ایک زرداری سب پہ بھاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرض کیا کہ کھیل اب بھی زرداری صاحب کے ہاتھ میں ہے تو احباب نے بندوں کی گنتی شروع کر دی۔ مسئلہ حکومت بنانے کا نہیں ہے بلکہ حکومت چلانے کا ہے۔ بظاہر پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ عمران خان سادہ اکثریت حاصل کر لیں گے مگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی تو سادہ اکثریت حاصل کرنا بہت مشکل ہے اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو حکومت چلانا اس اکثریت کے ساتھ شاید ممکن نہ ہو۔

عمران خان سادہ اکثریت حاصل کرنے میں بھی اس وقت کئی مشکلات کا شکار ہیں۔ مخصوص نشستوں کی تعداد کو فی الحال نظر انداز کر دیتے ہیں اور 272 کے ایوان میں درکار 137 نشستوں پر غور کر لیجیے۔ ان کے پاس قومی اسمبلی کی 116 نشستیں ہیں جن میں سے 6 چھوڑنی پڑیں گی جبکہ 8 آزاد امیدواروں کو جہانگیر ترین ہانک لائے ہیں اور کل تعداد اب تک 118 بنتی ہے۔ اس میں بلوچستان عوامی پارٹی کی 4، پاکستان مسلم لیگ ق کی 4، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی 2، عوامی مسلم لیگ کی 1 اور جمہوری وطن پارٹی کی 1 نشست بھی ملا لیں تو یہ تعداد 130 بنتی ہے۔ فرض کر لیتے ہیں کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بھی اپنی تین نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف سے مل جائے تو تعداد 133ہو جائے گی۔ اب باقی پانچ آزاد امیدوار رہ گئے جن کی قیمت اب سٹاک مارکیٹ میں کروڑوں سے تجاوز کر چکی ہے۔ مان لیجیے کہ جہانگیر ترین ان پانچ ارکان کو بھی گھیر کر لاتے ہیں تو یہ تعداد 138 ہو جائے گی جو کہ حکومت سازی کے لئے درکار تعداد سے صرف ایک نشست زیادہ ہے۔

کار جہاں مگر بہت دراز ہے۔ پہلی مشکل یہ ہے کہ پرویز خٹک نے قریبا 37 ایم پی اے گھیر لئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مجھے ہر صورت وزارت اعلی دی جائے کیونکہ میری کارکردگی کی وجہ سے پی ٹی آئی نہ صرف کے پی میں دوگنی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے بلکہ پورے پاکستان میں ووٹ ملنے کی وجہ بھی میری کارکردگی ہے، بصورت دیگر میں سیاست ہی چھوڑ دوں گا۔ ادھر صورت حال یہ ہے کہ عمران خان یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ تمہاری کارکردگی کی وجہ نہیں تھی بلکہ وجوہات کچھ اور تھیں۔ ظاہر ہے وہ وجوہات بیان نہیں کی جا سکتیں مگر خان صاحب پرویز خٹک کے حق میں نہیں ہیں اور پارٹی کی کچھ اہم ارکان بھی ان کے حق نہیں ہیں۔

دوسری مشکل یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں صرف چار سیٹوں کے عوض پرویز الہی پنجاب میں وزارت اعلی کے خواہش مند ہیں جس کے لئے پی ٹی آئی راضی نہیں مگر ان کے بغیر حکومت سازی کے لئے تعداد پوری بھی نہیں ہوتی۔

تیسری مشکل یہ ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی قومی اسمبلی میں چار نشستوں پر ساتھ دینے کے لئے تیار ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ اس کے بدلے بلوچستان اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چار ووٹ ہمیں درکار ہیں مگر ان کو کابینہ میں ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے مرکز میں بھی کسی وزارت کی شرط رکھ دی ہو۔ دوسری طرف بلوچستان نیشنل پارٹی اگر اپنے تین ووٹ مرکز میں تحریک انصاف کو دیتی ہے تو وہ لازمی طور پر بلوچستان کی کابینہ میں بڑا حصہ مانگیں گے جس کے لئے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر بلوچستان عوامی پارٹی کو راضی کرنا پڑے گا۔

چار چار اور دو دو نشستوں کی محتاج حکومت پہلے تو ابتداء میں ہی اتنی مشکلوں کا شکار ہے اور اگر بن گئی تو یہ مشکلات مزید بڑھیں گی کیونکہ اکثریت بہرحال ایک یا دو نشستوں کی ہو گی جو کسی بھی وقت دھڑام سے گر سکتی۔ ان مشکلوں سے نکلنے کے لئے ایک راستہ تو یہ ہے کہ ان تمام مشکلات کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم پاکستان کو ساتھ ملایا جائے جن کے پاس 6 نشستیں ہیں۔ جہانگیر ترین صاحب اس مشن پر بھی نکل چکے ہیں۔ گو اس صورت میں حکومت کو قدرے اکثریت حاصل ہو گی مگر ایم کیو ایم کے اپنے مطالبات بہت زیادہ ہو ں گے اور ان کو سندھ میں حکومت سے محروم ہونا پڑے گا۔ اس پورے منظر نامے میں ق لیگ کو ساتھ ملانے، آزاد امیدوار خریدنے اور ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے پر عمران خان کو شدید تنقید اور ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا کیونکہ وہ گزشتہ دس سالوں سے ان پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں اور درجنوں انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ وہ لوٹوں کی خریداری اور چوروں کے ساتھ حکومت کبھی نہیں بنائیں گے۔

جبکہ ان کے پاس دوسری آپشن یہ ہے کہ اپنے موجودہ 118 نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی سے اتحاد کر لیں جن کے پاس 43 نشستیں ہیں۔ ان مشکلات اور ان حالات کا ادراک اب عمران خان کو تو ہو چکا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ق لیگ اور ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے پر بھی تنقید کا نشانہ بننا پڑے گا اور پیپلز پارٹی کو ساتھ ملانے پر بھی تنقید کا نشانہ بننا پڑے گا۔

مگر یہ ادراک صرف عمران خان کو نہیں ہے بلکہ آصف زرداری صاحب کو بھی ہے۔ زرداری صاحب کے کچھ نمائندوں نے خان صاحب تک یہ افواہ بھی پہنچا دی ہے کہ زرداری صاحب ضرورت پڑنے پر ایم کیوم کو سندھ میں بڑا حصہ دے کر ان کو مرکز میں عمران خان سے دور رکھ سکتے ہیں۔ اس لئے اس کھیل میں اب بھی سب سے بھاری پلڑا زرداری صاحب کا ہے اور وہ دونوں طرح سے ون ون کی پوزیشن میں ہیں۔ عمران خان ان کے بغیر حکومت بنا لیں تب بھی زرداری صاحب کے لئے جہانگیر ترین کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ان کی حکومت گرانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ عمران خان ان سے مدد مانگ لیں تب بھی زرداری صاحب یہ حکومت سازی اپنی شرائط پر کریں گے۔

کل ملا کر کہانی یوں ہے کہ جلسوں، ٹی وی ٹاک شوز میں لوگوں کو چور، لٹیرا کہنا، سیاسی جماعتوں کی کردار کشی کرنا اور بات ہے اور اقتدار جب دو بالشت کے فاصلے پر ہو تو آئیڈیل ازم کی بتی گل ہو جاتی ہے اور بیچارے کارکن یہاں وہاں سے وضاحتوں اور عذر خواہیوں کے دفتر سمیٹ لاتے ہیں۔ وضاحتوں اور عذر خواہیوں کی تیاری ضرور کیجیے مگر فی الحال تو صورتحال یہ ہے کہ ایک زرداری سب پہ بھاری ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 179 posts and counting.See all posts by zafarullah