پاکستانی احمدی، مذہب اور الیکشن

میں اپنے بچوں کو اکثر ڈاکٹر سوس کی ایک کتاب بارتھو لومیو کیوبنز کے 500 ھیٹس پڑھ کر سناتی ہوں۔ اور جانے کیوں مجھے ہمیشہ اسے پڑھ کر پاکستان کی احمدی کمیونٹی یاد آتی ہے۔ کہانی میں بارتھولومیو کیوبنز تو شہنشاہ وقت کے فرمان کے مطابق اپنی ٹوپی اتارتا ہے مگر اس کی جگہ خود بخود ہی ایک اور ٹوپی اس کے سر پر آن بیٹھتی ہے۔ اور اس سارے چکر میں اسے علما۶ کے فتوے، جلاد کے کوڑے اور جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتیں۔ بالکل اسی طرح پاکستان کی احمدی کمیونیٹی باقی کمیونیٹیز کی طرح اپنے کا م سے کام رکھے ہوئے تھی جب اچانک اپنے وقت کے ایک عوامی لیڈر نے انہیں غیر مسلم قرار دے دیا۔ لیکن علماء کے فتووں، جلاد کے کوڑوں اور جیلوں کی صعوبتوں کے باوجود، اسلام کی ٹوپی احمدیوں کےسر سے نہ اتاری جا سکی۔ اس ٹوپی کو اتارنے کے لئیے ضیاء الحق جیسے گھاگ فوجی آمر نے توہین رسالت کے قوانین بھی بنا ڈالے جن میں سلام کہنا، بسم اللہ پڑھنا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور کسی بھی اسلامی شعار کو اپنانا جرم قرا ر دے دیا گیا جس کی سزا کم سے کم تین سال قید اور زیادہ سے زیادہ سزائے موت مقرر کر دی گئی۔ مگر کیا کیجے کہ اسلام کی ٹوپی پھر بھی احمدیوں کے سر پرُسے نہ اترسکی۔
خیر خدا خدا کر کے آمریت کے ۱۱ سال گزرے۔ اس عرصے میں ملک کے عامتہ اللناس کو احمدیوں کو غیر مسلم سمجھنے کی عادت ہو گئی اور برسر اقتدار آنیوالی سیاسی جماعتوں نے احمدیوں کو آہستہ آہستہ پہلے سیاسی دھارے سے اور پھر ملکی دھارے سےعلحیدہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں احمدی ـــــ جو کہ پاکستان بنانے میں پیش پیش تھے, جنہوں نے پاکستان کے دفاع میں جنگیں لڑیں اور احمدی فوجیوں نے شہادت کا رتبہ پایا، جنہوں نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں نمائندگی کی، جنہوں نے پاکستان کو اس کا پہلا نوبیل انعام دلوایاـــــ اپنے آپ کو ہر آنیوالے دن زیادہ سے زیادہ غیر محفوظ سمجھنے لگے۔ نتیجتاً آئے دن کے جھوٹے مقدمات، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار، سوشل بائی کاٹ ، اور ٹارگٹ کلنگ سے تنگ آ کر پاکستانی احمدیوں کی ایک بڑی اکثریت پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئی۔

ایسی صورت میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سیاسی پارٹیاں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے احمدیوں کو ان کے پاکستانی شہری ہونے کے حقوق دلواتیں ۔ یا کم از کم احمدی مسئلے کو غیر اہم سمجھتے ہوئے احمدیوں کو اپنے حال پر ہی چھوڑ دیتیں۔ لیکن بدقسمتی سے تمام سیاسی پارٹیوں کو جب بھی موقعہ ملا، انہوں نے احمدیوں کے حقوق کی پامالی کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ کبھی ان کے اکثریتی شہر ربوہ کا نام تبدیل کرُڈالا تو کبھی ختم نبوت کو آڑ بنا کر احمدیوں کا استحصال کیا۔ کبھی قائداعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے پر اسمبلی میں طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا تو کبھی سیالکوٹ میں احمدیوں کی مسجد کو منہدم کرنے میں ہاتھ اور زبان سے حصہ ڈالا۔ 2018 کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے کھل کر ختم نبوت کارڈُ کھیلا اور اس تماشے میں باقی تمام سیاسی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ الیکشن فارمز میں موجود ختم نبوت کی شق کو تبدیل کرنے کی کلیریکل غلطی پر واویلا مچانے سے لے کر تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ساتھ ہاتھ ملانے تک، تحریک انصاف نے احمدیوں کو تکلیف پہنچانے کا کوئئ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

