ابوعلیحہ! ویلکم بیک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں آزادی اظہار کے امکانات محدود تر ہورہے ہیں۔ ابھی دو دن ہوئے ایک شخص کی تصویر دیکھی تو دِل دہل گیا۔ یہ علی سجاد شاہ تھے جنہیں فیس بک اور ٹویٹر پر ان کے مداح ”ابو علیحہ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ ابو علیحہ فیس بک پر اپنے برجستہ اور کٹیلے تبصروں کے تعلق سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت اور پاکستانی ڈیپ اسٹیٹ خاص طور پر خفیہ ایجنسیوں پر کھلی تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس تنقید میں شدت اس وقت آئی جب مائنس الطاف اور ایم کیو ایم کی تقسیم کا فارمولا لانچ کیا گیا۔

علی سجاد شاہ نے گزشتہ برس ”عارفہ‘‘ کے نام سے ایک فلم بنانے کا اعلان کیا تھا بلکہ اس کا ٹریلر بھی اپنے فیس بک پیج پر جاری کیا تھا۔ کبھی کبھار ان کی تحریروں سے پتا چلتا تھا کہ وہ پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں۔ ایک آدھ بار انہوں نے اپنی والدہ کی بیماری اور بعد ازاں وفات کے بارے میں بھی لکھا تھا۔ یہ تھیں کل معلومات جو ہمیں اُن کے بارے میں پتا چل سکیں۔

علی سجاد شاہ گزشہ برس اکتوبر کے آخر میں غائب ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ان کا کافی متحرک رہنے والا فیس بک پیج ویران ہو گیا تھا۔ شروع میں لوگوں نے ان کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھا لیکن کسی کے پاس مناسب جواب نہ تھا۔ کسی نے کہا کہ ایجنسیوں نے اٹھایا ہے تو ان کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے۔ پھر سوشل میڈیا کے ایک معروف بلاگر نے کہا کہ وہ لوگوں سے فلم کے نام پر پیسے اینٹھ کر بھاگ گئے ہیں۔ کنفیوژن پیدا ہوئی جس کے بعد ان کی یازیابی کے لیے سوشل میڈیا پر مؤثر کیمپین نہ چل سکی۔

اس سے کچھ عرصہ پہلے جنوری 2017ء میں چند بلاگرز سلمان حیدر، وقاص گورایا، عاصم سعید اور رضا نصیر بھی جبری گمشدہ کیے گئے تھے۔ ان کے لئے سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی نے بھرپور کیمپین چلائی، غیر ملکی اخبارات اور نیوز پورٹلز نے خبریں بھی شائع کیں۔ مسلسل مہم کے نتیجے میں بالآخر وہ بازیاب ہو گئے۔ علی سجاد شاہ کے لیے زور دار کیمپین نہ چلنے کی کچھ وجوہات ہیں۔

علی سجاد شاہ (ابو علیحہ) نے فیس بک پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کی تھی، ان کے اصلی نام کے بارے میں بھی کم لوگ جانتے تھے (میں نے بھی ابھی ان کے پاسپورٹ اور ائیر ٹکٹ پر نام دیکھا تو یقین ہوا کہ یہی ان کا نام ہے)۔ انہوں نے فیس بک پیج پر اپنی ذاتی تصاویر بہت کم شیئر کی تھیں، ان کے خاندان اور کام کے بارے میں بھی کم لوگ جانتے تھے۔ انہوں نے کہیں یہ لکھا تھا کہ وہ صحافی ہیں لیکن میں نے صحافتی کمیونٹی میں ان کانام نہیں سنا۔ ممکن ہے اس کی وجہ ان کا کیمونٹی کے لوگوں سے محدود میل جول ہو۔ فیس بک پر بھی جن لوگوں نے ان سے بات چیت کی، وہ ان کے بارے میں پوری طرح آگاہ نہیں تھے۔

سوشل میڈیا پر اس پراسرار قسم کی شناخت کے ساتھ وہ کافی جارحانہ خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ ان کے خیالات کا مرکزی موضوع خفیہ ایجنسیوں کی سیاسی عمل میں بلاجواز اور حد سے بڑی ہوئی مداخلت تھی۔ یہ تنقید کوئی بری بات نہیں۔ پاکستان کا آئین اور پاک فوج کا حلف بھی یہی کہتا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ روایتی مین اسٹریم میڈیا تقریباً سرنڈر کر چکا ہے البتہ سوشل میڈیا پر اب بھی بہت سے لوگ موجود ہیں، جو اپنے خیالات کا کافی کھلا اظہار کر رہے ہیں۔

پچھلے ماہ جون 2018 کے دوسرے ہفتے میں سوشل ایکٹوسٹ گُل بخاری کو ایک چینل کے پروگرام میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے راستے سے اغواء کیا گیا تو سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور پھر پاکستان سمیت پوری دنیا میں موجود ان کے ہمدردوں نے غائب کرنے والوں کی مذمت پر مبنی کیمپین شروع کر دی اور بالآخر وہ رات گئے بازیاب ہو گئیں۔

اسی طرح انسانی حقوق کے ایک کارکن رضا خان کو پچھلے برس 2 دسمبر 2017ء کو لاہور سے غائب کیا گیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے اس پورے عرصے میں رضا کی بازیابی کے لیے بھرپور کیمپین جاری رکھی، عدالت سے بھی رجوع کیا۔ سوشل میڈیا پر ”فائنڈ رضا‘‘۔ کے عنوان سے برابر مہم چلتی رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ابھی چند دن قبل جولائی 2018ء کے دوسرے ہفتے میں رضا کی گھر واپسی کی خبر آ گئی۔

ایک دوست سے فون پر بات ہوئی۔ پنجاب یونیورسٹی کیمپس میں ہم اکثر جب کھانے پر اکٹھے ہوتے تو سوشل میڈیا کی سرگرمیوں پربھی بات کرتے رہتے تھے۔ وہ کبھی کبھار” ابوعلیحہ‘‘ سے ہونے والی اپنی گفتگو کے حوالے بھی دیا کرتا تھا۔ میں نے اس دوست کو یہ سمجھ کر فون کیا کہ شاید اسے ابوعلیحہ کی گمشدگی سے متعلق تفاصیل کا علم ہو۔ یہ دوست اب پولیس آفیسر بن چکا ہے۔ اس کا اندازہ بھی یہی تھا کہ ابوعلیحہ کو ”بڑے بھائیوں‘‘ نے اٹھایا تھا اور سبب اُن کی جانب سے جارحانہ خیالات کا اظہار تھا۔ میں نے پوچھا کہ ابو علیحہ کے لیے اس کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر کیمپین کیوں نہیں چلائی تو اس نے درد بھرے لہجے میں کہا :”آدمی کو زمین کے اوپر رہنا چاہیے‘‘۔ یہ بلیغ جملہ ہے۔

ہمارے ہاں ہر شخص کو رائے کے آزادانہ اظہار کی ضمانت آئین پاکستان دیتا ہے۔ گو کہ کچھ طاقتور لوگ اس ضمانت کو تسلیم نہیں کرتے۔ آئین کی تشریح وہ اپنے پیمانوں سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں معمول سے ”مختلف‘‘ آوازوں کی بندش کا عمل وقفو ں وقفوں سے جاری رہتا ہے۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کافی حد تک سدھایا جا چکا ہے، اس کی اپنی مجبوریاں ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر اب بھی کہیں کہیں ”سوال‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ خوف البتہ قائم ہے، لوگ پوسٹ یا ویڈیو لائک اور شیئر کرنے کے معاملے میں محتاط ہو گئے ہیں۔ آپ اگر سوشل میڈیا پر مقبول ہیں اور مداحوں (فالورز) کی مناسب تعداد رکھتے ہیں تو یہ تجربہ آسانی سے کر سکتے ہیں۔ آپ ذرا ”مختلف‘‘ ویڈیو یا پوسٹ لگائیے اور پھر اس پر آنے والے ردعمل کا دیگر عمومی مواد سے تقابل کر لیجیے۔ خوف کی جانچ کا یہ بہتر پیمانہ ہے۔ میں کئی بار یہ تجربہ کر چکا ہوں۔

سماج میں گروہ بندی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے مشترکہ مفاد کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یونین اور تنظیم کا یہی مقصد ہے۔ اگر گروہ کے کسی رکن کو نقصان پہنچے تو باقی لوگ اس نقصان کے ازالے کے لیے متحرک ہو جاتے ہیں۔ ”آدمی کو زمین کے اوپر رہنا چاہیے‘‘ کا مطلب یہی ہے کہ خود کو بلاوجہ پراسرار کردار بنا کر سوشل میڈیا پر پیش نہ کریں۔ اپنی اصل شناخت اور تصویر کے ساتھ یہاں موجود رہیے۔ یہ نکتہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے، جو ہجوم سے مختلف خیالات رکھتے ہیں اور طاقت کے استحصالی مراکز پر سوال اٹھاتے ہیں۔

اپنے دوستوں اور کمیونٹی کو اپنے بارے میں درست معلومات دیں اور سب کے ساتھ ممکن نہ ہو تو کچھ سرگرم اور باعتماد دوستوں کو اپنی سرگرمیوں اور کسی بھی غیر معمولی صورت حال سے باخبر رکھیے۔ اگر بدقسمتی سے کبھی آپ کا نام اس فہرست میں آ گیا جن کی طاقتور لوگوں کو ”اصلاح‘‘ مقصود ہوتی ہے، توکم ازکم آپ کے جاننے والے آوازتو بلند کر سکیں گے۔ آپ ڈسکس ہوں گے۔ دباؤ ایسے ہی بنتا ہے اور اس وقت آپ تنہا نہیں ہوتے۔ جہاں تک تعلق ذمہ دارانہ اظہار کی شرط کا ہے، وہ بدیہی ہے لیکن ”ذمہ دارانہ‘‘ کی تعریف کون کرے گا؟ سو اس پر کیا بات کی جائے۔

علی سجاد شاہ (ابوعلیحہ) کی تازہ تصویر دُکھی کر دینے والی ہے اور اس کے ساتھ جو جملے انہوں نے لکھے، گہرا درد ان میں عیاں ہے۔ میں نے کچھ عرصہ قبل جب محسوس کیا کہ ابوعلیحہ فیس بک سے غائب ہیں تو کراچی کے صحافی فیض اللہ خان سے رابطہ کر کے پوچھا، فیض اللہ نے لاعلمی کا اظہار کیا اور بتا یا کہ ہم جو جانتے ہیں وہ افواہیں ہی ہیں، درست اطلاع کسی کے پاس نہیں۔ ہم دونوں نے آزردگی کا اظہار کیا اور یہ مکالمہ ختم ہو گیا۔ علی سجاد شاہ اب واپس پہنچ چکے ہیں۔ ان کے ساتھ کیا بیتی وہ خود کسی دن لکھ ڈالیں گے۔ فی الوقت ہم ان کی صحت اور سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں