جمائما خان کو نئے وزیراعظم کے حلف لینے پرمہمان خصوصی کے طور پہ بلایا جائے؛ وزارت خارجہ سے درخواست
پاکستان تحریک انصاف کےچیئرمین اور متوقع وزیر اعظم عمران خان 22 سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد آج یہاں تک پہنچے ہیں، انتخابات کے نتائج منظرعام پر آتے ہی عمران خان کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے مبارک باد کے پیغامات موصول ہونے شروع ہوگئے۔
عمران خان کی سابقہ اہلیہ ’جمائما گولڈ سمتھ‘ جنہوں نے عمران خان کے سیاسی سفر میں ان کی بھرپور حمایت کی، سال 2018 کے انتخابات میں عمران خان کی کامیابی پرانہوں نےنہایت دلکش انداز میں عمرا ن خان کو مبارک باد پیش کی اورساتھ ہی ان کی حوصلہ افزائی کرتی نظر آئیں۔
اسی حوالے سے پاکستانی اداکار ’گوہر رشید‘ نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے منتخب کردہ وزیراعظم عمران خان کے حلف لینے کے تقریب میں ان کی سابقہ اہلیہ جمائما کو پاکستان آنے کی دعوت دی جائے۔
فلم ’رنگریزہ‘ کے اداکاہ گوہر رشید نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر ٹوئٹ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’وزارت خارجہ سے میری عاجزی درخواست ہے کہ محترمہ جمائما خان کو پاکستان کے نئے وزیراعظم کے حلف لینے کے موقع پرمہمان خصوصی کے طور پر بلایا جائے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح جمائما کا خاص شکریہ ادا کرنے کا موقع مل جائے گا اور یہ پاکستان کی ایک مخلص دوست کے لیے خراج تحسین ہوگا۔
گوہر رشید کے ٹوئٹ کے جواب میں پاکستان تحریک انصاف لندن کی نائب صدر’سورایا عزیز‘ کا کہنا ہے کہ ’یقینا جمائما کو پاکستان آنے کے لیے کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ وزیر اعظم کے صاحبزادوں کی ماں ہیں۔‘
مہوش سولنکی کا ٹوئٹ کے جواب میں کہنا ہے کہ ’ان کے خیال میں عمران خان کو خود جمائما کو یہاں آنے کی دعوت دینی چائیے وہ اس کی حق دار ہیں کیونکہ انہوں نے عمران خان کے جدوجہد کے سفر میں سب سے زیادہ ان کا ساتھ دیا ۔‘
پی ٹی آئی کے رہنما عامر خان نے گوہر رشید کے ٹوئٹ پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ آنا ہے۔
عمران خان کی کامیابی کی حبر آتے ہی جمائما کی جانب سے ٹوئٹ کیا گیا جس میں انہوں نے اپنے سابق شوہر کو مبارک باد دی اور کہا کہ ’22 سال کی تمام تر مشکلات، جدوجہد اور قربانیوں کے بعد میرے بیٹے کے والد پاکستان کے اگلے وزیراعظم ہیں۔‘
جمائما نےمزید لکھا کہ ’عمران خان کی کامیابی ان کا خود پر یقین اور شکست کے آگے سر نہ جھکانےکی بہترین مثال ہے۔‘انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو یاد دلایا کہ ’عمران خان کے لیے یہ چیلنج ہے کہ وہ یاد رکھیں وہ کیوں سیاست میں آئے ہیں‘۔


.