ابن خلدون، الف لیلہ کی شہرزاد اور پیتل کا شہر

ماجرا دل چسپ مگر عبارت داستان کے بجائے تاریخ کی کتاب کے قریں معلوم ہوتی ہے۔ اس موقعے پر انتظار صاحب یاد آئے اور میں نے سوچا لائو، اس احوال کو رتن ناتھ سرشار کی ہزار داستان میں دیکھیں جسے بڑے عمدہ مقدمے کے ساتھ انتظار حسین نے مرتّب کیا تھا۔ سرشار کی ہزار داستان میں اس باب کا عنوان شہر برنج ہے اور خلیفہ کا دربار اس طور ترتیب پاتا ہے:
’’زمان پاستان میں شہرد مشق میں ایک بادشاہ ستارہ سپاہ خلیفہ جم جاہ عبدالملک ابن مردان نام رہتا تھا۔ ایک روز اس کے دربار و دربار میں بادشاہ اور سلاطین اور امراء بیٹھے تھے اور زمان سلف کی قوموں کا ذکر ہورہا تھا۔ کبھی حضرت سلیمان ابن حضرت دائود کا ذکر مذکور تھا کہ دوسرا خسرو و عالی جاہ ان کا نقطہ مقابل نزدیک نہ دور تھا۔ اجنہ اور انسان اور طیور تک کے بادشاہ بڑے کروفر کے خسرو عالم پناہ تھے۔ کتب ماضیہ میں درج ہے کہ خدا نے یہ عظمت پرسطوت و شان اور ان ہفت اقلیم کے کسی بادشاہ کو نہیں عطا کی تھی۔ حق یوں ہے کہ تمام عالم کے شاہان نامدار پر ترجیح دی تھی۔ جب تو جن اور خبیث اور عفریت تابع حکم حضور تھے۔ ساری خدائی میں مشہور تھے۔ بوتلوں میں جنوں کو بند کرکے سیسہ ان پر چھوڑا۔ جس نے بجا آوری ارشاد سے منھ موڑا۔ اس نے منھ کی کھائی۔ اچھے اچھوں نے کبھی گردن نہ اٹھائی۔‘‘
امیر موسیٰ کو دیواروں پر کندہ نصیحت نظر آتی ہے:
’’امیر موسیٰ اور شیخ عبدالصمد مع ہمراہیوں کے وہاں گئے۔ دیکھا تو آنکھیں کھل گئیں۔ دیواروں پر طلائی کام تھا۔ نمونہ ارم اس کا ہر مقام تھا۔ شیخ عبدالصمد نے کہا، وہ نصیحت سامنے والی دیوار پر کندہ ہے۔ پڑھ کر ترجمہ کیا تو یہ تھا۔ (اس مقام پر وہ تاجدار اور نامور شہریار رہتے تھے جو اب خاک ہیں، آلودہ ہیں۔ جو کچھ انھوں نے پیدا کیا وہ سب بھی خاک میں مل گیا۔)
امیر موسیٰ یہ نصیحت پڑھ کر زار زار رویا اور غش کھا کے گر پڑا۔ جب غشی دور ہوئی تو خدائے پاک کو یاد کیا اور اس قصر فلک شکوہ کی تصویروں، کمروں اور شہ نشینوں کو دیکھ کر عش عش کرنے لگا۔ جب دوسرے دروازے کے قریب داخل ہوا تو یہ اشعار نظر سے گزرے۔
کیا بھروسہ ہے دار فانی کا
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
قبر میں ایک روز جانا ہے
زندگی کھیل ہے بہانہ ہے
ایک دن موت سب کو آنی ہے
زندگی خواب ہے کہانی ہے
اِدھر اُدھر سیر کی تو مکان کو بالکل خالی اور سنسان پایا۔ چھوٹا بڑا کوئی نظر نہ آیا۔ وسط عمارت میں ایک گنبد بلند تھا۔ اردگرد چار سو قبریں بنی ہوئی تھیں۔ ان قبروں میں ایک سنگ مرمر کی نظر آئی۔ اس پر نصیحت کندہ پائی۔
(میں جنگ آزمودہ ہوں مگر اب تہ خاک آسودہ ہوں۔ ہنگامہ رستخیز اور میدان ستیز میں گولی اور گولے اور آگ سے مقابلہ کیا مگر آتش اجل کی آنچ نے مار ڈالا۔ سارا کس بل نکالا۔ جو کان مہ و شان ناہید نغمہ کی خوش الحانی اور نازک آوازی کے خوگر تھے، ان کو کیڑوں نے کھایا۔ افسوس کہ جیتے جی مرنے کا کبھی خیال ہی دل میں نہ آیا۔)
شہر برنج کا احوال یوں سامنے آتا ہے:
’’امیر اندر داخل ہوا اور اس کے ہمراہ آدھے آدمی بھی گئے۔ جن کے پاس اسلحہ جنگ و حرب و ضرب موجود تھے۔ اس قافلے نے اپنے بارہ ساتھیوں کی لاشیں بھی پائیں اور اسی شہر میں دفنائیں۔ دیکھا کہ امراء اور رئوسا اور عمائد شہر ریشمی بستروں پر مردہ پڑے ہوئے ہیں۔ بازار میں جاکر دیکھا تو بہت بڑا اونچا ہے اور اونچی اونچی عمارتوں کو دو رویہ قطار ہے مگر بلندی سب کی یکساں ہے۔ دکانیں کھلی ہوئی۔ برنجی برتن قرینے سے چُنے ہوئے اور ترازو لٹکی ہوئی۔ کوٹھیوں اور سرائوں میں انواع و اقسام کا اسباب موجود ہے مگر اادم زاد مفقود ہے۔ سودا گر دکانوں میں مردہ لاشیں خشک ہوگئی ہیں۔ استخوان بوسیدہ عبرت کا مام تھا۔ کل اشیاء مہیا مگر آدمی کا نشان نہ نام تھا۔
اس کے علاوہ ایک خاص قسم کی دکانوں کے چار بازار نظر آئے جن میں دولت بھری ہوئی تھی۔ یہاں سے ریشم کے بازار کو گئے۔ دیکھا تو ریشمی تھان جن پر سنہرا بھاری کام کیا ہوا تھا۔ کثرت سے پٹے پڑے تھے۔ مردے ان تھانوں پر گرے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ بولا ہی چاہتے ہیں، زبان کھولنا ہی چاہتے ہیں۔
یہاں سے جوہری بازار اور چاندی بازار گئے اور پھر صرافے کی راہ لی۔ وہاں سے عطر کے کارخانوں میں آئے۔ یہاں عطر اور عنبر اور مشک اذفر کی خوشبو جو آئی تو دماغ طبلہ عطار بن گیا۔
یہاں سے چلے تو ایک قصر نور بازار نظر افروز ہوا۔ دیکھا تو نشانوں کے پھریرے اڑ رہے ہیں۔ ڈھالیں سونے چاندی کی زنجیروں سے لٹکے ہوئے ہیں اور زرہ اور حود اور تیروکمان بھی لٹکے ہیں۔ اس محل معلٰیاور قصر نور بار میں جابجا ہاتھی دانت کی تپائیاں پڑی تھیں۔ لوگ ان پر مرے ہوئے میٹھی نیند سو رہے۔
کچھ ایسا سوئے ہیں سونے والے کہ جاگنا حشر تک قسم ہے۔‘‘
اسی شہر میں وہ حسین و جمیل پری پیکر نظر آتی ہے جو اس درجہ متاثر کرتی ہے کہ امیر موسیٰ ’’اس کے جمال اور حسن گلاسوز اور نور عالم افروز پر عش عش کرنے لگا کہ واہ واہ۔‘‘
’’امیر سمجھا کہ یہ زندہ ہے مگر طالب نے کہا، حضور خدا جانے یہ پری پیکر کب سے مُردہ ہے۔ یہ ہاتھ سے جو سلام کہا یہ فقط اجزاء کی ترکیب ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی آنکھیں نکال لی گئیں اور پارہ ڈال دیا گیا۔ جب ہوا اس میں پہنچتی ہے تو وہ جنبش کرنے لگتی ہے اور زندوں کی طرح پتلیاں گھومتی ہیں مگر دیکھنے والوں کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گویا آنکھیں کھلی ہوتی ہیں۔۔۔‘‘
نصیحت آمیز اشعار کی دل سوزی اپنی جگہ اور موسیٰ بن نصیر کو مائل بہ رقّت کرنے کے لیے عین مناسب مگر اس حسین و جمیل پیکر کی مُردہ بہ انداز زندہ آنکھوں میں بھرے، ہوا کے ساتھ حرکت کرتے پارے سے سمجھ میں آتا ہے کہ الف لیلہٰ کی یہ داستان تاریخ کے اس عبرت ناک سبق کو دہرا رہی ہے جو ابن خلدون کے لیے معنی خیز تھا اور مقدمے کی غایت تصنیف سے قریب تر۔ بربار دہروں اور تباہ حال ویرانوں میں اس نشانیاں نظر آتی تھیں۔ رابرٹ ارون لکھتا ہے__
The story of "The City of Brass” can be seen as a fantastical prefiguration of the theme that so preoccupied Ibn Khaldun__
اور وہ موضوع، اس کے مطابق یہی ہے، شمالی افریقہ کے کھنڈرات اور ان سے حاصل ہونے والے سبق، یعنی عبرت سرائے دہر۔ پھر اس کی تہہ میں یہ سوال کہ اس شان و شوکت کے بعد یہ عبرت ناک بربادی لازمی تھی، کیا اس کو تدبیر سے روکا نہیں جا سکتا تھا؟
سوال بہت واضح ہے مگر ظاہر ہے کہ ’’مقدمہ‘‘ میں یہی ایک مسئلہ نہیں، اس میں پیچ در پیچ سوال ہیں۔ فی الوقت میں اس ایک سوال پر رُک گیا ہوں، اپنے وقت کی مجبوری سے۔ اسے محض اتفاق سمجھیے یا تاریخ کی ستم ظریفی کہ رابرٹ ارون کی فکر انگیز کتاب ایسے دنوں میں پڑھ رہا ہوں جب ہرطرف شور بپا ہے، کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ الیکشن کی گہما گہمی، تجزیے، رپورٹ،ٹی وی کے ٹاک شوز کی بھرمار، نئی حکومت بنانے کی تیاریاں، خوش فہمی اور اندیشے، کیا موقع ہاتھ سے گنوا دیا یا ایک موقع اور مل گیا؟ یہ افراتفری تو اب ہمارا معمول بن گئی ہے۔ بحران کے دن تو میرے ملک میں چلتے رہتے ہیں۔ کان پڑی آوازیں جہاں سنائی نہ دے سکیں ایک بزعمِ خود رہ نما حلق پھاڑ کر چیخ رہا ہے کہ بربادی کے اصل ذمہ دار سابق حکمران ہیں، کوئی اور نہیں۔ ایک اور لیڈر اس سے بڑھ کر چیخ رہا ہے__ آخر کیا وجہ ہے ہمارا پیارا پاکستان آگے جانے کے بجائے تیزی سے پیچھے کی طرف جارہا ہے۔ اس کی وجہ بھی__ وہ نہ جانے کیا کہہ رہا ہے۔ مجھے اس کی تقریر کے بجائے سحر انصاری کا شعر یاد آگیا جو بھلائے نہیں بھولتا:
تمہیدِ کمال ہوتے ہوتے
تکمیلِ زوال ہوگئے ہم
اچھا، جو ہوا سو ہوا۔ لگتا ہے ان خود ساختہ رہ نمائوں نے صبح اٹھ کر آئینے میں اپنا چہرہ نہیں دیکھا۔ ابن خلدون کا مقدمہ پڑھ لینے کی ان سے کیا توقع کی جائے۔ انھوں نے الف لیلہٰ بھی نہیں پڑھی۔ شاید اپنے بچپن میں بھی نہیں۔
ورنہ نوشتۂ دیوار پڑھ سکتے تھے۔
اور جو دیوار ان کے چاروں طرف ہے اس کا نام دیوارِ قہقہہ ہے۔





