اختر عثمان کی طویل نظم ”تراش“
دیگر زبانوں میں طویل نظم کی ایک الگ اور طویل تاریخ ہے، اردو جن علاقوں میں لکھی پڑھی جاتی ہے وہاں کی مقامی زبانوں کی نسبت اردو کی طویل نظموں کی تاریخ ماضی قریب سے شروع ہوتی ہے اور طویل نظم کہنے والے کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس میں دیگر اصناف کا غلبہ بہت ہے جو سہل پسندی اور فوری ردِ عمل پیدا کرنے میں نظم کی نسبت زیادہ زود اثر ہیں۔ نظم وقت بھی زیادہ مانگتی ہے اور اور فوری ردِ عمل پیدا کرنے میں بھی ناکام ہے، کیوں کہ یہ زیادہ سنجیدگی اور غورو فکر کا تقاضا کرتی ہے۔ طویل نظم کہنے والے شعرا بھی توصیف و تحسین سے ماورا ہو کر اس پتھر کو سینے سے لگاتے ہیں۔
طویل نظم کا نام آتے ہی ذہن میں ن م راشد کی ”حسن کوزہ“، ساحر کی ”پرچھائیاں“، مجید امجد کی ”نہ کوئی سلطنت غم ہے نہ اقلیم طرب ہے“، ڈاکٹر وزیر آغا کی طویل نظمیں، شہزاد نیر کی نظمیں، آفتاب اقبال شمیم کی نظم اور علی محمد کی فرشی ”علینہ“ اور اختر حسین جعفری کی نظم ”آئنہ خانہ“ خاص طور پر فورا ذہن میں جگمگانے لگتی ہیں۔
ڈاکٹر وزیر آغا کی نظمیں خاص طور پر طویل ہونے کے ساتھ مکمل مربوط بھی ہیں، جن میں موزوں ترین الفاظ اور کفایت شعاری سے برتے گئے ہیں۔ شہزاد نیر کی ”خاک“ میں بھی یہی صورت احوال ہے۔ اختر حسین جعفری کے یہاں لفظی شکوہ اور نادر تراکیب بے نظم کو چار چاند لگا دیے ہیں؛ ان کی تراکیب کہیں کہیں تشبیہ اور کہیں استعارہ بن جاتی ہیں۔ مختصر یہ کہ ان شعرا کے ساتھ ساتھ ایک اور توانا آواز اختر عثمان بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی نظموں کا ایک مجموعہ پہلے بھی آ چکا ہے لیکن اب ان کی ایک طویل نظم ”تراش“ کے نام سے شایع ہوئی ہے۔ اڑتیس صٖفحات پر مشتمل اس کتاب میں دیباچہ مشہور ترقی پسند ادیب جناب یوسف حسن (مرحوم کا ہے۔ اس دیباچے میں انھوں نے نظم کو ترقی پسند تنقیدی پہلووں سے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ اختر عثمان غزل اور نظم میں اہم شاعر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
جدید نظم کا اہم ترین اختصاص اس کی کہانی ہوتا ہے، جس نظم میں یہ پہلو نہیں ناقدین کو اسے جدید کہنے میں تامل ہے۔ اختر عثمان کی طویل نظم ’’تراش‘‘ مختلف بحور میں کہے گئے چھوٹے بڑے کینٹوز پر مشتمل ہے۔ طویل نظم کہنے کا یہ انداز نیا نہیں ہے، اس سے پہلے جعفر طاہر طویل نظم ”ہفت کشور“ کے نام سے بہت کام یاب تجربہ کر چکے ہیں۔
”تراش“ کے اولین کینٹو کی ابتدا میں اختر عثمان کا یہ اعلان (سنجوگتا کے لیے) قاری کو ذہنی طور اساطیری فضا کے لیے تیار کر دیتا ہے۔ اگر چہ لفظ ’’سنجوگتا‘‘ شاعر کا وہ تعلق جو ماضی حال اور مستقبل سے ہے، ظاہر کرتا ہے۔ نظم جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے قاری خود کو تاریخ کی راہ داریوں میں گھومتا محسوس کرتا ہے اور جورو جبر، ظلم، نا انصافی، تاریکی کے ساتھ کہیں کہیں ضعیف روشنی ا ور خیر کے پہلووں کا بھی نظارہ کرتا ہے۔ میں اگر اسے پردہ سیمیں پر رات اور دن، نیکی اور بدی، روشنی اور اندھیرا، خیر اور شر، رحمان اور شیطان اور جور و جبر اور عادل قوتوں کے درمیان جاری ازلی و ابدی تصادم کی تاریخ کہوں تو بے جا نہیں؛ جس میں کوئی فاتح نہیں لیکن قاری آخر میں ایک امید یابی کی خوشی سے سرشار ضرور ہوتا
ہے۔
اس نظام کا ایک کمال، کیفیت کے اتار چڑھاو کے مطابق مختلف بحور کا استعمال ہے؛ جیسے موسیقی کی ایک خوبی ہے کہ اس میں اگر ردھم انسانی نبض کی رفتار سے کم ہو تو ایک شدید اداسی، یاس اور دُکھ کی کفیت، اگر اس کی رفتار انسانی نبض کی رفتار زیادہ ہو تو خون میں جوش پیدا کرتی ہے؛ اگر اس کی رفتار انسانی نبض کے برابر تو ایک خوش گوار کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اختر عثمان نے یہاں بھی یہی کمال کر دیا ہے؛ کہیں ایسی بحور جن کا ردھم ریل کی رفتار سے مشابہ ہے، جو لہو میں جوش پیدا کرتا ہے اور کہیں انسانی نبض کی رفتار کے برابر ہے اور کہیں بہت سست ہے؛ جس سے نظم کے اندر سے ایک خاک ستری اداسی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کمال کم شعرا کو حاصل ہے۔ میر انیس اور دبیر بہت اعلی شاعر تھے؛ انھیں شاید، تحت اللفظ قرات کی وجہ سے، ایسی بحور استعمال کرنا پڑیں، جن کا کوئی خاص اختصاص نہیں تھا؛ ان میں وقفے اور لفظوں پر دباو سے ایسی کیفیات پیدا کرنا پڑیں۔ اختر عثمان لیکن بحور کے ان اسراروں سے بخوبی واقف ہیں؛ اسی لیے انھوں نے اوقاف کے بجائے، مختلف بحور جو آہنگ کے حوالے سے سست، تیز اور متوازن رفتار کی حامل ہیں، برتا ہے۔


