الیکشن میں دھاندلی روکنے کا بہترین نسخہ

بہرحال ہم نے اس معاملے پر بہت غور کیا ہے کہ دھاندلی کیسے روکی جا سکتی ہے۔ گزرے وقتوں میں انتخابات کی نگرانی الیکشن کمیشن نگرانی کرتا تھا جس کا سردار کوئی ریٹائرڈ قسم کا نہایت ہی معزز جج ہوتا تھا۔ وہ قابل اعتبار نہ رہا۔
پھر فساد کی جڑ کے بارے میں تحقیق کی گئی تو علم ہوا کہ حکومت دھاندلی کروا دیتی ہے۔ اس لئے انتخابات کو نگران حکومت کے تحت کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن نگران حکومت بھی یہ الیکشن انہی الیکشن کمیشن کے ریٹائرڈ ججوں کے ذریعے کرواتی تھی۔ دھاندلی پھر ہو گئی۔
جب ریٹائرڈ ججوں پر اعتبار نہ رہا تو پھر مطالبہ ہوا کہ حاضر سروس عدلیہ کی نگرانی میں الیکشن کروایا جائے۔ کروا دیا۔ اب اس پر بھی دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔ مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن اگر شفاف کروانا ہے تو فوج کی نگرانی میں کروایا جائے۔
حالیہ الیکشن فوج کی نگرانی میں کروا دیا گیا ہے۔ بیلٹ پیپر کی تقسیم اور چھپائی سے لے کر ٹھپہ لگوائی تک فوج کی نگرانی میں کروا دی گئی۔ اب پھر سیاپا پڑا ہوا ہے۔ خیبر سے کراچی اور مری سے لے کر مانسہرہ تک احتجاج ہو رہا ہے کہ زبردست دھاندلی ہو گئی ہے۔ جس بھی ہارنے والی سیاسی جماعت سے پوچھیں وہ یہی کہتی ہے کہ بہت دھاندلی ہوئی ہے، ہم ریزلٹ نہیں مانتے۔ کہیں بتایا جا رہا ہے کہ کاؤنٹنگ کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو نکال دیا گیا تھا تو کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ ری کاؤنٹنگ میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔
منصفانہ الیکشن بہت اہم ہیں۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں ہے کہ وہ منصفانہ انتخابات کروا سکتا ہے۔ تو پھر کیا کریں؟ دھاندلی کیسے روکیں؟ انتخابات کی شفافیت کیسے یقینی بنائیں؟
عمیق غور و فکر کے بعد ہم نے اس گمبھیر سمسیا کا حل کھوج نکالا ہے۔ اب جبکہ ہمارے ملک میں کوڑا گاڑی سے لے کر ریل تک چینی چلانے لگے ہیں تاکہ ان محکموں کو ٹھیک کیا جائے تو بہتر ہے کہ الیکشن کروانے کا عمل بھی سی پیک میں ڈال دیا جائے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت چین کو الیکشن کروانے کی ذمہ داری دے دی جائے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اکیس ارب روپے میں ایسے الیکشن کروانے کی بجائے جس کا ریزلٹ تین دن میں آئے، دس ارب میں ہی ایک دن میں مناسب سا ریزلٹ نکال کر ہاتھ میں پکڑا دیں گے۔
کسی کو اعتراض بھی نہیں ہو گا کہ دھاندلی ہوئی ہے کیونکہ چینیوں کو کوئی کرپٹ مل جائے تو وہ اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے ہیں۔ انشااللہ وزیراعظم عمران خان خود کئی مواقع پر یہ بتا چکے ہیں کہ چین نے گزشتہ کچھ عرصے میں ہی اپنے چار سو وزیروں کو کرپشن کرنے پر سزا دی ہے۔ ان سے بھی بڑھ کر عزت مآب ترین چیف جسٹس نے بھی بتایا ہے کہ ان کو میسیج ملا تھا کہ چین کی ترقی کا راز چار سو کرپٹ وزیروں کو نکالنا ہے۔ غالباً خان صاحب اور چیف صاحب کو کسی ایک شخص نے ہی یہ میسیج کیا ہو گا۔ بہرحال اصل بات یہ ہے کہ چین کے ون ووٹ ون بیلٹ منصوبے کے تحت انتخابات ہوں گے تو ووٹ چوری کرنے کی نیت تک کرنے والا نزدیکی کھمبے پر نظر ڈالے گا اور دھاندلی سے تا زندگی تائب ہو جائے گا۔

