موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہے
آپ کو کینسر ہے اور یہ شاید بہت خراب کینسر ہے۔
میں مریضوں سے جھوٹ نہیں بولتا ہوں، کبھی بھی نہیں۔ جھوٹ کا کبھی بھی کہیں بھی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان جھوٹ بولنے والے کو ہی ہوتا ہے۔ میری بات سن کر وہ دوبارہ سے سنبھل کر بیٹھ گئیں اور مجھے غور سے دیکھنے لگی تھیں۔
وہ اٹھاون سال کی تھیں۔ سرخ وسفید خوبصورت چہرہ۔ ان کا شمار ابھی بھی حسین عورتوں میں کیا جاسکتا تھا۔ سر پر گھنے سفید اور مہندی کے سرخی والے بال جس نے ان کی شخصیت میں ایک طرح کا وقار پیدا کردیا تھا۔ آنکھیں نہ بڑی تھیں نہ چھوٹی لیکن خوبصورت سی ناک کے دونوں طرف بالکل توازن میں تھیں۔ ہونٹ، پیشانی اور چھوٹی سی ٹھوڑی نے ان کے چہرے کو جاذب نظر بنادیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ان کا چہرہ سرخ ہوگیا ہے اور پیشانی پر بے شمار چھوٹے چھوٹے پسینے کے قطرے ابل آئے ہیں۔
انہیں نیوکراچی سے ڈاکٹر سلمیٰ نے بھیجا تھا تاکہ میں ان کا علاج کرسکوں۔ الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ ان کے پاس تھی۔ میں نے ان کا اچھی طرح سے معائنہ کیا۔ پھر ایم آر آئی کے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا تھا۔ الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ کے مطابق ان کے دونوں انڈہ دانیوں میں رسولی تھیں جن کا شمار خراب قسم کی رسولیوں میں کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ مکمل طور پر ٹھوس قسم کی تھیں۔ ٹھوس پتھر جیسی رسولی ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے۔ ایک تجربہ کار ڈاکٹر الٹراساؤنڈ سے جانچنے کے بعد بھی بتا سکتا ہے کہ مریض کو کینسر ہے۔ اس عمر میں دونوں انڈہ دانی میں ٹھوس رسولی بری خبر ہوتی ہے۔ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ ٹھوس انڈہ دانیوں میں سرطان نہ نکلا ہو۔
تین دن کے بعد وہ اپی بیٹی کے ساتھ ایم آر آئی کی رپورٹ لے کر آگئی تھیں۔ ایم آر آئی ایک ایسا ٹیسٹ ہے جس میں جسم کے اندر ہر عضو کو الگ الگ تہوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے سے کینسر اوراس کے پھیلاؤ کو دریافت کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا ہے۔ ماں اور بیٹی دونوں کے چہرے پر پریشانی صاف پڑھی جا سکتی تھی۔
میں نے ایم آر آئی کی رپورٹ غور سے پڑھی، مرض دونوں انڈہ دانیوں سے نکل کر پیٹ کے اندر چربی کی ایک تہہ ہوتی ہے جسے اومنٹم کہتے ہیں، تک پھیل گیا تھا۔ میں نے جب ان کا معائنہ کیا تھا تو پیٹ، گردن، پیٹھ اور ٹانگوں کے اوپر کسی بھی قسم کے نشان نہیں ملے تھے کہ جس سے پتہ چلتا کہ مرض دُور تک پھیلا ہُوا ہے۔
کس قسم کا کینسر ہے یہ ڈاکٹر صاحب۔ ان کی بیٹی نے سوال کیا تھا۔ مہ جبیں ان کی بڑی بیٹی تھی۔ ان ہی کی طرح طویل قامت، دُبلی پتلی اور خوبصورت۔ ماں بھی اپنی جوانی میں اسی کی طرح سے جاذب نظر رہی ہوں گی۔ مہ جبیں نے کراچی یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا تھا اور اب عبداﷲ کالج میں لیکچرر تھی اور اردو پڑھارہی تھی۔ مجھے تو بائیس تئیس سال کی لگی تھی مگر بعد میں پتہ چلا کہ اس کی عمر ستائیس سال تھی۔ چھ بھائی بہنوں میں وہ سب سے بڑی تھی۔
ایسے مریضوں سے بات کرنے سے تھکن ہوجاتی ہے۔ ایک عجیب قسم کا جذباتی تلاطم سا ہوتا ہے جسم و جان میں۔ دل اور دماغ دونوں سخت کشمکش کا شکار ہوجاتے ہیں۔ میں نے اپنے آپ کو مزید گفتگو کے لیے تیار کیا تھا۔
بات یہ ہے کہ آپ کے دونوں انڈہ دانی میں کینسر ہے۔ عام طور پر کینسر ایک انڈہ دانی میں ہوتا ہے پھر پھیل کر دوسرے انڈہ دانی تک پہنچ جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ پیٹ میں جگر میں جسم کے دوسرے حصوں اور ہڈیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ کی صورت حال میں خرابی یہ ہے کہ کینسر کے خلیے دونوں بچہ دانی اورپیٹ کے اندر کی ایک جھلی میں پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ کینسر ابھی تک جگر اور ہڈیوں تک نہیں پہنچا ہے۔ اگر جگر اور ہڈیوں تک پہنچ جاتا تو معاملہ کافی خراب ہو سکتا تھا۔ لیکن ایک بات یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کینسر تو پھر کینسر ہی ہوتا ہے۔ خاص طور پر عورتوں کا یہ کیسنر بڑا خراب ہوتا ہے فی الحال ان کے بارے میں کچھ بتانا مشکل ہے۔ یہ کہہ کر میں خاموش ہوگیا تھا۔
مہ جبیں کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں سے آنسو چھلکنے کو بے قرار تھے، وہ بڑی مشکل اور بہادری سے اپنے آنسوؤں کو پینے کی کوشش کررہی تھی۔ اس نے اپنے دوپٹے سے آنسوؤں کو پونچھا تھا اس کی ماں نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑلیا تھا۔
اب کیا کرنا ہو گا ڈاکٹر صاحب۔ انہوں نے آہستہ سے پوچھا تھا۔ کیا میں بچ جاؤں گی۔
دیکھیں موت کا تو کوئی بھروسہ نہیں۔ چھتیں گرجاتی ہیں، سڑک پر حادثہ ہوجاتا ہے اور کراچی میں تو سڑک پر چلتے ہوئے کہیں سے نامعلوم گولی آتی ہے اورموت کا نشانہ بنا دیتی ہے۔ لہٰذا یہ تو سمجھنا چاہیے کہ موت کبھی بھی کہیں بھی آسکتی ہے۔ جہاں تک اس کینسر کا تعلق ہے اس سے موت واقع ہوسکتی ہے مگر ساری صورت حال کا اندازہ کرنے کے لیے مجھے انکولوجسٹ سے بات کرنی ہوگی۔ کراچی میں کرن ہسپتال میں اچھے انکولوجسٹ ہیں جو کینسر کا علاج دواؤں سے کرتے ہیں۔ آج ہی شام کو میں انہیں یہ رپورٹ دکھاؤں گا اور کل اگر آپ لوگ صبح صبح آ جائیں تو آئندہ کے لیے فیصلہ بھی کرلیں گے اورآپ کو بتا بھی دوں گا کہ مرض کتنا شدید ہے اور اس کا علاج کس طرح سے ہوگا۔ ان دونوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ معاملہ گھمبیر ہے۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