2018 کی انتخابی مہم کا کلائمیکس جبران ناصر کی کیمپین کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا۔ جبران صحت اور تعلیم کی بات کرتے ہیں اور لوگ ان سے ان کا عقیدہ پوچھتے ہیں۔ وہ عقیدہ بتاتے ہیں اور لوگ انہیں مجبور کرتے ہیں کہ احمدیوں کو گالیاں نکالو۔گویا کہہ رہے ہوں:

کافی نہیں اب توحید و رسالت کاُ اقرار
تم کیسے مسلماں ہو گالی نہیں دیتے

خیر جبران ناصر بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہے ۔اور مذہب کو سیاست سے الگ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے۔

بہر حال اس سارے قصے میں احمدیوں کو یہ ضرور باور کرا دیا گیا کہ وہ تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ مسلمانوں کی ووٹر لسٹ میں شامل ہونا تو درکنار وہ تو غیر مسلموں کی ووٹر لسٹ میں بھی شامل نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ان کے لئے ایک تیسری لسٹ ترتیب دی گئی ہے۔ گویا حکومت بھی کہیں نہ کہیں احمدیوں کو غیر مسلم نہیں مانتی۔ چلیں اب میں ایک اور بحث میں نہیں الجھنا چاہتی۔ قصہ مختصر یہ کہ ان انتخابات میں احمدیوں کی ٹوپی کو کھینچنے کی اس شدت سے کوشش کی گئی کہ جسکی نظیر پہلے کہیں نہیں ملتی۔

بارتھولومیو کیبوبنز کی وہ عام سی ٹوپی خاص ہوتے ہوتے ایک بہت خوبصورت تاج کی شکل اختیار کر گئی جسے بارتھولومیو نے بادشاہ سلامت کی خدمت میں ۵۰۰ اشرفیوں کے عوض فروخت کر دیا اور ہنسی خوشی رہنے لگا۔ یہاں سے کہانی تبدیل ہوتی ہے کیونکہ احمدیوں کے لئیے مذہب بکاؤ مال نہیں ہے۔ آپ نے انہیں غیر مسلم قرار دے کے دیکھ لیا، جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کے دیکھ لیا، زندہ جلا کے دیکھ لیا، بائیکاٹ کر کے دیکھ لیا، نماز پڑھتے ہوئے ان کے سینوں میں گولیاں برسا کے دیکھ لیا۔ لیکن ان کے سر سے اسلام کی ٹوپی نہ کھینچ سکے۔ وہ آج بھی اپنے بچوں کے نام احمد اور محمد اور عائشہ اور فاطمہ رکھتے ہیں۔ وہ آج بھی اپنے عبادت خانے کو مسجد کہتے ہیں۔ بچہ جب بولتا ہے تو اپنی توتلی زبان میں آج بھی لالہ الا للّٰہ محمد رسول اللہ ہی کہتا ہے۔ بڑی بوڑھیاں آج بھی کوئی بری خبر سن کر یا للّٰہ خیر کا ورد کرنے لگتی ہیں۔ مئی 2010 کی ایک جھلستی دوپہر میں جب ایک ایک کر کے احمدی اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر رہے تھے تو بچ جانے والے درود شریف کا ورد کر رہے تھے. احمدی آج بھی روزے رکھتے ہیں اور عید مناتے ہی ۔ اور ان کے خلیفہ آج بھی انہیں اپنی تہجد کی نمازوں میں پاکستان کی سلامتی کے لئے دعا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔

کیونکہ مذہب کا تعلق دل سے ہوتا ہے پارلیمنٹ سے نہیں. اور یہ بات پاکستان میں بننے والی نئی حکومت جتنی جلدی سمجھ لے اتنا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ اسلام کی ٹوپی احمدیوں کے سر سے نہ کبھی اتری تھی نہ اترے گی۔

محترمہ عایشہ نور امریکا میں جماعت احمدیہ کی ترجمان ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words