نیا پاکستان اور سیکسٹنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آنکھ کھلی تو معلوم ہوا، لوڈشیڈنگ ختم ہوچکی ہے۔ کشمیر آزاد ہوکر پاکستان کا حصہ بن چکا ہے، ایک روپے میں 100 امریکی ڈالر دستیاب ہیں۔ بلوچستان کی زمین پیٹرول اگل رہی ہے۔ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے۔ لاکھوں یورپی نوجوان پاکستان میں نوکریوں کے لئے درخواستیں دے رہے ہیں۔ پھر میں نے ہم سب کو پڑھنا شروع کیا تو معلوم ہوا۔ نئے پاکستان کو اب صرف ایک ہی مسئلہ درپیش ہے۔ سیکسٹنگ! یعنی کہ موبائل فون کے ذریعے سیکس کرنا!

ملک بھر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہر وقت ایک دوسرے کو فحش پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔ رات کے پہر تو یہ سلسلہ عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ گھر گھر یہی کہانی ہے۔ سونے سے قبل کسی کے بھی ساتھ فحش پیغامات کا تبادلہ اور خود لذتی اتنا ہی اہم ہوچکا ہے جتنا رات کا کھانا۔ اور اس کے باعث دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت زوال پزیر ہوسکتی ہے۔ بلکہ ہمارے ملک میں فحاشی کو عام کیا ہی ہمیں برباد کرنے کے لئے گیا ہے۔ اور سازش سے بچنے کے لئے عہد حاضر کے سقراط نے ایک رائے دی ہے کہ اپنے گردونواہ میں لوگوں کا خیال رکھیں۔ کسی کو بھی رات میں فون استعمال کرتے پائیں تو چیک کریں۔ وغیرہ وغیرہ۔ میرے خیال میں یہ سب تجاویز بوگس ہیں۔ لہذا چند مفید مشورے مجھ سے مفت حاصل کریں۔

سب سے پہلے تو اس انٹرنیٹ نامی فتنے پر پابندی عائد کردی جائے۔ ضرف خواص ہی کو اس کے استعمال کا حق حاصل ہو جیسا کہ معاشرے میں بسنے والے چند صادق و امین قرار پائے لوگ۔ دوسرا موبائل فون کے عام استعمال پر بھی پابندی عائد کی جائے۔ موبائل خریدنے سے قبل حلف لیا جائے کہ میں اس چیز سے باقی سب کچھ کرلوں گا مگر سیکسٹنگ نہیں کروں گا۔ موبائل فون کچھ اس طرح کے بنوائے جائیں کہ ان میں کمیرہ میسر ہی نہ ہو۔ حکومتی سطح پر گھر گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگادیے جائیں۔ تاکہ کوئی کسی کونے میں چھپ کر بھی خود لذتی یا سیکسٹنگ نہ کرسکے۔ آخر کیا گارنٹی ہے کہ اس سے عوام یہ گھناؤنا جرم نہیں کریں گے۔ ہو سکتا ہے چند بے شرم لوگ یہ حرکت سی سی ٹی وی کے سامنے فخر سے کرگزریں۔

ایسے میں پاکستان کے تمام تر مردوں کو اکٹھا کیا جائے اور انہیں ایک لوہے کا کمر بند پہنا دیا جائے۔ گویا عضو خاص کو تالا لگا کر چابی کسی نیک پرہیز گار کے حوالے کردی جائے جو کہ نکاح نامے پر دستخط کے بعد ہی اس مرد کو آزادی فراہم کرے۔ یا پھر نس بندی کی تجویز پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔

حضور مگر اس قسم کے تمام تر اقدامات وہی کرسکتا ہے۔ بلکہ سیکسٹنگ سے پریشان ہوکر اسے مسئلہ وہی بنا سکتا ہے جسے خود سیکس سے مسئلہ ہو۔ یا پھر جسے خود بھوک نہ لگتی ہو مگر وہ دوسروں کو کھانا کھاتے دیکھ حسد کا شکار ہو۔ بھئی میں تو کھانا کھا نہیں سکتا۔ مل بھی جائے تو مجھ میں ہضم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ لہذا سب کے کھانے پر واویلا کیا جائے۔ اوئے اس نے سیکس کرلیا۔ حضور اگر آپ سیکس سے پریشان ہیں تو آپ کا یہ مسئلہ صرف ایک گولی حل کرسکتی۔ ہمارے دیس کے تو کئی خواجہ سرا بھی صاحب اولاد ہیں۔ سیکس بلکل بھی مشکل نہیں بلکہ بہت حسین تجربہ ہے۔ گھبرائیں نہیں ہوجائے گا آپ ایک مرتبہ کوشش تو کریں۔

سیکسٹنگ کا رونا روتے ہوئے چند صاف دامن سیکس ورکرز پر بھی خوب کیچڑ اچھالا گیا۔ جناب اس دیس کا جوان بھوکا ہے۔ بہت سی دیگر بھوکوں کی طرح ایک بھوک سیکس کی بھی ہے۔ آپ ہی بتائیں وہ اپنی بھوک کیوں نہ مٹائے۔ بزرگ شادی تو کرتے نہیں۔ میٹرک تک پہنچتے لڑکا اور لڑکی بھرپور جوان ہوجاتے ہیں۔ سیکس کی بھوک جوبن پر ہوتی ہے۔ اور اس کو شریک حیات شادی کی صورت میں میسر آتا ہے ماسٹرس مکمل کرکے اچھی نوکری کرنے کے بعد یعنی کہ کوئی چھ سے سات سال کی بھوک۔

شاباش دیں اس نوجوان نسل کو جو یہ تشدد سہتی ہے۔ پڑھائی ادھوری نہیں چھوڑتی۔ کسی کا ریپ نہیں کرتی۔ سیکسٹنگ کرلیتی ہے۔ بہت زیادہ تیر مارے تو کسی سیکس ورکر کے پاس چلی جاتی ہے۔ سیکسٹنگ کرنا، خود لذتی کرنا یا پھر کسی فاحشہ کے پاس چلے جانا۔ کسی کا ریپ کرنے یا پھر اندھیری رات میں کسی کھوتی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے پکڑے جانے سے کئی بہتر ہے۔ کیونکہ بھوک سب کو لگتی ہے۔ ہر کسی کو گولی یا حکیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مسئلہ سیکسٹنگ نہیں شادی کا بے حد تاخیر سے اور انتہائی مشکل ہونا ہے۔ بات کرنی ہے تو اس پر کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں