ریکارڈ نہ ہونے کہ وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اپنا دفاع نہیں کر سکتا؛ جسٹس شوکت عزیز صدیقی
سپریم جوڈیشل کونسل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف کر پشن کے الزمات پر مبنی شکایت کی سماعت کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین جسٹس میا ں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تین دنوں کے اندر اندر ریفرنس کو نمٹا دیں گے، انہوں نے کونسل کی کارروائی میں متعدد بار مدا خلت کر نے پر جسٹس شو کت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان کو ہدایت کی کہ اپنے موکل سے کہیں کہ وہ عدالت سے براہ راست بات کرنے کی بجائے آپ کے ذریعے بات کر یں،شکایت پر مزید کارروائی آج ہوگی ،اورمسول علیہ ،جسٹس شو کت عزیز صدیقی کے وکیل گواہوں پر جر ح کر یں گے،چیف جسٹس وچیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعیدکھو سہ ،جسٹس گلزار احمد ،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد نور مسکان زئی اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی محمد شیخ پر مشتمل پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے پیر کے روز شکایت کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ آج جوڈیشل کونسل میں کیا کارروائی ہونی ہے،
کیا شواہد ریکارڈ ہونے ہیں ؟ جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ آج جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں شواہد ریکارڈ ہونے ہیں، انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز کی طرف سے دو درخواستیں دائر کی گئی ہیں ان کو سن لیا جائے ، عدالت کے استفسار پرانہوں نے بتایا کہ ایک درخواست میں الزامات سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، درخواست میں اعلی عدلیہ کے ججوں کے گھروں پر اٹھنے والے اخراجات کا گزشتہ 7 سال کا ریکارڈ مانگا ہے، جو ججز سرکاری گھر کے ساتھ رہائشی الائونس لے رہے ہیں وہ ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے،
انہوں نے کہا کہ ججوں کے سرکاری گھروں کی تزئین و آرائش کے اخراجات کا ریکارڈ مانگا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو طول نہیں دینا چاہتے، جو الزامات ہیں ان کی روشنی میں جواب دیں، یہ ریکارڈ منگوانے کا کوئی مقصد نہیں ہے، کسی مخصوص جج کا بھی درخواست میں ذکر نہیں ہے، کسی جج کا ذکر ہوتا تو ریکارڈ منگوالیتے،جس پر فا ضل وکیل نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر سرکاری گھر کی لاکھوں روپے تزئین و آرائش کرانے کا الزام ہے، دوسرے ججز کے سرکاری گھروں پر اٹھنے والے اخراجات کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری کرتی ہے، انکوائری کا دائرہ اختیار اتنا وسیع نہیں ہوتا ہے،سرکاری گھر کے تزئین و آرائش کے اخراجات کی حد کو کونسل طے کرے گی، ٹرائل شروع ہو چکا ہے شواہد کی روشنی میں فیصلہ کریں گے ،فا ضل وکیل نے کہا کہ ہماری دوسری درخواست ریفرنس کے شکایت کنندگان سے متعلق ہے، شکایت کنندگان کے خلاف فوجداری اور عدالتی مقدمات کا ریکارڈ منگوایا جائے، دیکھا جائے کہ جب یہ گھر شوکت عزیز صدیقی کو الاٹ ہوا اس وقت اس کی کیا حالت تھی، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ پہلے شواہد ریکارڈ کر لیتے ہیں ،
اسی دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے روسٹرم پر کھڑے اپنے وکیل حامد خان کے کان میں بات کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان اپنے موکل سے کہیں کہ اس طرح بات نہ کریں،جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ریکارڈ نہ ہونے کہ وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اپنا دفاع نہیں کر سکتا ہوں، کم سے کم یہ تاثر ملنا چاہیے کہ میرے ساتھ برابری کا سلوک ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کب اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں ،ہم نے کون سا غلط اختیارات کا استعمال کیا ہے ،ہم کسی کو اٹھا کر باہر نہیں پھینکنا چاہتے، جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے کارروائی کیسے چلانی ہے، آپ کی مرضی سے کارروائی نہیں چلنی ہے، چیف جسٹس نے حامد خان سے کہا کہ اپنے موکل سے کہیں کہ وہ کونسل سے براہ راست بات کرنے کی بجائے آپ کے ذریعے بات کریں ،جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوبارہ بولنا شروع کیاچیف جسٹس نے حامد خان سے کہا کہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کارروائی میں اپنے موکل کو بولنے نہیں دیں گے، چیف جسٹس نے شوکت صدیقی سے کہا کہ جو بات کہنی ہے اپنے وکیل کے ذریعے کریں،
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنس میں براہ راست الزامات معزز جج پر لگائے گئے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے مانگے گئے ریکارڈ کا ریفرنس سے کوئی تعلق نہیں ہے،حامد خان نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر اپنے سرکاری گھر کی تزئین و آرائش کے لئے فنڈز کے ناجائز استعمال کا الزامات بے بنیاد ہے ، سرکاری گھر کی تزئین و آرائش کرنا جرم نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر الزامات کے حوالے سے شواہد نہیں پیش کئے گئے تو کونسل شکایت پرکارروائی ختم کر دے گی ،بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ریکارڈ فراہمی کیلئے دا ئر کی گئی درخواستیں مسترد کر دیں اور گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے کئی محترم ججز بری ہوئے ہیں، ہم کسی کے لیے متعصب نہیں ہیں، آگے جا کر اللہ کو بھی جواب دینا ہے، آگے جا کر ایسے منہ کالا نہیں کرنا ہے ،انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ شواہد کی ریکارڈنگ کا عمل شروع کریں،جس پر حامد خان نے کہا کہ مجھے گواہوں پر جرح کی تیاری کے لئے کچھ مہلت دی جائے ،اور کارروائی کل تک ملتوی کی جائے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم گواہ کا بیان ریکارڈ کر لیتے ہیں، جرح آج نہیں کرتے، ہم تو چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے خلاف کوئی کیس نہیں بنتا توسے الزامات سے بری کردیا جائے ، حامد خان نے کہا کہ ایک تاثر ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو جلدی ہے،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ہم جلدی نہیں کر رہے بلکہ ہم پر الزام ہے کہ ہم شکایات سننے میں نرم رویہ اختیار کر تے ہیں ،ہم نے اس شکایت کونمٹانے کے لیے تین دن رکھے ہیں ،تین دن میں اس شکایت کو نمٹا دیں گے ،یہ سلسلہ دو سال سے چل رہا ہے ،اب وقت آگیا ہے کہ با قی بھی جو دو تین ریفرنسز زیر التواء ہیں ان کو نمٹا دیا جائے ،میں اپنا بو جھ چھو ڑ کر نہیں جانا چا ہتا ،ہم انصاف کر یں گے اگر منصف کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو اس سے بڑا نقصان نہیں ہو سکتا ہے ،اگر جسٹس شو کت عزیز صدیقی کے خلاف الزام میں کوئی صداقت نہ ہوئی تو وہ یہا ں سے کلین چٹ لے کر جائیں گے ،
ہم نے انصاف کر نا ہے اور آگے جا کر جواب دینا ہے ، جسٹس صدیقی نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے کہا کہ میرا فیصلہ جلد ی میں نہیں ہونا چاہئے بلکہ میرے ساتھ انصاف ہونا چاہئے ،چیف جسٹس نے ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کیا اور حامد خان سے کہا کہ اپنے موکل سے کہیں کہ کونسل کا احترام کریں لیکن اس کے باوجود جسٹس شوکت صدیقی کونسل کی کارروائی کے دوران بار بار کھڑے ہوتے رہے،اٹارنی جنرل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف گواہ علی انور گوپانگ کو کونسل کے سامنے پیش کیا اور فاضل کونسل نے گواہ علی انور گوپانگ کے تحریری بیان حلفی کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا ،بعد ازاں فاضل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل کی ا ستدعا پر شکایت کی مزید سماعت آج بروز منگل تک ملتوی کر دی، آج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان گواہان پر جر ح کر یں گے۔


