پریزائیڈنگ آفیسر کی ڈائری
ایک بزرگ خاتون پولنگ افسر کے پاس جانے کی بجائے میرے پاس آئی اور کہنے لگی۔ ’اودھر رش بوہت اے پتر۔ توں ویہلا بیٹھا ایں۔ میرا ووٹ توں ایتھے پوا دے۔ ‘ (ادھر رش بہت اے بیٹا، تم فارغ بیٹھے ہو، میرا ووٹ تم ادھر ہی ڈلوا دو)۔
پولنگ کے دوران تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ پولنگ بوتھ والے کمروں میں موجود رہے۔ آپس میں گپ شپ لگاتے رہے، امیدواروں کی طرف سے ان کے لیے آنی والی بریانی اڑاتے رہے۔ امرود کھاتے رہے اور گاہے بگاہے پیپسی کوک پیتے رہے۔ اس بار ان کی اوورایکٹنگ، بلاوجہ کی مداخلت، بے تکے اعتراضات، ووٹرز کے ساتھ کھینچا تانی نہ ہونے کے برابر رہی۔ فوج تعیناتی کا فائدہ ہوا کہ کوئی غیر جمہوری حرکت نہیں ہوئی۔ تمام امیدواروں کے ایجنٹس کے ساتھ مساوی سلوک رکھا گیا۔
الیکشن کے عمل کو دیکھنے میں الیکشن ایجنٹس کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں تھا۔ گنتی کے عمل کے دوران ہی ہارنے والے امیدواروں کے ایجنٹ کھسک گئے۔ فارم 45 چونکہ گنتی کے عمل کے بعد تیار ہوتا ہے جب سارا عمل تسلی سے مکمل ہو جاتا ہے تب تک ہارنے والے امیدواروں کے کچھ ایجنٹس چلے گئے تھے۔ شاید وہ امیدواروں کے پاس کارکردگی دکھانے کو کہتے ہوں کہ ہمیں فارم 45 کی کاپی نہیں دی گئی۔
جو پولنگ ایجنٹ انتظار کرتے رہے ان کو فارم 45 کی کاپیاں دی گئیں۔ ایک کاپی پولنگ اسٹیشن کے باہر چسپاں کی گئی۔ گنتی مکمل ہونے کے بعد پولنگ ایجنٹس نے موبائل فون بھی منگوا لیے تھے۔ انہوں رزلٹ کی تصویریں بنائیں اور واٹس ایپ سے شئیر کیں۔
گنتی مکمل کرنے کے بعد فارمز، پیکٹ، تھیلے پیک کرنے کا عمل کافی پیچیدہ ہے۔ ان گنت پیکٹ ہیں، بے شمار فارمز ہیں، پانچ تھیلے ہیں۔ ان کو ٹھیک سے بند کرنے کے لیے جادوئی طاقت کی ضرورت پڑتی ہے۔
پولنگ افسر کا کام سب سے مشکل تھا۔ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی الگ الگ انتخابی فہرستیں تھیں۔ پھر ہر انتخابی بلاک کی فہرست الگ جلد میں تھی۔ صوبائی و قومی دونوں فہرستوں سے ووٹر کا نام شناخت کے بعد کاٹنا ہوتا تھا۔ پہلے تو ووٹر کے متعلقہ بلاک والی فہرست دیکھیں پھر اس میں اس کے سلسلہ نمبر دیکھیں۔ یہی کام قومی اسمبلی کی فہرست پہ دہرائیں۔ الیکشن کمیشن نے مزید ’آسانی‘ پیدا کرنے کے لیے فہرست کا ایک صفحہ سیدھا اور دوسرا الٹا لگایا ہوا ہے۔ ایک صفحہ سیدھا دیکھیں۔ دوسرا صفحہ دیکھنے کے لیے فہرست کو گھمائیں۔ سارا دن فہرستیں گھما گھما کے پولنگ افسر خود گھوم گئے۔
الیکشن کمیشن اس سے زیادہ گھمن گھیریوں والی فہرست نہیں بنا سکتا۔ ایک مشورہ ہے کہ سلسلہ نمبر بھی نہ لکھیں۔ ووٹرز کے نام ہندی زبان میں لکھے جائیں۔ یوں دنیا کی پیچیدہ ترین انتخابی فہرستیں بنانے میں ہم نام روشن کر سکتے ہیں۔
