ابن خلدون، الف لیلہ کی شہرزاد اور پیتل کا شہر
جب چار سو باسٹھویں رات آئی تو میں نے دل ہی دل میں پوچھا، آج رات کون سی کہانی بیان کروں؟
کہانیاں تو بہت سی تھیں مگر جو کتاب ہاتھ آئی وہ ابن خلدون کی یہ ’’ذہنی سوانح عمری‘‘ تھی جو حال میں چھپی ہے اور اس کے لکھنے والے رابرٹ ارون ازمنۂ وسطیٰ کے عربی مطالعات میں بڑا معروف نام ہیں۔ خاص طور پر الف لیلہٰ اور پرانی داستانوں پر ان کا کام بڑا دل چسپ ہے۔ اس کی عالمانہ وقعت کیا ہے، یہ تو میں نہیں کہہ سکتا مگر پرانی باتوں میں جان ڈالنے کا فن انھیں خوب آتا ہے۔ چند ایک کتابیں انھوں نے آج کل کی روشِ عام کے مطابق صوفیاءکے واقعات پر بھی لکھی ہیں مگر میں نے ان کا صرف اشتہار دیکھا ہے، کتاب دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔
ابن خلدون پر یہ کتاب جو ملی تو میں نے بڑے شوق سے پڑھنا شروع کیا اور جتنی کہانیاں میری منتظر تھیں، ان سے سوا ہی پایا۔ اتنی ہی دل چسپ، قدم قدم پر حیرت اور تعجّب کا سامان کہ اچھا، یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں۔ مَیں پڑھتا گیا اور نشان لگاتا گیا، کہیں خیال افروز اور کہیں حیرت انگیز۔ بعض فقرے ایسے کہ پچھلے مفروضوں اور ذہن میں مدّت سے بسے ہوئے خیالات کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کردیں اور بعض ایسے کہ بظاہر غیرمربوط اور منتشر باتیں ذہن میں منّور نقطوں کی طرح چمک اٹھیں۔ دو، ڈھائی سو صفحوں کی کتاب کے پڑھنے میں کئی دن لگ گئے۔ پھر یوں محسوس ہونے لگا کہ آج کل کے الجھے ہوئے بہت سے معاملات جن کے بارے میں بساط بھر سوچنے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، ان کا سیاق و سباق نظروں میں آ گیا۔ اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے اس کے مفاہیم، دبے ہوئے نقش میں سے ابھر کر صاف نظر آنے لگے بلکہ اپنے چاروں طرف روشنی بھی ڈالنے لگے۔ غرض اس کتاب نے کئی ناولوں والا کام پورا کیا۔

مگر قصّے کہانی سے گُریز کہاں؟ یہ کتاب تو شروع ہوتی ہے الف لیلہٰ کے حوالے سے۔ تاریخ کا عجب ماجرا ہے کہ مجھے الف لیلہٰ کے سراغ میں مشغول کر ڈالا۔ اس میں الف لیلہٰ کا حوالہ بھی آتا ہے، پرانی داستانوں کا بھی، توماس مان (Thomas Mann) کے شان دار ناول بڈن بروکس کا بھی اور نجیب محفوظ کے وسیع و عریض حرافش کا بھی۔ اور تو اور، بروس چیٹ ون(Bruce chatwin) کے عجیب و غریب اور اصناف کو توڑنے والے کام song lines کی پیش روی بھی ہے۔ یعنی تمام شواہد معتبر ذرائع سے آئے ہیں اور حوالے مستند ہیں۔
لیکن الف لیلہٰ سے پہلے ابن خلدون۔ کتاب کے مقدمے میں__ یہ لازم ہے کہ ابن خلدون پر لکھی جانے والی ہر کتاب کا باضابطہ مقدمہ ہو__ رابرٹ ارون نے بیسویں صدی کے اہم مورخ آرنلڈ ٹوئن بی کا حوالہ دیا ہے جس میں وہ ابن خلدون کے مقدمے کو خراج تحسین پیش کرتا ہے کہ بلاشبہ اپنی وضع کا اہم ترین کارنامہ جو کسی بھی دور میں یا کسی بھی مقام پر تخلیق کیا گیا۔ مختلف تجزیوں میں ابن خلدون کو میکاولی، ہوبز (Hobbes)، جان لاک (John Locke)، ایڈمنڈ برک (Edmund Burke)، مونتیسکو (Montesquieu)، وچو (Giambattista Vico) ، کارل مارکس (Karl Marx)، ویبر (Weber) اور درخائم (Durkhiem) کے پیش رو کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ بہت سوں کے نزدیک وہ تاریخ میں ایک واضح نقطۂ نظر اور اسباب و علل کی تلاش کا سب سے اہم نام ہے۔
بعض لوگوں کے لیے وہ حکمت و فکرکا داعی ہے۔ علم عمرانیات در حقیقت اس کی سعی و تلاش کا مرہون منّت ہے۔ شہروں کی منصوبہ سازی اور معاشی معاملات کی منصوبہ سازی میں اس کا نام احترام کے ساتھ لیا جانا چاہیے۔ علم معاشیات میں مارکس اور اینگلز سے پہلے ابن خلدون نے معیشت اور سیاسی استحکام کے گہرے رشتے کی طرف اشارہ کیا تھا۔ بعض لوگوں نے بڑے فخر کے ساتھ امریکا کے (اس وقت کے) صدر رونلڈ ریگن کی اکتوبر 1981ء کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا ہے جس میں ’’سپلائی سائڈ اکنامکس‘‘ کے اپنے نظریے کی تائید کے طور پر ابن خلدون کا نام لیا۔ (صدر ریگن کے توسط سے ابن خلدون کی تکریم فہمیدہ ریاض نے اپنی مختصر کتاب میں بھی کی ہے جو کم عمر پڑھنے والوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے) مگر ارون نے اس بات کو سرے سے مسترد کر دیا کہ ریگن کی تقریریں لکھنے والے اصحاب سے سمجھنے میں غلطی ہوئی اور ابن خلدون جدید معانی میں ماہر معاشیات نہیں ہے۔
خیر، ٹوئن بی اور مارکس اپنی جگہ، ابن خلدون اپنی جگہ اور ابن خلدون کی یہ جگہ مرکزی ہے۔ کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ابن خلدون کی زندگی کا اس کے پورے سیاق و سباق میں اس طرح جائزہ مرتّب کیا ہے کہ وہ اپنی جگہ اہم معلوم ہوتا ہے اور پھر چودھویں صدی عیسوی کے مصر و اندلس میں موجود اور اسلامی فکروفلسفے میں رونما تبدیلیوں کے مرکزی دھارے سے تشکیل پانے والی شخصیت کے طور پر دیکھا گیا ہے جس کے ذریعے سے ان کا تنقیدی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ رابرٹ ارون ابن خلدون کی سوانح و افکار سے براہِ راست واقف ہے اور اس کی وجہ سے غیرمعمولی بصیرت کا حامل ہو جاتا ہے لیکن وہ نہ تو کسی طرح کی جذباتی عقیدت کا شکار ہوتا ہے اور نہ ابن خلدون کی پیش روی کو مشرقی افکار کی برتری کے ثبوت کے طور پر سامنے لانے پر اصرار کرتا ہے، جو ہمارے ہاں فی زمانہ بعض اسلامی مفکرین و حکماء کے لیے ایک عام طریقہ بن گیا ہے جو عقیدت پر مبنی ضرور ہے لیکن فکر و معنی تک رسائی نہیں دیتا۔
ارون کے تجزیے سے بعض مقامات پر تھوڑے بہت اختلاف کے باوجود میں اس کے اندر تحریر کو بہت منفرد سمجھتا ہوں کہ اس کے ذریعے سے اس بنیادی اور کلیدی مفکرّ کے کام کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ اس مفکر کے وسیلے سے تاریخ کے تغیّر، معاشرے کی تعمیر و تخریب اور زندگی کے بیانیے میں سامنے آنے والے پیچ و خم کو جاننے اور برداشت کرنے میں مدد ملے گی۔ بہت کم کتابیں یہ فریضہ سرانجام دے سکتی ہیں۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے





