نئی تنقید اور ابہام کی سات قسمیں

آئی۔ اے رچرڈز، ایف آر لیوس اور ولیم ایمپسن جیسے ماہرینِ ادبیات نے نئی تنقید کے دبستان کی فکری بنیادیں استوار کیں۔ ان نئے ناقدین نے ادب کے مطالعہ کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی پوری توجہ متن کی Close reading پر مرکوز تھی۔ یعنی اس کی توجہ کا مرکز، متن کی زبان، بحر، منظر کشی، تشبیہ و استعارہ اور کئی قسم کی صنعتوں اور تجانیس جیسے متنی پہلو تھے۔ اس میں تاریخ، مصنف کی سوانح حیات جیسے

Read more

تاریخ نویسی، متن، عسکری ادارے اور مصنف

تاریخ نویسی خط مستقیم نہیں ہے۔ اگر چہ کسی بھی شے کی تاریخ ابتدا سے حال تک ایک سیدھی لکیر نظر آتی ہے۔ شہروں، صوبوں، ملکوں، بر اعظموں، علوم، مذاہب، سیاست، رہنماؤں، معاشروں، تہذیبوں، ثقافتوں زبانوں، ادبیات، ممالک، اداروں اور حکومتوں کی تاریخ کھنگالیں اور اسے دوبارہ لکھیں تو واضح ہو گا کہ تاریخ کئی موڑ مڑ چکی ہے۔ انسانی خطوں میں قحط کی تاریخ کا جائزہ لیں تو بنگال اور افریقہ کے قحط کی وجوہ، اسباب اور اثرات یک

Read more

اختر عثمان کی طویل نظم ”تراش“

دیگر زبانوں میں طویل نظم کی ایک الگ اور طویل تاریخ ہے، اردو جن علاقوں میں لکھی پڑھی جاتی ہے وہاں کی مقامی زبانوں کی نسبت اردو کی طویل نظموں کی تاریخ ماضی قریب سے شروع ہوتی ہے اور طویل نظم کہنے والے کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس میں دیگر اصناف کا غلبہ بہت ہے جو سہل پسندی اور فوری ردِ عمل پیدا کرنے میں نظم کی نسبت زیادہ

Read more

راجا سعید کی غزل: قرات کا نیا انداز

غزل کی تنقید ہمارے یہاں دو طرح سے رائج رہی ہے۔ ایک تو یہ کہ چند بیانات قائم کر کے ان کے مطابق اشعار کی مثالیں درج کر لیں اور ایک اچھا خاصا مضمون تیار ہو گیا۔ دوسری صورت روایتی تنقید کی ہے جس میں لفظ کی صورت، تذکیر و تانیث، فصیح، غیر فصیح اور زبان کے درست استعمال تک محدود رہتی ہے۔ شاید مجلسی تنقید میں بھی یہی ترکیبیں لڑائی جاتی ہیں۔ جب ایک شعر بے عیب ہو، وہاں

Read more