گنتی کا عمل مکمل کرنے کے بعد آر ٹی ایس کے ذریعے نتیجہ بھیجنا تھا جس میں فارم 45 ( گنتی کا گوشوارہ ) کی تصویر اپ لوڈ کرنی تھی اور امیدواروں کے ووٹوں کا اندراج کرنا تھا۔ جب فارم 45 کی تصویر لینے لگتے تو آر ٹی ایس ایپ بند ہو جاتی۔ باقی دوستوں سے رابطہ کیا جو بطور پریزائیڈنگ آفیسر ڈیوٹی دے رہے تھے۔ سبھی نے یہی کہا کہ رزلٹ مکمل تیار کر لیا ہے مگر آر ٹی ایس نہیں چل رہی۔
ہدایات تھیں کہ جب تک رزلٹ ٹرانسمٹ نا کر لیں پولنگ اسٹیشن نہیں چھوڑنا۔ آر او آفس اور آر ٹی ایس کے ماہرین کو کالز کی گئیں۔ فون کو بار بار ریسٹارٹ کیا گیا۔ بار بار کوشش کرنے کے باوجود آر ٹی ایس کام نہیں کر رہی تھی۔ اسی کشمکش اور پریشانی میں تین گھنٹے کی تاخیر ہو گئی۔
حالانکہ رزلٹ مکمل ہو چکا تھا۔ اُسی فارم کی ہی تصویر بھیجنی تھی جو آر او دفتر میں بھی جمع کروانا تھا۔
بالآخر آر او آفس سے اطلاع آئی کہ آر ٹی ایس نہیں ہو رہا تو رزلٹ لے کر دفتر آ جائیں۔
رزلٹ اور سامان کی واپسی کے لئے آر او آفس پہنچے تو ایک بار پھر میدان حشر تیار تھا۔ الیکشن کے بعد پریزائیڈنگ آفیسرز کی حالت، حالت نزع کے قریب تھی۔ چہروں کے رنگ سب اُڑ چکے تھے۔ بکھرے مٹی سے اٹے بال، پسینے مٹی میں دھلے کپڑے، غرض کہ جن بھوت بھی ان کی شکلوں پہ رشک کرتے ہوں گے۔ دو دنوں سے جاگ کر، دن رات مشکل حالات میں کام کر کے، کھانے پینے کا خیال نا رکھ سکنے کی وجہ سے ہر بندے کا انرجی لیول نیچے آ چکا تھا۔ تھکاوٹ سے کمر میں جھکاؤ پڑ گئے تھے۔ اول جلول بنے پھرتے مردوخواتین ایک دوسرے سے نظریں بچا کے ایک بار پھر قطاروں میں لگ گئے۔
ڈبے جمع کروانے کی الگ قطار، اسکرین کے لئے علیحدہ رش، تھیلے جمع کروانے کی الگ قطار، ٹیمپر ایوڈنٹ بیگز جمع کروانے کے لئے صوبائی اسمبلی آر او آفس کے باہر جم غفیر، پھر قومی اسمبلی آر او آفس کے سامنے بھیڑ۔ پھر باہر جانے کے لئے پرچی فلاں جگہ سے لیں۔
منیر نیازی نے شاید پریزائیڈنگ آفیسرز کی آر او آفسز میں ذلالت دیکھ کر ہی یہ شعر لکھا ہوگا۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
آر او دفاتر میں ہی فجر کی اذانیں ہو گئیں۔ خدا آر اوز کو توفیق دیتا کہ زیادہ ڈیسک بنا کر جلدی رزلٹ اور سامان وصول کر لیتے۔ لیکن اس بار تو ان کی یہ توفیق نصیب نہیں ہوئی۔
گھر آ کے اوندھے مُنہ بستر پہ نڈھال جو پڑا تو نہ جانے کب آنکھ کُھلی۔ ٹی وی اسکرین پر کوئی کہہ رہا تھا ’ہم نتائج کو مسترد کرتے ہیں‘۔ میں نے کروٹ بدلی اور پھر مُنہ پھیر کے سو گیا۔ سب سوئے ہوں گے خواب میں بھی بڑبڑاتے ہوں گے۔ ”چاچا کھبّا انگوٹھا لانا ای۔ ساوی، ساوے ڈبے وچ پاویں تے چٹی، چٹے وچ“ (چچا بایاں انگوٹھا لگانا ہے۔ سبز کو سبز ڈبے میں ڈالنا اور سفید کو سفید میں)۔
الیکشن ڈیوٹی کرنے والے لاکھوں پریزائیڈنگ آفیسرز، پولنگ آفیسرز، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز، فوجی ملازمین، پولیس اہلکار، پولنگ ایجنٹس نے پولنگ عمل کو براہِ راست قریب سے دیکھا ہے۔ اُن کا تعلق مختلف علاقوں سے ہوتا ہے۔ اس لیے جب کوئی سیاستدان دھاندلی کا الزام لگاتا ہے تو عوام اس کو نہیں مانتے۔ جب کوئی الیکشن نتائج کو مسترد کرتا ہے تو وہ کہتے ہوں گے ’چل جا اوئے شٹ یور ماؤتھ‘۔

