موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہے


لیکن ڈاکٹر صاحب آپ تو ایسے مریض دیکھتے ہی ہوں گے، آپ کو اندازہ تو ہوگا ہی کہ اس صورت حال میں عام طور پر مرض کتنا خطرناک ہوتا ہے۔ مہ جبیں نے لرزتی ہوئی آواز میں سوال کیا تھا۔

مجھے اس سوال کی امید تھی۔ ایک مشکل سوال جو بیٹیاں ہی کرتی ہیں، جس کا مشکل جواب دینا ہی پڑتا ہے۔ میں نے ایک گہری سانس لی اور مہ جبیں کی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ دیکھو مہ جبیں انڈہ دانی کے کینسر اگر بہت جلدی دریافت ہوجائیں تو مریض بچ جاتا ہے لیکن اگر تھوڑی سی بھی دیر ہوجائے تو کینسر سے ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ علاج کے بعد کتنے مہینے، سال زندہ رہا جاسکتا ہے۔ اس کا فیصلہ تو اسی وقت ہوگا جب انکولوجسٹ اپنی رائے دے گا اور جب رسولی نکال کر پیٹ کے اندر کی صورت حال دیکھی جائے گی، ابھی کچھ بھی کہنا صحیح نہیں ہوگا۔ ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے اور برے حالات سے نمٹنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ ابھی تک کی صورت حال میں کافی بہتر علاج ممکن ہوگا۔

وہ مجھے غور سے دیکھ رہی تھیں اور توجہ سے سن رہی تھیں۔ بظاہر انہوں نے اپنے آپ پر قابو پایا ہُوا تھا۔ میرے خاموش ہوتے ہی انہوں نے مہ جبیں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب اﷲ کی مرضی کے آگے کوئی کیا کہہ سکتا ہے، کیا کرسکتا ہے، کوئی بات نہیں ہے، کل ہم صبح سویرے ہی آجائیں گے، آپ ان سے پوچھ لیں۔

دوسرے دن صبح سویرے ہی وہ آگئی تھیں۔ اس دفعہ وہ اکیلی تھیں۔ میں نے مسکرا کر ان کا استقبال کیا۔ مہ جبیں نہیں آئیں۔ میں نے سوال کیا تھا۔

اس کی کلاس تھی ڈاکٹر صاحب۔ اس نے چھٹی لے لی تھی مگر میں نے منع کردیا کہ اس میں اکیلی ہی چلی جاؤں گی۔ اس نے کافی ضد کی مگر میں نے سختی سے اسے روک دیا تھا۔ دوسرے بچوں کو ابھی میں نے نہیں بتایا ہے کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے۔ بتائیں ڈاکٹر صاحب کیا خبر ہے میرے لیے۔

خبر اچھی بھی ہے اور بُری بھی ۔ میں نے انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ رسولی ابھی کافی حد تک محدود ہے جس کی وجہ سے اچھی امید کی جاسکتی ہے۔ بُری خبر یہ ہے کہ فوری طور پر آپریشن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پیٹ سے رسولی نکال دی جائے۔ اس کا معائنہ کیا جائے کہ کس قسم کا کینسر ہے، جس کے بعد شاید دواؤں سے علاج کرنے کی ضرورت ہوگی۔ دواؤں کا اچھا خاصا خرچ ہے لیکن اس سے یہ ہوگا کہ اگر جو کینسر دُور تک چلا گیا ہے، اس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اورآپ کی زندگی میں یقینی طور پر اضافہ ہوگا۔

میں جیسے ہی خاموش ہُوا تو انہوں نے کہا تھا ڈاکٹر صاحب میں مہ جبیں کو خاص طور پر لے کر نہیں آئی ہوں کیوں کہ مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے جو میں اس کے سامنے نہیں کرسکتی تھی۔

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئیں اور میری طرف دیکھنے لگی تھیں۔ میں نے انہیں یقین دلایا تھا کہ میرے اور ان کے درمیان بات چیت میرے پاس محفوظ رہے گی، انہوں نے مجھے غور سے دیکھا اور بولیں،میرے چھ بچے ہیں، چار بڑی بیٹیاں اور دو چھوٹے بیٹے۔ میرے شوہر کا انتقال بارہ سال پہلے ایک ٹریفک کے حادثے میں ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سے میں نے اسکول میں پڑھا کر اور بچوں کو گھر میں ٹیوشن دے کر زندگی گزاری ہے۔ دو بیٹیاں کام کررہی ہیں، دو بیٹیاں یونیورسٹی میں ہیں اور بیٹے اسکول میں ہیں۔ اب چھ ماہ کے بعد مہ جبیں کی شادی ہے۔ کیا میں چھ مہینے زندہ رہوں گی ڈاکٹر صاحب۔

میرا دل پہلے کبھی اتنے تیزی سے نہیں دھڑکا تھا۔ ڈاکٹر کو حساس نہیں ہونا چاہیے۔ مریضوں کے مسئلے مریضوں تک ہی رہیں تو بہتر ہے لیکن اس دل کا کیا کرسکتا ہے انسان۔ ہر تھوڑے دنوں کے بعد ایسا ہی کوئی مریض آجاتا ہے جو دل کی دھڑکنوں کو بے ضابطہ کرکے چلا جاتا ہے، کیا کرے اس دل کا انسان۔ میں نے مشکل سے اپنے آپ کو جواب دینے کے قابل بنایا تھا۔

اگر آپ کا کوئی علاج نہ بھی کریں تو آپ چھ ماہ آرام سے زندہ رہیں گی لہٰذا اس کی تو آپ بالکل بھی فکر نہ کریں لیکن آپ کا فوری آپریشن ہونا بہت ضروری ہے تاکہ مرض مزید نہیں پھیل سکے۔ میں نے اپنے لحاظ سے آپ کے آپریشن کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آج آپ کو کچھ ضروری ٹیسٹ لکھ کر دوں اور تین دن کے بعد آپ ہسپتال میں آجائیں اور چوتھے دن آپ کا آپریشن ہوجائے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ یہ سرکاری ہسپتال ہے، بہت کم خرچے میں آپ کا آپریشن ہوجائے گا۔

وہ کچھ دیر سوچتی رہی تھیں پھر انہوں نے آپریش کے لیے حامی بھرلی تھی۔ میں نے ان کا خون ضروری ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیج دیا اور داخلے کے کاغذات تیار کرادیے تھے۔ چار دن بعد آپریشن ہوگیا۔ دونوں انڈہ دانی، بچہ دانی اور پیٹ میں موجود جھلی نکال دی گئی تھی۔ پیٹ میں تھوڑا پانی تھا اسے بھی نکال کر ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا تھا ۔ آپریشن کے بعد ہسپتال میں وہ ٹھیک ہی رہی تھیں، گھر والے آتے جاتے رہے تھے۔ میرا سابقہ گھر کے ہر فرد سے ہوگیا تھا۔ وہ محبت کرنے والا خاندان تھا۔ میں نے انہیں پانچ دن کے بعد ہسپتال سے رخصت کردیا تھا۔

پندرہ دن میں رپورٹ آگئی تھی جو توقع کے برخلاف اچھی نہیں تھی۔ یہ خراب قسم کی رسولی تھی جو تیزی سے جسم میں پھیلتی ہے۔ یہ ضروری تھا کہ دو ہفتوں کے بعد انہیں کینسر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دوائیں دی جائیں۔ کیموتھریپی ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ یہ زہریلی دوائیں جہاں کینسر کے خلیوں کو تباہ کرتی ہیں وہاں انسان کے نارمل خلیوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ علاج کے درمیان سر کے بال گرجاتے ہیں، جسم کے مختلف حصو ں میں درد ہوتا ہے اور ہروقت متلی اور اُلٹی جیسی کیفیت رہتی ہے کبھی کبھار دواؤں کے اثر سے مریض چھوٹی موٹی بیماریوں سے اپنا بچاؤ بھی نہیں کرپاتا اور اس کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سب سے مشکل بات یہ ہے کہ علاج بہت مہنگا ہوتا ہے۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3