عمران خان اب عالم اسلام کا خلیفہ بننے کا اعلان کر دیں
تحریک پاکستان کے دنوں میں مسلم لیگی قیادت نے تو نہیں لیکن مسلمانانِ ہند نے ”پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ“ کے نعرے پر تحریک چلائی تھی۔ ابتدائی دستور میں تو معاملہ کچھ طے نہیں ہو سکا بہرحال نوابزادہ لیاقت علی خان نے قرارداد مقاصد پاس کروا کر کم از کم یہ طے کروا دیا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہو گا۔ 1973 کے دستور میں بھی قرارداد مقاصد کو آئین کا دیباچہ بنا کر طے کر دیا گیا کہ مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔ مرد مومن جنرل ضیا الحق نے قرارداد مقاصد کو آئین کا باقاعدہ حصہ بنا دیا۔
اب نئے پاکستان میں سب سے پہلے تو حکومتی عہدوں کو درست کیا جانا چاہیے۔ ہمارے آئین کے تحت حکومت کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے۔ صدر کی حیثیت محض ربڑ سٹیمپ کی ہوتی ہے۔ کیا ایک اسلامی ملک کے سربراہ کو وزیراعظم کہنے سے آپ کی تسلی ہوتی ہے؟ اب جبکہ نیا پاکستان بن چکا ہے تو ہماری تجویز ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ کے عہدے کو خلیفہ کہا جانا چاہیے۔ ویسے تو ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے صدر کے عہدے کی ضرورت نہیں ہے لیکن کوئی انتظامی مجبوری ہے تو صدر کے عہدے کو کوئی دوسرا نام مثلاً عم خلیفہ یعنی خلیفہ کا تایا وغیرہ دیا جا سکتا ہے۔ احترام بھی رہے گا، بزرگی بھی برقرار رہے گی اور سنتے ہی یہ بھِی پتہ چل جائے گا کہ یہ بندہ اصل حکمران تو نہیں ہے لیکن نہایت قابلِ احترام ہے۔
ویسے بھِی اس اقدام کے بعد جب عمران خان صاحب جب خلیفہ کی حیثیت سے عنان اقتدار (اقتدار کی لگام) سنبھالیں گے تو جو جو مسلح تنظیمیں مذہب کے مقدس نام پر بغاوت پر اتری ہوئی ہیں، ان کو ہتھیار ڈالنے پڑیں گے۔ یوں ارضِ پاک کو دہشت گردی اور بدامنی سے بھی نجات مل جائے گی۔
اس کے بعد وہ اپنے تخت کے دائیں جانب ایٹم بم رکھیں اور بائیں جانب شیخ رشید اور تمام اسلامی ممالک کے سفیروں کو بلا کر ان سے بیعت کا مطالبہ کر دیں۔ بیعت نہ کرنے کی صورت میں ان کو خبردار کر دیا جائے کہ ان کو خلافت کا باغی سمجھ جائے گا اور عبرتناک سزا دینے کے لئے تخت پر موجود عمران خان کا مہلک ترین ہتھیار ان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
غالب امکان ہے کہ تمام سفیر شیخ رشید پر ایک نظر ڈال کر ہی لرز جائیں گے اور اپنے اپنے سربراہ حکومت سے کھڑے گھاٹ وٹس ایپ پر ہی بیعت کا میسیج کروا دیں گے اور امیر المومنین عمران خان سے ان کی ولایت کا پروانہ جاری کرنے کی درخواست کریں گے۔ امید ہے کہ خان صاحب ان کو اپنے اپنے ملک، جو اب خلافت کا صوبہ بن جائے گا، پر خلیفہ کے نمائندے کی حیثیت سے حکومت کرنے کا پروانہ جاری کر دیں گے۔ یوں اسلام کا قلعہ پاکستان عالم اسلام کا حکمران بھی بن جائے گا۔ ممتاز مفتی نے بابوں سے سن کر لکھا تھا کہ اسلام آباد عالم اسلام پر حکومت کرے گا۔ وہ پیش گوئی بھی پوری ہو جائے گی۔
چشم تصور کو گھمائیں اور یہ سوچیں کہ جب ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی ایک ایسی مملکت وجود میں آئے گی جس کے پاس دنیا کا بیشتر تیل ہو گا، اس کے اسلحہ خانے میں ایٹم بم پڑے ہوں گے اور اس کا خلیفہ عمران خان جیسا نڈر شخص ہو گا جو نہ ڈرتا ہے اور نہ بکتا ہے، تو کفار پر کیا ہیبت طاری ہو گی۔ رقبے کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا ملک، آبادی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا ملک، جی ڈی پی کے حساب سے سب سے بڑا ملک، کون اس کے آگے ٹھہر سکے گا۔
آپ میں سے بعض قنوطی حضرات یہ کہیں گے کہ تمام مسلمان ممالک کی جی ڈی پی مل کر بھِی اکیلے امریکہ کے برابر نہیں ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے مسلمان ممالک کی قیادت نا اہل تھی۔ اب اہل قیادت ہو گی تو اس مملکت کی جی ڈی پی باقی تمام دنیا کی کل جی ڈی پی سے کہیں زیادہ ہو گی۔
خان صاحب، آگے بڑھیں اور عالم اسلام پر حکمرانی کا حق ادا کر دیں۔ تمام امت مسلمہ کی نگاہیں آپ پر مرکوز ہیں۔ خدارا ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو مایوس مت کریں۔ آپ پر صرف پاکستان ہی نہیں تمام امت مسلمہ کا حق ہے


