پریزائیڈنگ آفیسر کی ڈائری


جس گاؤں کے پولنگ اسٹیشن پہ میری ڈیوٹی بطور پریزائیڈنگ آفیسر لگی تھی اس کا نام بہت منفرد تھا کہ اگر آپ کو بتا دوں تو غلط فہمی سے آپ اس کو کوئی بے ہودہ لفظ نہ سمجھ بیٹھیں۔ بہرحال گوگل پہ سرچ کیا کہ پتہ تو چلے دنیا کے کس نکڑ پہ واقع ہے۔ گوگل نے نشاندہی کی کہ راجھستان، انڈیا میں مطلوبہ جگہ موجود ہے۔ ہماری صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے شاید انٹر نیشنل ڈیوٹی کے لیے ہمیں چن لیا تھا۔ لیکن کچھ تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ ہمارے ہاں بھی اسی نام کا ایک گاؤں ہے۔ شاید یہاں بسنے والے لوگ بٹوارے میں جب ہجرت کر گئے تو انہوں نے اس پار جا کر بھی اسی نام کی ایک بستی بسا لی۔ یہ دھرتی سے محبت بھی عجب چیز ہے۔ جب تک سانسیں چلتی ہیں یہ بھی رگ و پے میں رواں رہتی ہے۔

ہم الیکشن کا سامان لینے ریٹرننگ آفیسر(سیشن جج) کے دفتر پہنچے تو وہاں عجیب سماں تھا۔ ایک جم غفیر تھا جو شتر بے مہار سا پھرتا تھا۔ سروں پہ ڈبے دھرے، بغل میں گتے کی اسکرینیں دبائے اور ہاتھوں میں سبز و سفید تھیلے لٹکائے لوگ ادھر ادھر پھر رہے تھے۔ ہر جگہ قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ اسلحہ بردار فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ فوجی افسران میگا فون پکڑے ڈسپلن قائم رکھنے کی ہدایات دے رہے تھے۔ اصل کام کو چھوڑ کر ان کی پوری توجہ لوگوں کو لائن میں لگانے پہ مرکوز تھی۔

گرمی اور حبس عروج پہ تھے۔ سامان لے کر ہم جب نکلے تو پسینے سے غسل کر چکے تھے۔ دھوتی بنیان پہن کر آتے تو بہتر تھا۔ مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات ملے تھے لہذا کاٹن کے کڑکتے کپڑے زیب تن کر کے آئے تھے۔ ساری اکڑ پسینے میں بہہ کر خاک نشیں ہو چکی تھی۔ ہم انتظامیہ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے حشر سے پہلے حشر برپا کر کے ہماری مشق کروا دی۔ اب ہم اصلی حشر کے دن موج سے پھرتے رہیں گے۔

پولنگ اسٹیشن تک جانے کے لیے ایک کھٹارہ سا مزدا تیار تھا جس کے ماتھے پہ لکھا تھا ’نیلم پری‘۔ شاید پیار سے ڈرائیور اسی نام سے مزدے کو پکارتا ہو گا۔ ہمیں نیلم پری نے پولنگ اسٹیشن کے گیٹ پہ چھوڑا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ ہم سب سلامت تھے۔ بس ہمارے کان بند تھے اور دماغ میں کھڑ کھڑ سی ہو رہی تھی۔ نیلم پری کے شیشے کھڑکیاں اتنا شور کرتی تھیں کہ ایک دو کلومیٹر کے بعد ہم دنیا و مافیہا کی تمام آوازوں سے بے پرواہ ہو گئے۔

پولنگ اسٹیشن ایک سکول میں قائم ہوا تھا۔ ظاہری شکل و صورت تسلی بخش تھی۔ چار دیواری کہیں کہیں ٹوٹی ہوئی تھے اور اندر جانے کے راستے بنے ہوئے تھے۔ البتہ سکول گیٹ کو بڑا سا تالا ضرور لگا ہوا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کا نمبر لیا اور بذریعہ فون ان سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے کمال مہربانی سے کسی لڑکے کے ہاتھ چابی بھجوا دی لیکن ساتھ ہی کچھ اطلاعات ایسی دیں کہ سنتے ہی ہمارے اوسان خطا ہو گئے۔ ماسٹر صاحب بتا رہے تھے ’ سکول میں پنکھے نہیں ہیں۔ دو پنکھے چوری ہو گئے تھے اور دو چوروں کے ڈر سے میں اتار کے گھر لے گیا‘۔ پہلی بار اندازہ ہوا کہ چوروں کے اثرات کتنے دوررس ہوتے ہیں۔

ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک اور خبر بریک کر دی۔ ’پنکھوں کا فائدہ بھی نہیں۔ گاؤں کا اکلوتا ٹرانسفارمر کئی دنوں سے خراب ہے اور کئی ہفتے مزید بجلی کی امید نہیں۔ ‘ اس سے پہلے کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کوئی اور بم گراتے ہم نے شکریہ ادا کیا اور فون بند کر دیا۔ اس شدید حبس میں ہمیں رات کاٹنی ہو گی۔ الیکشن ڈے سے پہلے ہی ہمارے ستارے گردش میں آ گئے تھے۔

یہاں کسی کو بھی حسب آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

سکول کے واش رومز اچھے تھے۔ ان میں لوٹے بھی سلامت تھے۔ ٹینکی ٹوٹیاں سب ٹھیک ٹھاک تھیں۔ بس پانی کی ٹینکی خالی تھی۔ ہم نے حبس کے اس موسم میں بغیر لائٹ، پنکھے اور پانی کے رات کاٹ لی۔ کروٹیں بدل بدل کر بنا سوئے صبح کر لی۔ مچھر تھے تو کم لیکن کم بختوں کو ہمارا خون چوسنے میں دلچسپی بہت زیادہ تھی۔ پو پھوٹی تو جان چھوٹی۔

پولنگ ڈے کو فوجی جوانوں نے بہترین ڈسپلن قائم رکھا۔ ووٹرز کی منظم قطاریں تھیں۔ کوئی ہلڑ بازی، لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ الیکشن عملہ اطمینان سے اپنا کام کرتا رہا۔ سابقہ الیکشنز میں پولیس اہلکار ووٹرز کو منظم نہیں رکھ پاتے تھے۔ ووٹر الیکشن عملے کی میزوں پہ چڑھ جاتے تھے جس سے پولنگ کا عمل متاثر ہوتا تھا۔ تو تو میں میں کی تکرار ہوتی رہتی تھی۔

پولنگ اسٹیشن پہ فوج کی تعیناتی پہ عوامی خدشات کے برعکس فوجی اہلکاروں نے شاندار کام کیا ہے۔ ڈسپلن قائم رکھا، ووٹرز کو عزت دی، الیکشن عملے اور عوام دونوں کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ اور پولنگ کے پورے عمل میں کسی قسم کی جانبداری یا مداخلت نہیں کی۔

ایک پر سکون ماحول میں لوگوں نے اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ ڈالے۔ خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں نے آنکھوں میں بہتر مستقبل کی آس لیے، سخت موسم کے باوجود حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ ایک خوبصورت منظر تھا۔ خدا کرے کہ میرے وطن کے باسیوں کا مستقبل تابناک ہو۔ آنکھیں یوں ہی روشن رہیں۔

صوبائی اسمبلی کا ایک امیدوار اپنا ووٹ کاسٹ کرنے آیا تو فوجی نے اسے لائن میں آنے کا کہا۔ امیدوار نے اپنا تعارف کروایا کہ میں ہی وہ شخص ہوں جو یہاں کے لوگوں کی تقدیر بدلنے جا رہا ہوں۔ فوجی نے پہلے سے بھی زیادہ سختی سے کہا ’ امیدوار ہیں تو پھر کیا ہے؟ آپ لائن میں کھڑے ہوں‘۔ ہمارے کلچر میں الیکشن لڑنے والے وڈیرے جن کو لوگ جھک جھک کے سلام کرتے ہوں لائن میں کھڑے ہونا توہین سمجھتا ہے۔ کچھ مزاحمت کے بعد اسے آگے جانے تو دیا گیا لیکن قطار میں کھڑے لوگ ضرور خوش تھے کہ کم از کم ایک امیر آدمی کو عام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا سختی سے کہا گیا ہے۔

جتنے بیلٹ پیپر ہم نے جاری کیے اتنے ہی باکسز سے نکلے۔ حالانکہ سابقہ الیکشنز میں رش کی وجہ سے ہر ووٹر کی صیحح رہنمائی کرنا ناممکن ہوتا تھا۔ کچھ بیلٹ پیپر باہر گرے ہوتے ملتے تھے اور کچھ ملتے ہی نہیں تھے۔ اس بار بھی چند مرد و خواتین نے پرچی پہ مہر لگانے والے گتے کی میز کے اندر ووٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں شاید اسی ڈبے میں ووٹ ڈالنا ہے۔ ایک بابا جی تو کہنے لگے ’بچہ، پرچی کتھے پانی اے؟ ایہدا تاں مورا ای کوئی نئیں (بیٹا پرچی کدھر ڈالنی ہے، اس کا تو سوراخ ہی کوئی نہیں ہے)۔ ‘

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti