موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہے


وہ تین ہفتوں کے بعد آئی تھیں اور اکیلی ہی آئی تھیں۔ ان کے زخم کا معائنہ کرنے کے بعد میں نے انہیں رپورٹ کے بارے میں بتایا اور سمجھایا تھا کہ علاج کے اگلے مرحلے میں کیا ہوتا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ دوا کی ہر خوراک کے ساتھ انہیں ہسپتال میں داخل ہونا ہوگا۔ تقریباً بارہ خوراک انہیں دی جائیں گی اور تقریباً چھ لاکھ روپے کی دوائیں آئیں گی۔

ان کے چہرے پر جیسے دھواں سا اُتر آیا ۔ وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں سکی تھیں۔ تھوڑی دیر وہ سوچتی رہیں پھر ہمت کرکے آہستہ آہستہ بولی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب اتنے پیسوں کا تو انتظام کرنا پڑے گا۔ ہمارے پاس تو اتنی رقم نہیں ہے۔ ویسے بھی گھر شادی کا بنا ہُوا ہے۔ دیکھیے اوپر والا کچھ انتظام کردے۔ یہ کہتے ہوئے وہ اُٹھی تھیں۔ سوچ نے اُن کے چہرے پر سنجیدگی کا غلاف چڑھادیا تھا۔ انہوں نے میری طرف دیکھا پھر آہستہ سے بولی تھیں۔

ڈاکٹر صاحب اگر میرے بچے آکر آپ سے میری بیماری کے بارے میں پوچھیں تو کچھ مت بتایے گا۔ یہ میری آپ سے درخواست ہے۔ مرض اوراس کا علاج میرے اورآپ کے درمیان ایک راز ہے۔

میں نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ تین ہفتوں میں دوبارہ آئیں گی۔

وہ نہیں آئی تھیں۔ مجھے دو تین دفعہ ان کا خیال آیا تھا لیکن مریضوں اور ہسپتال کی مصروفیات میں انہیں بھلا بیٹھا۔ میں نے سوچا کہ آپریشن تھیٹر کے رجسٹر میں ان کا پتہ یا فون نمبر ہوگا، میں فون کرکے ان سے بات کرسکتا تھا۔ مگر میں نہیں کرسکا۔ تقریباً نو دس ماہ گزرگئے جب ایک دن وہ ہسپتال آئی تھیں۔

ان کی حالت صحیح نہیں تھی۔ وہ شکل سے ہی بیمار لگ رہی تھیں۔ مجھے انہیں ہسپتال میں داخل کرنا پڑگیا ۔ یہ صاف ظاہر تھا کہ کینسر ان کے جسم کے مختلف حصوں میں پہنچ چکا تھا۔ مہ جبیں ان کے ساتھ تھی۔

مجھے شدید قسم کا احساس جرم ہُوا ۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔ مجھے ابھی تک انگلستان کی عادت لگی ہوئی تھی۔ کینسر کا مریض دیکھا اور دیکھنے کے ساتھ ہی بہت سے لوگ اس مریض سے وابستہ ہوگئے۔ ہسپتال کے کلرک، میڈیکل کے ڈاکٹر، انکولوجسٹ، سوشل ورکر اور فیملی فزیشن ۔ ایک دفعہ مریض اپنے اپائمنٹ پر نہیں آیا تو بے شمار لوگ اسے فون کرنے میں لگ گئے اور کسی نہ کسی طرح مریض کو ہسپتال لے آیا گیا۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک حاملہ مریض کو جسم میں فولاد کی کمی دور کرنے کے لیے انجکشن لگانے کی ضرورت پڑی تو اسے پولیس کے ذریعے ہسپتال بلایا گیااورہسپتال میں داخل کرکے فولاد کی سوئیاں لگائی گئی تھیں تاکہ ماں اور بچہ دونوں محفوظ رہ سکیں۔

نہ جانے میں کیا کیا سوچتا رہ گیا، میں اتنا بھی نہیں کرسکا تھا کہ انہیں بلا لیتا، آپریشن کے بعد ان کا علاج کرا لیتا۔ شاید وہ بچیں گی تو نہیں لیکن زندگی شاید طویل ہوجاتی۔ کتنا مشکل ہے اس ملک میں کام کرنا، کیسے مرجاتا ہے اچھا ڈاکٹر یہاں پر۔ آہستہ آہستہ روز بروز۔ میری سمجھ میں آیا تھا کہ میرے ایماندار، اچھے شریف ہم جماعت ڈاکٹر کیوں واپس نہیں آتے ہیں اور جو آئے تھے تو واپس کیوں چلے گئے ہیں۔ یہاں تو وہی ڈاکٹر رہ سکتا ہے جو بے حس، بے ایمان ہے جو اپنا ایمان اخلاق اور پیشہ بیچ دیتا ہے جنہیں صرف اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے جو صرف پیسہ کماتے ہیں جنہیں مریض اور اس کے خاندان سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہے۔

مہ جبیں نے بتایا تھا کہ آپریشن کے بعد انہوں نے نہ جانے کیسے اس کی چھوٹی بہن کا رشتہ بھی طے کیا اور ایک ہی دن دونوں بہنوں کی شادی ہوگئی تھی۔ ساری جمع شدہ رقم، اپنے سارے زیورات بیچ کر انہوں نے دونوں بہنوں کے جہیز کا انتظام کیا تھا اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر ان کی شادیاں کی تھیں۔ کئی بار اس نے ان سے کہا تھا کہ وہ انہیں لے کر ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتی ہے لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا پھر ایک دن سختی سے منع کردیا تھا۔

اب شادی کے تین مہینوں کے بعد وہ ہسپتال میں داخل تھیں اورمیں ان کے سامنے بیٹھا ہُوا تھا۔ ان کی حالت اچھی نہیں تھی۔ پریشانی ان کے چہرے پر عیاں تھی، کینسر نے انہیں بہت کمزور کردیا تھا مجھے پتہ تھا کہ وہ مرجائیں گی بہت جلد مرجائیں گی۔ جسم کے چپے چپے، کونے کونے تک پھیلے ہوئے کینسر کے قاتل ذرے بہت تیزی سے ان کے خلاف لڑ رہے تھے۔

مجھے دیکھ کر انہوں نے بیٹھنے کی کوشش کی، مجھے غور سے دیکھا، ان کے چہرے کی مسکراہٹ مجھے بہت عجیب لگی تھی۔ مری ہوئی عورت کیسے مسکرا سکتی ہے، کیسے مسکراتی ہے، بے رونق آنکھیں، سُتا ہوا چہرہ، تھکا ہوا جسم، مری ہوئی رُوح، ناامیدی کا زہر کسی کو ہنسا سکتا ہے مگر وہ مسکرا دی تھیں۔

میں اپنے احساس جرم کے ساتھ سوچ رہا تھا کہ اب کیا کیا جاسکتا ہے۔ زہریلی شعاعوں سے جگر ریڑھ کی ہڈیوں اور جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچے ہوئے کینسر کے خلیوں کو تباہ کیا جائے پھر زہریلی دواؤں سے بچے کھچے خلیوں کو نشانہ بنایا جائے مگر ان کا ناتواں جسم یہ سب کچھ کہاں برداشت کرسکے گا۔ پھر اس علاج کے لیے تو بڑی رقم کی ضرورت ہوگی، وہ کہاں سے آئے گی۔ میں نے سوچتے ہوئے ان کے چہرے پر نگاہ ڈالی تھی۔

ڈاکٹر صاحب آپ کے سچ کا شکریہ۔ انہوں نے آہستہ سے کہا تھا۔ اگر آپ مجھے میرے مرنے کا نہیں بتاتے تو شاید میں کچھ نہیں کر پاتی، آپ کے آپریشن کا بھی شکریہ جس کی وجہ سے مجھے کچھ وقت مل گیا اورمیں اپنی دو بچیوں کی شادی کرسکی۔ اگر ان کی شادی کیے بغیر مرجاتی تو میرا گھر بکھرجاتا۔ اب یہ بچیاں چھوٹوں کو سنبھال لیں گی۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئیں اور آنکھیں بند کرلی تھیں۔ مہ جبیں آہستہ آہستہ ان کے پیروں کو سہلا رہی تھی۔

انہوں نے فوراً ہی آنکھیں کھولی تھیں اور میرے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا، آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ میں کیموتھریپی کے لیے کیوں نہیں آئی تھی کیوں اکیلے آتی تھی، میرے پاس تو بس اتنے ہی پیسے تھے۔ کیموتھریپی کرا کر تھوڑے دن اور زندہ رہتی یا ان کی شادیاں کر دیتی۔

مہ جبین کا خوبصورت چہرہ آنسوؤں سے بھر گیا تھا۔ مجھے اپنے آنسو چھپانے کے لیے کمرے سے باہر جانا پڑ گیا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3