کراچی میں انتخابی دن کی صبح
ویسے تو ضمیر صاحب کو بچپن سے لے کر اب تک جب بھی تلاش کیا، سوتے ہوئے ہی پایا اور ہمیشہ جھنجھوڑ کر اٹھا کر کبھی فلسطینیوں پر ظلم کے خلاف مظاہرہ کرنے ریگل چوک لے گئے تو کبھی کشمیریوں پر مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے حسن اسکوائر لے گئے۔
رات بھر جوں جوں ہم نے کروٹ بدلی، تو ہر کروٹ کے ساتھ ضمیر صاحب کو کروٹ بدلتے دیکھا۔ اور حیرت انگیز طور جب آنکھ کھلی تو ضمیر صاحب ہمارے اٹھنے سے پہلے ہی بیدار تھے۔
مرغیوں کو دانہ پانی ڈالا، ان کی ہڑبونگ اور شور و غل دیکھ کر ایسا لگا جیسے ٹی وی پر کوئی ٹاک شو چل رہا ہو۔ ویسے بھی آج عام انتخابات کا دن ہے، تو سوچا کہ ہوٹل میں چائے پراٹھے کا ناشتہ کیا جائے، یوں لوگوں سے میل ملاقات بھی ہوجائے گی اور عوام میں انتخابات کے حوالے سے دلچسپی کا بھی اندازہ ہوجائے گا۔
گھر سے باہر نکلے تو قریبی پولنگ اسٹیشن پر گاڑی روکی، تو دیکھا کہ پولنگ کا وقت شروع ہوئے ڈیڑھ گھنٹا ہوگیا ہے اور انتخابی کیمپ بے رونق ہیں۔ کتاب والوں کا کیمپ کتاب کی طرح ہی بند ملا، کیونکہ پڑھنے لکھنے جیسے فضول کام کی ہمارے عوام نے کبھی عادت ہی نہیں ڈالی۔
تبدیلی والوں کے کیمپ میں تین افراد بنا کسی تبدیلی کے بیٹھے تھے یعنی بغیر میک اپ، ایسا لگ رہا تھا، کہ بستر سے اٹھ کر سیدھے یہاں لاکر بٹھا دیے گئے ہیں یا رات سے یہیں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے انتخابی کیمپ میں رونق تھی اور ان کے کارکن انتخابی جیت کا جشن ابھی سے مناتے نظر آئے۔
پیپلز پارٹی کے کیمپ سے اپنے پولنگ اسٹیشن کا معلوم کیا تو پتا چلا کہ گھر سے قریب پولنگ اسٹیشن کی بجائے، دور کے پولنگ اسٹیشن میں ہمیں ووٹ ڈالنے کی سہولت دی گئی ہے۔ قیاس یہی ہے کہ انتخابی عملے کو ہمارے مٹر گشت اور آوارہ گردی کے قصوں کی بھنک پڑ گئی ہے، جب ہی گھر سے دور کے پولنگ اسٹیشن میں ہمارا ووٹ رکھا گیا اور یہی سوچ کے رکھا ہوگا کہ شام تک تو گھومتا گھامتا ووٹ دینے پہنچ ہی جائے گا۔
آج عام انتخابات کا دن ہے، ہر ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرے اور اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دے، ضمیر صاحب کو جذباتی نہ ہونے دیا جائے، سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالیں کیونکہ ووٹ کے ذریعے ہی حقیقی جمہوریت کی ارتقاء کی منازل طے ہوں گی۔ دعا ہے کہ آج کا انتخابی دن خیر و عافیت سے گزرے۔ اور قوم کو جمہوریت کی شکل میں ایک مستحکم حکومت کا تحفہ ملے۔


