ہی نہ ہو پاتی۔

زرا دیر ٹھریں، سوچیں، غور کریں، اپنے اندر جھانکیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان ہماری ستر برسوں کی بے رحمانہ سیاست اور ہمارے منافقانہ رویوں کا کفارہ ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ یہ کفارہ اگر ہم نے آج ادا نہ کیا تو اگلا کفارہ ادا کرنے کا موقعہ شاید ہمیں 70 برس بعد بھی نہ ملے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3