تبدیلی آسان نہیں


 میرے ذمے کرپشن نکل آئے تو میرا گریبان اور آپ کا ہاتھ ہوگا،

 ایک پائی کی بدعنوانی ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں

ایسے دعوے حکمران کرتے آئے ہیں، خصوصا ہمارے سابق حاکم بھی ایسی باتیں جذبات کی رو میں بہہ کر کیا کرتے تھے۔ نوازشریف اور شہباز شریف بڑے تواتر سے ایسے اعلانات کردیتے جس کے بعد کبھی اس کی نوبت نہ آئی کہ انہیں کسی تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا ہو، چاہے وہ علامتی نوعیت کا بھی ہوتا۔

وہ اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہوگئے یہ بھی بہت بڑی خبر ہے، ماسوائے سعودی عرب کے دور کے شریف خاندان پینتیس سال سے زائد عرصے پر محیط دور اقتدار گزار چکے ہیں، پہلی بار انہیں مرکز اور صوبے دونوں سے الگ ہونا پڑ گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے پارٹی کی تاریخ ساز جیت پر پہلے عوامی خطاب میں واضح کردیا کہ وہ وزیراعظم کی سرکاری رہائش میں قیام پذیر نہیں ہوں گے، گورنر ہاؤسز بھی عوامی فلاح کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران بڑی مستقل مزاجی سے سیاسی سفر کرتے اور اپنی کئی بار کی شکستوں پر کبھی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا، صفر سے سو کا کٹھن سفر کئی کہانیوں کا عینی شاہد ہے۔

عمران نے مسلسل کئی دعوے کئے اور عوام سے تبدیلی لانے کا وعدہ کیا، ماضی کی دونون حکمران جماعتوں سے تنگ آئے لوگ اور نئی نسل نے انہیں ایک موقع دینے کا ارادہ کرلیا تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی کرپشن اور بددیانتی کے خلاف آواز بنے، ملک کا نظام کسی حد تک پٹڑی پر آجائے معاملات کسی ضابطے میں رہ کر چلانے ہوں گے۔ اداروں میں پائی جانے والی بدنظمی کو ٹھیک کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن کپتان نے بھی قصد کرلیا ہے کہ کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ تبدیلی اس وقت تک نہیں آتی جب تک اندر سے آئے۔ اگر ہم لوگ تبدیل نہیں ہوں گے پھر ہمارے اردگرد لوگ کیسے بدلیں گے۔ نعروں سے کچھ ہوتا جتنے مرضی لگوالیں،

کپتان کہتے تھے وہ ایک بال پر دو وکٹیں گرائیں گے،

زرداری اور نواز شریف کو آؤٹ کریں گے۔

عمران خان نے اپنی فتح کے بعد کی تقریروں کو ذھن میں بٹھا لیا تھا۔

وہ کچھ کرنے کا عزم دکھا رہے تھے، جہاں انہوں نے خود پر حملے کرنے والوں کو معاف کردیا اور ایک بڑے پن کا مظاہرہ کیا وہیں انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ کوئی سیاسی انتقام نہیں لیا جائے گا۔ ابھی انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کا بلاواسطہ بھی ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے تمام جماعتون کی دھاندلی اور انتخابی عمل پر تحفظات کو مدنظر رکھتے ہیں ہر طرح کی تحقیقات کی پیشکش بھی کردی، ایسے میں کسی قسم کا ایجی ٹیشن غیر ضروری اور محض کارروائی تصور کیا جائے گا۔

الیکشن میں عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دے کر تحریک انصاف کی کوٹ میں گیند پھینک دیا ہے اب انہیں اس کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا، اور ڈلیور کرکے دکھانا ہوگا۔

انتخابات میں سازشی نظریے کانسپرنسی تھیوریز دھری کی دھری رہ گئیں، چودھری نثار سمیت کہیں بھی جیپ دکھائی نہ دی، مذہبی جماعتوں کے اتحاد کا زمین بوس ہوجانا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام نے انہیں مسترد کردیا۔ کراچی میں بھی ایک واضح پیغام سامنے آٰیا کہ روشنیوں کے شہر کے باسی اب اپنے شہر کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں وہ اسے مردوں کا شہر نہیں بنانا چاہتے۔ کسی کی کامیابی کے پیچھے کوئی پراسراریت نہیں چھپی، الیکشن میں الیکٹ ایبلز بھی بری طرح پٹ گئے۔

نیا ووٹر بھی اپنا آپ دکھا گیا، پنجاب بھی پہلی بار شریف خاندان کے کنٹرول سے باہر ہوگیا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ نظام کی بہتری کیسے لائی جاتی ہے اور دعووں کو کیسے حقیقی صورت ملتی ہے۔

کیا عمران خان ایک اور خادم اعلیٰ کے طور پر سامنے آتے ہیں، یا کسی نئے روپ میں عوام کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔

کپتان کو اپنے کھلاڑیوں کو بھی بڑی سوجھ بوجھ سے ساتھ لیکر چلنا ہوگا غلط کھیلنے والے کو ٹیم سے نکالنا ہوگا، اچھے کھلاڑیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دینا ہوگا۔ اچھی پرفارمنس پر ہی تماشائی دوبارہ دیکھنا چاہیں گے۔ ورنہ اس گراؤنڈ میں زیادہ دیر قدم نہیں جما پائیں گے۔

تبدیلی لانے کیلئے عوام کو بھی ذھنی طور پر خود کو تیار کرنا ہوگا۔ دوسری صورت میں انہیں بھی تنگی ہوگی اور سب کچھ ویسے کا ویسے ہی رہے گا۔ ہم محض شکلیں بدلنے والے رہ جائیں گے، جنہیں کبھی ایک کی صورت پسند نہیں آتی اور کبھی کسی دوسرے کی، ڈلیور کرنے والے کیلئے آزمائش ہے، وقت بہت ظالم ہے دوبارہ موقع نہیں دیتا۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar