ابن خلدون، الف لیلہ کی شہرزاد اور پیتل کا شہر


ابن خلدون کی اہمیت اس مختصر انگریزی کتاب سے بھی اجاگر ہوتی ہے جسے فہمیدہ ریاض نے قلم بند کیا ہے اور آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے کراچی سے شائع کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ کتاب نوعمر پڑھنے والوں کو درس گاہوں میں بہم پہنچائی جائے جہاں تاریخ کے نام پر صنعتی فضلے کی قسم کا مال ان کے دماغوں میں انڈیلا جاتا ہے۔ لیکن ایسی مفید کوشش بارآور ہونے کے بجائے بُھلا دی جاتی ہیں۔ مجھے یاد آیا نادم سیتا پوری نے بھی اس قسم کی کتاب تیار کی تھی جو فیروز سنز سے شائع ہوئی۔ برسوں بعد پرانی کتابوں کے بازار میں اس سے ملاقات ہوئی تو ایسی کتابوں کے سلسلے یاد آئے۔

یوں تو اس کتاب میں کئی تفصیل طلب مقامات ہیں مگر میں خاص طور پر الف لیلہٰ کے اس حوالے کا ذکر کرنا چاہوں گا جس سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ بڑی عجیب سی بات ہے کہ ایک عالمانہ کتاب جس کو پرنسٹن یونیورسٹی پریس جیسے سنجیدہ ادارے نے شائع کیا ہے، شروع ہوتی ہے تو الف لیلہٰ کے حوالے سے جسے آج بھی خرافات سمجھنے والوں کی کمی نہیں۔ مگر یہ رابرٹ ارون کی کتاب ہے، ابن خلدون کے بارے میں، جو نہ ہو سو تھوڑا ہے۔

پیتل کا شہر

الف لیلہٰ میں ایک قصّہ ہے جو کئی راتوں پر پھیلا ہوا ہے اور پیتل کے شہر کے نام سے معروف ہے۔ ابن خلدون والی کتاب کے درمیان میں الف لیلہٰ کھول لیتا ہوں۔ ابوالحسن منصور احمد کی ترجمہ کردہ الف لیلہٰ ولیلہ کی جلد چہارم میں، جسے انجمن ترقّی اردو نے مولوی عبدالحق کے زیراہتمام شائع کیا تھا، پانچ سو چھیاسٹھویں رات میں ان لُٹیوں کی کہانی ہے جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام دیووں کو بند کیا کرتے تھے۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دربار میں گزشتہ اقوام کی بحث چھڑ گئی اور وہ ان لُٹیوں کو دیکھنے کے لیے بے چین ہوا تو طالب بن سہل نے کہا کہ اپنے بھائی کو لکھ دے کہ موسیٰ بن نصیر کے ذریعے مراکش سے منگوا دے۔ خلیفہ کی فرمائش شہرزاد کی زبان سے اور بھی نامانوس معلوم ہوتی ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر اس حکم کی بجا آوری کے دوران موسیٰ بن نصیر کی کوششیں جو مختلف پرانے آثار میں گھومتا پھرتا ہے اور ان پر کندہ عبارتوں میں دنیا کی بے ثباتی کا حال پڑھ کر زار زار روتا جاتا ہے، اسی دوران پیتل کے شہر جا پہنچتا ہے جو عجائبات کا نمونہ ہے۔

احتیاط کی خاطر امیر موسیٰ اپنے آدھے لشکر کو لے کر شہر میں داخل ہوتا ہے تو اسے زندگی کے بجائے موت نظر آتی ہے:

’’دیکھا کہ ان کےساتھی مرے پڑے ہیں، انھیں دفن کیا۔ اب ان کی نظر دربانوں، نوکروں، حاجبوں اور نوّابوں پر پڑی جو ریشم کے فرش پر مُردہ پڑے تھے۔ اس کے بعد وہ شہر کے بازار میں گئے، دیکھا کہ بڑا شان دار بازار ہے عمارتیں اونچی اونچی ہیں مگر ایک سے ہو کر دوسرے میں راستہ نہیں، دکانیں کھلی پڑی ہیں، ترازوئیں لٹکی ہوئی اور پیتل کے برتن ایک قطار میں رکھے ہوئے ہیں، سرائیں مال و اسباب سے پٹی پڑی ہیں، دکانوں میں سوداگروں کے مُردے ہی مُردے دیکھے جن کی کھالیں سوکھ گئی ہیں، ہڈیاں سڑ گئی ہیں اور انھیں دیکھنے سے عبرت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح انھوں نے چار بازار دیکھے جو الگ الگ تھے اور جن کی ہر دکان مال و اسباب سے بھری ہوئی تھی۔ ان سے گزر کر وہ ریشم کے بازار میں گئے۔ ریشم کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ زربفت دیکھا جو رنگ برنگ کا سُرخ سونے اور سفید چاندی سے بنا ہوا تھا مگر دکان دار چمڑے کے فرش پر مرے ہوئے پائے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ابھی بول اٹھیں گے۔ وہاں سے ہوتے ہوئے وہ جواہرات، موتیوں اور یا قوتوں کے بازار میں پہنچے پھر صرّافوں کے بازار میں۔ دیکھا کہ انھیں بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔ ان کے نیچے طرح طرح کے پختہ اور کچّے ریشم کے فرش بچھے ہوئے ہیں اور ان کی دکانوں میں سونا ، چاندی بھرا پڑا ہے۔ آگے بڑھے تو عطاروں کے بازار میں آئے طرح طرح کے عطر، مشک، عنبر، عود، اگر اور کافور وغیرہ کی بوریاں دکھائی دیں مگر ان کے مالکوں کا وہی حال تھا۔‘‘

’’عطاروں کے بازار سے نکل کر انھیں قریب میں ایک مضبوط اور شان دار محل دکھائی دیا۔ اندر گئے دیکھا کہ جھنڈے لہلہا رہے ہیں، تلواریں میانوں سے نکلی پڑی ہیں، کمانوں پر چلّے چڑھے ہوئے ہیں، ڈھالیں سونے اور چاندی کی زنجیروں میں لٹکی ہوئی ہیں، خودوں پر سُرخ سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے اور محل کی دہلیز میں ہاتھی دانت کے چبوترے ہیں جن پر سونے کے پتّر چڑھے ہوئے ہیں، ریشم کا فرش بچھا ہوا ہے اور ان پر لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن کی کھالیں ہڈیوں پر سوکھ کر رہ گئی ہیں، ناسمجھوں کے خیال میں وہ سو رہے ہیں مگر دراصل وہ مارے بھوک کے مر گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر امیر موسیٰ ٹھہر گیا اور خدا کی پاکی بیان کرنے لگا۔‘‘

صبح کے آثار ہونے پر شہر زاد رکتی ہے اور ایک رات مزید اجازت ملنے کے بعد حسن و جمال کی پیکر لڑکی کا احوال سناتی ہے جو سلام کا جواب نہیں دیتی، اس لیے کہ وہ مر چکی ہے مگر اس کے تخت پر عبارت کندہ ہے جس کی عبارت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں:

’’سب تعریفیں اس کے لیے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا جو پروردگاروں کا پروردگار اور اسباب کا پیدا کرنے والا ہے۔ شروع کرتی ہوں میں اللہ کے نام سے جو ہمیشہ رہنے والا اور دائم و قائم ہے۔ شروع کرتی ہوں اللہ کے نام سے جس نے قضا و قدر کو مسلط کیا۔ اے آدم کی اولاد، تو امیدوں کی وجہ سے کتنا جاہل ہو رہا ہے اور موت کو بُھلا رکھا ہے! تجھے معلوم نہیں کہ موت تجھے بلا رہی ہے اور تیری جان نکالنے کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ سفر کی تیاری کر اور دنیا سے توشہ لے لے کیوں کہ تو اسے جلد چھوڑنے والا ہے۔ کہاں ہے آدم جو انسانوں کا باپ تھا! کہاں ہے نوح اور اس کی نسل! کِسریٰ اور قیصر کدھر چلتے بنے! ہند اور عراق کے بادشاہ کیا ہوئے! دنیا کے بادشاہ اور عمالقہ اور شاہنشاہ کہاں گئے! دنیا ان سے خالی ہوگئی اور اپنے گھر والوں اور وطن کو چھوڑ کر چل بسے۔ کہاںہیں عرب اور عجم کے حکم راں! سب مر کر خاک ہوگئے۔ بڑے بڑے سردار کیا ہوئے! سب کے سب مڑ مٹے! کہاں ہیں قارون اور ہامان! کہاں ہے شدّادبن عاد! کیا ہو گیا کنعان اور ذوالاوتاد! عُمروں کو ختم کرنےوالی موت نے ان کی عمریں ختم کر دیں اور ملکوں کو ان سے خالی کر دیا۔ کیا انھوں نے آخرت کا توشہ مہیا کیا اور بندوں کے پروردگار کے سامنے جواب دہی کے لیے تیار رہیں؟ اے شخص، اگر تو، مجھے پہچانتا نہیں تو میں خود تجھے اپنا نام و نسب بتاتی ہوں۔ میں ان عمالقہ بادشاہوں کی بیٹی تذمرہ ہوں جنھوں نے ملکوں پر انصاف کے ساتھ حکم رانی کی ہے۔ میری حکومت کے برابر کسی بادشاہ کی حکومت نہ تھی۔‘‘

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3